رموز بے خودی

مملکت را دین او معبود ساخت

مملکت را دین او معبود ساخت

فکر او مذموم را محمود ساخت

ترجمہ

اس کی فکر نے ریاست ہی کو معبود بنا دیا، اور جو چیز ناپسندیدہ تھی اسے پسندیدہ اور قابلِ تعریف بنا کر دکھا دیا۔

تشریح

اقبال اس شعر میں اپنی پوری تنقید کا ایک مرکزی نکتہ بیان کرتے ہیں: جب سیاست اور قومی مفاد کو اعلیٰ اخلاقی اصولوں سے آزاد کر دیا جاتا ہے تو ریاست خود ایک مقدس شے بن جاتی ہے۔ پھر اسے صرف ایک انتظامی ڈھانچے کے طور پر نہیں دیکھا جاتا، بلکہ اسے ایسی بالا دستی دی جاتی ہے کہ حق، عدل، صداقت اور انسانیت سب اس کے تابع قرار پاتے ہیں۔ اسی کے ساتھ اقبال یہ بھی کہتے ہیں کہ ایسی فکر کا سب سے خطرناک کمال یہ ہے کہ وہ ناپسندیدہ اور مذموم چیزوں کو بھی محمود، مفید اور قابلِ تعریف بنا دیتی ہے۔ شعر کے مطابق:

مملکت بطور معبود:

مملکت اپنی اصل میں ایک ضرورت ہے۔ انسانوں کی اجتماعی زندگی کو نظم، حفاظت، قانون اور انتظام درکار ہوتا ہے، اور ریاست اسی ضرورت کا ایک عملی نظام ہے۔ مگر اقبال کے نزدیک خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ریاست اپنی محدود ضرورت سے نکل کر مرکزِ وفا، مرکزِ تقدیس اور آخری مرجع بن جائے۔ پھر لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ جو کچھ ریاست کہے وہی سچ ہے، جسے وہ چاہے وہی جائز ہے، اور جس مفاد کو وہ چنے وہی اعلیٰ خیر ہے۔

وسیلہ جب معبود بن جائے تو انسان اپنے ہی بنائے ہوئے ڈھانچے کے سامنے جھکنے لگتا ہے۔

فکر او:

یہاں اقبال پھر اس سیاسی فکر ہی کی طرف لوٹتے ہیں جس کی جڑیں انہوں نے پہلے دہریت، ظلمت اور باطل پرستی میں دکھائی تھیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ریاست پرستی محض اداروں کی غلطی نہیں، فکر کی خرابی ہے۔ ایک خاص تصورِ سیاست لوگوں کو یہ سکھاتا ہے کہ ریاست کی بقا سب سے بڑا حق ہے، اس لیے اس کے لیے ہر طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ یہی فکری بنیاد بعد میں اخلاقی الٹ پھیر کا ذریعہ بنتی ہے۔

غلط فکر پہلے پیمانہ بدلتی ہے، پھر کردار اور نظام خود بخود بدلنے لگتے ہیں۔

مذموم کو محمود بنانا:

یہ مصرع نہایت اہم ہے۔ اقبال کے نزدیک اس فکر نے جھوٹ، دھوکا، ظلم، بدعہدی، سازش اور طاقت پرستی جیسی چیزوں کو نئی زبان دے دی۔ انہیں مکر نہیں کہا گیا بلکہ تدبیر کہا گیا؛ انہیں بے اصولی نہیں کہا گیا بلکہ حکمت کہا گیا؛ انہیں ظلم نہیں کہا گیا بلکہ ریاستی ضرورت کہا گیا۔ اس طرح ایک تہذیب کے اخلاقی لغت نامے میں تبدیلی آ گئی۔ جو چیز پہلے قبیح سمجھی جاتی تھی، وہ اب چابک دستی، عقل مندی اور سیاسی بصیرت کہلانے لگی۔

الفاظ کے بدل جانے سے حقیقت نہیں بدلتی، مگر ضمیر کو دھوکا دینے میں آسانی ہو جاتی ہے۔

اخلاقی ترتیب کا الٹاؤ:

اقبال کے نزدیک اصل بحران یہی ہے کہ خیر و شر کی درجہ بندی بدل گئی۔ جب ریاست کو معبود مان لیا جائے تو انصاف، امانت، انسانی اخوت اور حق گوئی ثانوی ہو جاتے ہیں۔ پھر یہ سوال نہیں رہتا کہ کیا چیز درست ہے، بلکہ یہ سوال رہ جاتا ہے کہ کیا چیز ریاستی طاقت کو فائدہ دیتی ہے۔ یہی ترتیب انسان کی خودی کو بھی مجروح کرتی ہے، کیونکہ وہ حق کے تابع رہنے کے بجائے مفاد کے تابع جینا سیکھنے لگتا ہے۔

خودی اس وقت بیمار ہوتی ہے جب وہ ضمیر سے پہلے مصلحت کا جواب دینے لگے۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی دنیا میں بہت سی ریاستیں اور سیاسی تحریکیں اسی منطق پر چلتی ہیں کہ چونکہ ریاست سب سے بڑی حقیقت ہے، اس لیے اس کے لیے ہر چیز قربان کی جا سکتی ہے۔ اقبال خبردار کرتے ہیں کہ یہی وہ نقطہ ہے جہاں نظام پرستی عبادت بن جاتی ہے۔ ہمیں ریاست کی ضرورت ہے، مگر اسے حق، عدل اور اخلاقی جواب دہی کے تابع رکھنا ہوگا۔ اگر ہم نے مذموم چیزوں کو نفع یا قومی مفاد کے نام پر محمود کہنا شروع کر دیا تو تہذیب کے ضمیر میں زہر سرایت کر جائے گا۔

اسلامی خودی ریاست بناتی ہے، مگر ریاست کو معبود نہیں بننے دیتی۔

مثال

اگر کسی حکومت کی دروغ گوئی، بدعہدی یا ظلم کو صرف اس لیے سراہا جائے کہ اس سے ریاستی طاقت بڑھی ہے، تو دراصل مذموم کو محمود بنایا جا رہا ہے اور نظام ایک اخلاقی حد سے نکل کر معبودانہ مقام اختیار کر رہا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق اس سیاسی فکر نے ریاست کو مقدس مرکز بنا دیا اور اس کے نتیجے میں اخلاقی قدریں الٹ گئیں۔ جو چیزیں پہلے مذموم تھیں، وہ اقتدار اور مفاد کے نام پر محمود کہلانے لگیں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button