رموز بے خودی

جلوه در تاریکی ایام کن

جلوه در تاریکی ایام کن

آنچه بر تو کامل آمد عام کن

ترجمہ

زمانے کی تاریکی میں جلوہ دکھا، اور جو چیز تجھ پر کامل کر دی گئی ہے اسے عام کر دے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال ساری تنبیہ، تطہیر، اور ابراہیمی بیداری کے بعد امت کو ایک مثبت، روشن اور عملی حکم دیتے ہیں۔ “جلوه در تاریکی ایام کن” یعنی زمانے کی ظلمت، فکری الجھن، تہذیبی گراوٹ، اخلاقی اندھیرے اور روحانی پژمردگی کے اندر خود چراغ بن جا، خود روشن مثال بن، خود حق کا جلوہ دکھا۔ اقبال کے نزدیک مسلمان کا کام صرف باطل پر اعتراض کرنا نہیں، بلکہ تاریکی میں روشنی کی صورت اختیار کرنا بھی ہے۔

دوسرے مصرعے میں “آنچه بر تو کامل آمد عام کن” نہایت وسیع معنی رکھتا ہے۔ اس سے مراد وہ دین بھی ہے جو امت پر مکمل کیا گیا، وہ ہدایت بھی ہے جو اسے عطا ہوئی، وہ نعمت بھی ہے جو اسے ملی، اور وہ توحیدی و نبوی ورثہ بھی جو اس کے پاس امانت کے طور پر موجود ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اسے صرف اپنے اندر بند نہ رکھو، “عام” کرو۔ یعنی اسے پھیلاؤ، زندہ کرو، معاشرت میں اتارو، علم میں منتقل کرو، اخلاق میں دکھاؤ، اور انسانیت تک پہنچاؤ۔ یہ شعر امت کے دعوتی اور تمدنی مشن کا خلاصہ بن جاتا ہے۔

تاریکیِ ایام:

ایام کی تاریکی سے مراد محض کوئی ایک سیاسی دور نہیں، بلکہ ہر وہ حالت ہے جہاں انسان حق سے دور، ضمیر سے خالی، اور مقصد سے کٹا ہوا ہو۔ کبھی یہ تاریکی فکر کی ہوتی ہے، کبھی اخلاق کی، کبھی ظلم کی، کبھی بے حیائی کی، کبھی بے مقصدی کی، اور کبھی توحید سے غفلت کی۔ اقبال کے ہاں تاریکی محض شکایت کا موضوع نہیں، عمل کی دعوت ہے۔

وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان تاریکی سے گھبرا کر گوشہ نشین نہ ہو، بلکہ اسی میں جلوہ بنے۔ یعنی اس کا وجود، اس کا کردار، اس کا علم، اور اس کی عبادت اندھیرے میں روشنی بن جائیں۔ یہی فعال ایمان ہے۔

جلوہ بننے کا مطلب:

جلوہ صرف چمکنا نہیں، حق کو نمایاں کرنا بھی ہے۔ اگر امت کے پاس دینِ کامل ہے تو اسے دنیا میں اس کی خوب صورتی، عدل، رحمت، توازن اور حیات بخشی کو ظاہر کرنا ہوگا۔ یہ کام صرف الفاظ سے نہیں ہوگا؛ اس کے لیے ایک ایسی اجتماعی اور انفرادی زندگی درکار ہے جو دین کو مجسم صورت میں دکھائے۔

اسی لیے اقبال جلوہ کا لفظ لاتے ہیں۔ دین کو محض دفاعی انداز میں نہ رکھو؛ اسے اس شان سے ظاہر کرو کہ لوگ اس کے اندر حیات، وقار، معنویت اور خدا آشنائی دیکھ سکیں۔

کامل نعمت کو عام کرنا:

جو چیز “کامل” آئی ہے، اسے محدود، مقامی، طبقاتی یا نجی خزانہ بنا دینا اس کے حق میں کمی کرنا ہے۔ اقبال کے نزدیک اسلام کی تکمیلی نعمت کا مطلب یہ ہے کہ اس کے اندر زندگی کے لیے جامع رہنمائی موجود ہے۔ اب امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس تکمیل کو دنیا سے بانٹے، نہ کہ اسے محض وراثتی فخر کا حصہ بنا کر رکھ دے۔

عام کرنے کا مطلب صرف تبلیغی اعلان نہیں، بلکہ تعلیم، تہذیب، عدل، معاشرت، اور سچے نمونوں کے ذریعے اسے زندگی کی سطح پر پھیلانا ہے۔ اقبال اسی تمدنی شعور کو بیدار کر رہے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج بہت سے مسلمان اندھیروں کی شکایت تو کرتے ہیں، مگر خود جلوہ بننے کی تیاری کم رکھتے ہیں۔ وہ دنیا کی گمراہی دیکھتے ہیں، مگر اپنے علم، اخلاق، خاندان، ادارے، اور معاشرت کو اس قابل نہیں بناتے کہ وہ واقعی روشنی بن سکیں۔ اقبال اس شعر میں شکایت سے آگے بڑھاتے ہیں: اگر زمانہ تاریک ہے تو تم پر روشنی کی ذمہ داری اور بڑھ گئی۔

یہ شعر امت کے لیے ایک عملی منشور ہے۔ جو کچھ تم پر مکمل ہوا ہے، اسے زندہ کر کے عام کرو۔ اسے صرف محفوظ مت رکھو، مؤثر بناؤ۔ اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان دفاعی اقلیت کا احساس چھوڑ کر ہدایت کی روشن امانت کے حامل کے طور پر کھڑا ہو۔ یہی اس کے وجود کی سچی ادائیگی ہے۔

مثال

جیسے اندھیرے کمرے میں رکھا ہوا چراغ اگر ڈھانپ دیا جائے تو کسی کو فائدہ نہیں پہنچتا، ویسے ہی مکمل نعمت اگر عام نہ کی جائے تو اس کی روشنی محدود رہ جاتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں امت کو زمانے کی تاریکی میں روشنی بننے اور اپنے پاس آئی کامل ہدایت کو عام کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ اس کا مشن صرف حفاظت نہیں، روشن اشاعت بھی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button