رموز بے خودی

صد نوا داری چو خون در تن روان

صد نوا داری چو خون در تن روان

خیز و مضرابی بتار او رسان

ترجمہ

تیرے اندر سو نغمے ایسے رواں ہیں جیسے بدن میں خون، پس اٹھ اور اس کے تار پر ایک مضراب پہنچا۔

تشریح

یہ شعر پچھلے شعر کا قدرتی تسلسل ہے۔ وہاں اقبال نے بتایا تھا کہ وجود کے ساز میں نغمے سوئے ہوئے ہیں اور بیدار زخمہ ور کی تلاش میں ہیں۔ اب وہ انسان سے کہتے ہیں کہ تیرے اندر خود “صد نوا” موجود ہیں۔ یعنی تو خالی ہاتھ نہیں، تیری روح میں، تیری فطرت میں، تیرے خون میں، تیرے ضمیر میں، اور تیرے تاریخی ورثے میں بے شمار آوازیں، معانی، صلاحیتیں اور امانتیں پہلے سے موجود ہیں۔ اقبال انسان کو محرومی کے احساس سے نکال کر اندرونی دولت کے شعور تک لاتے ہیں۔

“چو خون در تن روان” ایک بڑی بلیغ تعبیر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نغمے باہر سے مسلط نہیں، تیرے اندر گردش کر رہے ہیں، جیسے خون پوری ہستی میں جاری ہوتا ہے۔ ان کا تعلق زندگی کی اصل روانی سے ہے۔ پھر شاعر حکم دیتا ہے: “خیز”۔ یعنی اب سستی، تردد یا خود فراموشی کا وقت نہیں۔ جو کچھ تیرے اندر امانت کے طور پر دوڑ رہا ہے، اسے بیدار کر، اور “مضرابی بتار او رسان” یعنی وجود کے تار تک اپنی زندہ ضرب پہنچا۔ یہ شعر اقبال کے ہاں امکانات کو عمل میں بدلنے کا اعلان ہے۔

اندرونی نوا:

اقبال کے نزدیک انسان محض کمیوں کا مجموعہ نہیں۔ اس کے اندر پہلے سے بہت کچھ ودیعت ہے: عقل کی روشنی، عشق کی گرمی، غیرت کی قوت، دعا کی لطافت، سوز کی آگ، اور توحید کے پیغام کو اٹھانے کی صلاحیت۔ “صد نوا” انہی رنگا رنگ امکانات کی طرف اشارہ ہے۔ شاعر گویا کہہ رہا ہے کہ اپنی بے مائیگی پر اتنا نہ ٹھہرو کہ اپنی باطنی دولت بھول جاؤ۔

یہی اصول ملت پر بھی صادق آتا ہے۔ امت کے اندر علم، تاریخ، عبادت، قربانی، تہذیب، زبان، ذوق اور جوانی کی بے شمار صدائیں موجود ہیں۔ اگر وہ اپنے اندر کی اس دولت کو پہچان لے تو اس کی اجتماعی زندگی نئی آہنگ پا سکتی ہے۔

خون کی روانی:

خون کی گردش زندگی کی بنیادی علامت ہے۔ اقبال اس سے یہ بتاتے ہیں کہ نوا اور مقصد کا ربط ہماری حیات کے کسی بیرونی گوشے سے نہیں، زندگی کی اصل گردش سے ہے۔ اگر خون رک جائے تو جسم مر جاتا ہے؛ اگر نوا کی باطنی روانی رک جائے تو روحانی زندگی کم زور پڑ جاتی ہے۔

یہ تشبیہ ایک اور بات بھی سکھاتی ہے: خون ہر عضو تک پہنچتا ہے، اسی طرح مقصد کی صدا بھی زندگی کے ہر شعبے تک پہنچنی چاہیے۔ اگر ایمان صرف زبان میں ہو اور عمل، علم، سیاست، معاشرت، اور تہذیب اس سے جدا رہیں تو گویا یہ نوا ابھی پوری ہستی میں نہیں دوڑ رہی۔

مضراب کی ضرورت:

اندر نوا ہونا کافی نہیں، اسے ظاہر کرنے کے لیے ضرب چاہیے۔ بہت سے لوگ صلاحیت رکھتے ہیں مگر وہ بیدار نہیں ہوتی، کیونکہ ان کے پاس عمل کی جرأت یا مقصد کا شعور کم ہوتا ہے۔ اقبال کا “خیز” اسی جمود شکنی کا کلمہ ہے۔ اٹھو، اپنے امکانات کو خاموش مت رہنے دو، اور اپنے حصے کی ضرب اس تار تک پہنچاؤ جو وجود کے نغمے بیدار کر سکتا ہے۔

یہ ضرب کبھی قلم کی صورت ہوتی ہے، کبھی عبادت کی صداقت کی، کبھی دعوت کی، کبھی عدل کی، کبھی خدمت کی، اور کبھی قربانی کی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی اندرونی نوا کو عالم کے ساز تک پہنچا رہے ہیں یا نہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج بہت سے مسلمان اور بہت سی مسلم جماعتیں اپنے آپ کو کمزور، منتشر اور بے اثر سمجھتی ہیں۔ اقبال اس شعر میں ان کے اندر حوصلہ اور ذمہ داری دونوں ڈالتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تمہارے اندر “صد نوا” پہلے ہی موجود ہیں۔ تمہاری تاریخ، تمہارا ایمان، تمہاری عبادت، تمہاری زبان، تمہاری تہذیب، تمہاری جوانی، سب کے اندر صدا ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا تم اٹھ کر اس نوا کو عمل کی ضرب میں بدلتے ہو؟

یہ شعر انتظار کے مزاج کو توڑتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ بیداری باہر سے نہیں آئے گی؛ تمہیں خود اٹھنا ہوگا۔ اگر امت اپنے اندر کے نغموں کو پھر سے بیدار کر لے تو اس کے ساز میں خاموشی کے بجائے نئی زندگی بولنے لگے گی۔ اقبال کی دعوت یہی ہے: اپنی امانت پہچانو، پھر اسے عالم تک پہنچاؤ۔

مثال

جیسے کسی ہنرمند کے اندر فن موجود ہو مگر اسے ظاہر کرنے کے لیے ہاتھ بھی اٹھانا پڑتا ہے، ویسے ہی اندرونی صلاحیت تبھی تاریخ بنتی ہے جب اسے عمل کی ضرب ملے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں انسان اور امت دونوں کو یاد دلاتے ہیں کہ ان کے اندر بے شمار زندہ نوا پہلے سے موجود ہیں۔ اصل کام یہ ہے کہ اٹھ کر ان نغموں کو عمل اور مقصد کی ضرب کے ذریعے وجود کے تار تک پہنچایا جائے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button