در قفس وامانده و آزاد هم
در قفس وامانده و آزاد هم
با نواها می زند فریاد هم
ترجمہ
وہ چاہے قفس میں رکی ہوئی ہو یا آزاد بھی ہو، تب بھی نغموں کے ساتھ اپنی فریاد بلند کرتی ہے۔
تشریح
اس شعر میں اقبال زندگی کی ایک اور عجیب شان دکھاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حیات چاہے قفس میں رکی ہوئی ہو یا آزاد فضا میں ہو، وہ نغموں کے ساتھ فریاد بھی کرتی رہتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی کی اصل آواز صرف آزادی میں نہیں اٹھتی، پابندی میں بھی بولتی ہے۔ حیات اتنی زندہ حقیقت ہے کہ اگر اسے قفس بھی مل جائے تو وہ خاموش نہیں ہو جاتی۔ اس کی فریاد نغمے میں ڈھل جاتی ہے، اور اس کا درد بھی اظہار کی نئی صورت پیدا کرتا ہے۔ اقبال کے نزدیک زندہ وجود کو مکمل طور پر دبایا نہیں جا سکتا، کیونکہ اس کی باطنی قوت اپنی راہ نکال لیتی ہے۔
یہ شعر پچھلے شعر کی تکمیل ہے۔ اگر زندگی طائرِ رنگ ہے اور اس کی حقیقت پرواز ہے، تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب پرواز رُک جائے، قفس آ جائے، جبر آ جائے، یا بیرونی آزادی محدود ہو جائے تو کیا حیات ختم ہو جاتی ہے؟ اقبال جواب دیتے ہیں: نہیں۔ وہ تب بھی نوا اور فریاد پیدا کرتی ہے۔ یعنی زندگی کا اصل منبع بیرونی صورتوں سے بڑا ہے۔ اس کے اندر ایک ایسا سوز ہے جو پابندی کے اندر بھی اظہار پا لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی بڑی تہذیبی، روحانی اور ادبی تخلیقات عیش و فراغ سے نہیں بلکہ دباؤ، محرومی اور قید کے حالات میں پیدا ہوئی ہیں۔
قفس کی علامت:
قفس صرف پنجرہ نہیں بلکہ ہر اس محدودیت کی علامت ہے جو زندگی کی فطری وسعت کو روکنے کی کوشش کرے۔ یہ سیاسی جبر بھی ہو سکتا ہے، سماجی دباؤ بھی، داخلی کمزوری بھی، معاشی تنگی بھی، یا روحانی غفلت بھی۔ اقبال قفس کو دیکھتے ہیں مگر اس کے باوجود حیات کی آواز کو زندہ رکھتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیرونی رکاوٹیں زندگی کو آزماتی تو ہیں، مگر لازماً ختم نہیں کرتیں۔
یہاں یہ سبق بھی ہے کہ قفس کو قفس سمجھنا چاہیے، اس سے محبت نہیں کرنی چاہیے۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ اس کے اندر بھی باطن کی آگ بجھنی ضروری نہیں۔ اگر زندگی واقعی زندہ ہو تو وہ پابندی کے اندر بھی اپنے لیے کوئی صورتِ اظہار پیدا کر لیتی ہے۔
آزادی میں بھی فریاد کیوں:
شعر کا حسن یہ ہے کہ وہ صرف قفس کی حالت کا ذکر نہیں کرتا بلکہ آزادی کا بھی ذکر کرتا ہے۔ یعنی حیات صرف قید میں ہی نہیں روتی، آزادی میں بھی اس کے اندر فریاد باقی رہتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی کا جوہر مکمل آسودگی سے عبارت نہیں۔ اس میں ایک دائمی طلب، ایک مسلسل جستجو، اور ایک ایسا شوق ہے جو حاصل کے بعد بھی آگے بلاتا رہتا ہے۔ آزاد پرندہ بھی گاتا ہے، کیونکہ زندگی کی طلب کبھی پوری طرح ختم نہیں ہوتی۔
یہ نکتہ بہت بلند ہے۔ اقبال کے ہاں فریاد کمزوری نہیں بلکہ حیات کی بیداری ہے۔ جو وجود بالکل خاموش ہو جائے، اس کی زندگی مشکوک ہو جاتی ہے۔ زندہ چیز کے اندر کوئی نہ کوئی طلب، کوئی نہ کوئی درد، اور کوئی نہ کوئی صدا باقی رہتی ہے۔ یہی صدا اسے آگے بڑھاتی ہے۔
نوا اور فریاد کا رشتہ:
فریاد عام طور پر درد کی علامت ہے اور نوا حسن کی۔ اقبال ان دونوں کو جمع کر دیتے ہیں۔ یعنی زندگی اپنے درد کو بھی نغمے میں ڈھال سکتی ہے۔ یہ اس کی عظمت ہے۔ محض رونا اس کا کمال نہیں، بلکہ رنج کو ایسی آواز میں بدل دینا کمال ہے جو دوسروں کے دل بھی جگا دے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی شاعری، بڑی روحانیت، اور بڑی تہذیبی مزاحمت اکثر نوا اور فریاد کے ملاپ سے پیدا ہوتی ہے۔
فرد کی سطح پر بھی یہی قانون ہے۔ انسان اگر اپنے دکھ کو محض شکایت میں ضائع کر دے تو وہ ٹوٹ سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ اسے دعا، فکر، فن، خدمت یا اخلاقی پختگی میں بدل دے تو اس کی فریاد نوا بن جاتی ہے۔ اقبال اسی تخلیقی صبر اور زندہ باطنی آواز کی تعلیم دے رہے ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج بہت سے لوگ یا تو اپنی قید کو تقدیر سمجھ کر خاموش ہو جاتے ہیں یا آزادی پا کر بھی بے حس ہو جاتے ہیں۔ اقبال اس شعر میں دونوں حالتوں کی اصلاح کرتے ہیں۔ اگر قفس ہے تو بھی زندگی کی آواز کو زندہ رکھو۔ اور اگر آزادی ہے تو بھی غفلت میں نہ سو جاؤ؛ اپنے اندر کی بلند طلب کو باقی رکھو۔ زندہ انسان ہر حال میں بولتا ہے، چاہے اس کی آواز شکر کی ہو، دعا کی ہو، جدوجہد کی ہو، یا اصلاح کی۔
یہ شعر امت کے لیے بھی بہت امید افزا ہے۔ بیرونی کمزوریاں، سیاسی مشکلات یا تہذیبی دباؤ اگر موجود ہوں تب بھی ملت کی زندگی پوری طرح ختم نہیں ہوتی، بشرطیکہ اس کی نوا باقی رہے۔ اور نوا تب باقی رہتی ہے جب اس کے اندر ایمان، خود آگاہی، اور بلند مقصد کی فریاد زندہ ہو۔ اقبال کی نگاہ میں یہی باطنی آواز مستقبل کی پرواز کا پہلا مقدمہ ہے۔
مثال
جیسے بانسری اپنے اندر خالی پن اور کٹاؤ کے باوجود نغمہ پیدا کرتی ہے، ویسے ہی زندہ روح پابندیوں کے اندر بھی اپنی فریاد کو بامعنی آواز میں بدل سکتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ زندگی قفس میں بھی خاموش نہیں ہوتی اور آزادی میں بھی اس کی طلب ختم نہیں ہوتی۔ اس کی فریاد نغمے میں ڈھلتی رہتی ہے، اور یہی اس کے زندہ ہونے کی علامت ہے۔
