چون نهال از خاک این گلزار خیز
چون نهال از خاک این گلزار خیز
دل بغائب بند و با حاضر ستیز
ترجمہ
اس گلزار کی مٹی سے پودے کی طرح اٹھ، غیب سے دل باندھ اور حاضر کے ساتھ کشمکش کر۔
تشریح
اس شعر میں اقبال مومن کی تربیت کا ایک جامع نقشہ دے دیتے ہیں۔ ایک طرف وہ اسے زمین سے اگنے والے نہال کی مثال دیتے ہیں، اور دوسری طرف اس کے دل کو غیب سے وابستہ کرنے اور حاضر کے ساتھ ستیز کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اقبال کے نزدیک سچا روحانی انسان زمین سے کٹا ہوا درویش نہیں، بلکہ اسی دنیا میں اگنے والا، اسی مٹی سے قوت لینے والا، مگر اپنی وابستگی کے اعتبار سے غیب پر قائم انسان ہے۔ اس کی جڑیں زمین میں ہوتی ہیں مگر اس کا رُخ اوپر کی طرف ہوتا ہے۔
“حاضر” سے مراد صرف موجودہ لمحہ نہیں بلکہ وہ ساری ظاہری دنیا بھی ہے جو اپنے فوری تقاضوں، لذتوں، خوفوں اور فریبوں کے ساتھ انسان کو قید کرنا چاہتی ہے۔ اقبال اس کے مقابل “غائب” کو رکھتے ہیں، یعنی وہ حقیقت جو نظر سے اوجھل مگر اصل میں زیادہ سچی ہے۔ پس مومن کا دل غیب سے بندھا ہو اور اس کی جدوجہد حاضر کے اس جبر کے خلاف ہو جو اسے پست، محدود اور خود فراموش بنانا چاہتا ہے۔
نہال کی تمثیل:
نہال مٹی سے نکلتا ہے مگر مٹی میں گم نہیں ہو جاتا۔ وہ اسی سے غذا لیتا ہے، اسی میں کھڑا ہوتا ہے، مگر اس کی پوری ساخت اوپر اٹھنے کے لیے ہوتی ہے۔ اقبال اسی تمثیل سے بتاتے ہیں کہ انسان کو دنیا سے فرار نہیں کرنا، بلکہ اسی دنیا میں رہتے ہوئے اپنی نشوونما کرنی ہے۔ دنیا اس کی پرورش گاہ ہے، معبود نہیں۔
یہ مثال ہمیں اعتدال بھی سکھاتی ہے۔ نہال اگر زمین سے کٹ جائے تو سوکھ جائے گا، اور اگر اوپر اٹھنے کی کوشش نہ کرے تو محض بیج رہ جائے گا۔ اسی طرح انسان اگر دنیا سے کلّی فرار اختیار کرے تو تاثیر کھو بیٹھتا ہے، اور اگر دنیا ہی میں مدفون ہو جائے تو بلندی کا امکان کھو دیتا ہے۔
دل بغائب بند:
دل کا غیب سے بندھنا اقبال کے ہاں ایمان کی اصل روح ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ محبت، خوف، امید، طلب، اعتماد اور معیار سب کسی بلند تر سچائی کے تابع ہوں۔ اگر دل حاضر سے بندھ جائے تو انسان کا سارا وزن اسی ظاہر پر آ گرتا ہے۔ پھر وہ نمود، فائدہ، ماحول اور وقتی رائے سے چلنے لگتا ہے۔
غیب سے تعلق انسان کو استقامت دیتا ہے۔ کیونکہ غیب بدلتی ہوئی صورتوں کا نام نہیں، اصل حقیقت کا نام ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان کے فیصلے صرف فوری نفع یا نقصان سے نہ بنیں بلکہ اس بڑے معیار سے بنیں جو نظر سے آگے ہے۔
با حاضر ستیز:
اقبال حاضر سے ستیز کا حکم دیتے ہیں، مگر یہ ستیز حقیقتِ موجود کے علم کے خلاف نہیں بلکہ اس کی غلامی کے خلاف ہے۔ جو کچھ سامنے ہے وہی آخری نہیں۔ موجودہ حالات، قائم ڈھانچے، مروجہ افکار، غالب طاقتیں اور وقتی قدریں، یہ سب “حاضر” کی شکلیں ہیں۔ اگر انسان ان کے سامنے ہتھیار ڈال دے تو اس کی پرواز ختم ہو جاتی ہے۔
ستیز کا مطلب یہ ہے کہ انسان موجود کو مطلق نہ مانے، بلکہ اسے حق کے معیار پر پرکھے، ضرورت ہو تو اس سے ٹکرائے، اور اس کے بندھن توڑ کر نئی صورت پیدا کرے۔ اقبال کے نزدیک ملت کی تخلیقی قوت اسی مزاحمت سے نکلتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج ہم یا تو ظاہر کے اسیر ہو جاتے ہیں یا ایسے باطنی دعووں میں چلے جاتے ہیں جن کا زمین پر کوئی اثر نہیں رہتا۔ اقبال ان دونوں انتہاؤں کو رد کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: دنیا میں رہو، اسی مٹی سے اٹھو، مگر اپنا دل اس سے اوپر باندھو۔ اور جو کچھ تمہیں حق سے روکے، اس سے ستیز کرو۔
یہ شعر امت کے لیے ایک عملی نقشہ ہے۔ تعلیم، معیشت، سیاست، تہذیب اور کردار، ہر جگہ یہی اصول کارفرما ہونا چاہیے: جڑیں زمین میں، دل غیب سے وابستہ، اور طرزِ عمل موجودہ جبر سے برسرِ پیکار۔ اقبال اسی ترکیب سے ملی نشوونما چاہتے ہیں۔
مثال
جیسے ایک پودا مٹی میں رہ کر بھی سورج کی طرف بڑھتا ہے، ویسے ہی مومن دنیا میں رہ کر بھی اپنے دل کو بلند حقیقت سے وابستہ رکھتا اور نیچے کھینچنے والی قوتوں سے لڑتا ہے۔
خلاصہ
اقبال کے نزدیک سچی تربیت یہ ہے کہ انسان دنیا میں جڑ پکڑے مگر دل کو غیب سے باندھے اور موجودہ جبر، فریب اور محدودیت کے خلاف جدوجہد کرے۔ یہی نہال کی طرح بڑھنے والی زندگی ہے۔