رموز بے خودی

چرخ را از زور او گردندگی

چرخ را از زور او گردندگی

مهر را پایندگی رخشندگی

ترجمہ

آسمان کی گردش بھی اسی کے زور سے ہے، اور سورج کی پائیداری اور تابانی بھی اسی سے ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال توحید کی قوت کو کائناتی حرکات اور روشنیوں کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ پچھلے شعر میں انہوں نے “لا الٰہ” کو عالم کے ادوار کا مرکز اور اس کے سفر کا آخری حاصل قرار دیا تھا۔ اب وہ اسی حقیقت کی کائناتی تاثیر بیان کرتے ہیں۔ “چرخ” یعنی آسمان یا زمانے کی مسلسل گردش، اور “مہر” یعنی سورج کی روشنی، استقامت اور دوام، سب اسی اصل قوت سے وابستہ ہیں۔ یہاں “او” سے مراد توحید کی وہ حقیقت بھی ہے جو کائنات کو مرکز دیتی ہے، اور وہ الٰہی امر بھی جس کے تحت عالم قائم و متحرک ہے۔

اقبال کا مقصود یہ نہیں کہ فلکیاتی اصولوں کا سادہ متبادل پیش کریں، بلکہ یہ دکھانا ہے کہ کائنات کی حرکت اور تابانی بھی بے مرکز نہیں۔ دنیا کی بڑی گردشیں، نظام کا تسلسل، اور روشنی کا دوام سب ایک اعلیٰ سچ کے تابع ہیں۔ اگر سورج اپنی روشنائی میں خودکفیل نہیں اور آسمان اپنی گردش میں بے نیاز نہیں، تو انسان کس طرح خود کو مطلق سمجھ سکتا ہے؟ اس شعر کے ذریعے اقبال توحید کو کائناتی انکسار، نظام اور مرکزیت کا سرچشمہ بناتے ہیں۔

چرخ کی گردش:

چرخ کی گردش زمان، تقدیر، نظامِ عالم اور مسلسل حرکت کی علامت ہے۔ کچھ بھی جامد نہیں؛ ہر شے کسی نہ کسی ترتیب میں حرکت کر رہی ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ یہ گردش اندھی یا خودمختار نہیں، ایک اصل قوت کے تابع ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ حرکت اس وقت بامعنی ہوتی ہے جب اس کا ربط کسی اعلیٰ مرکز سے ہو۔

ملت کی زندگی پر بھی یہی اصول صادق آتا ہے۔ اگر اس کے اندر حرکت تو ہو مگر وہ سچے مرکز سے جدا ہو تو وہ بھٹک سکتی ہے۔ لیکن اگر حرکت توحید کے زور سے ہو تو اس میں نظم، وقار اور بقا پیدا ہوتی ہے۔

مہر کی پائیداری:

سورج صرف روشنی کی علامت نہیں، دوام، حرارت، فیض اور زندگی بخشی کی بھی علامت ہے۔ اقبال کے نزدیک اس کی “پایندگی” اور “رخشندگی” بھی اسی اعلیٰ حقیقت سے وابستہ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح نورِ ظاہری بھی کسی الٰہی نظام کے تابع ہے، ویسے ہی روحانی نور، تہذیبی نور اور اخلاقی نور بھی کسی سچے مرکز کے بغیر قائم نہیں رہ سکتے۔

یہ تمثیل امت کے لیے بڑی اہم ہے۔ اگر وہ چاہتی ہے کہ اس کی روشنی پائیدار ہو، محض لمحاتی چمک نہ ہو، تو اسے اپنی تابانی توحید کے ساتھ جوڑنی ہوگی۔ اقبال کے نزدیک پائیدار نور ہمیشہ مرکزِ حق سے آتا ہے۔

کائنات کی شہادت:

یہ شعر دراصل کائنات کو توحید کی شہادت میں بدل دیتا ہے۔ عالم کی گردش اور روشنی خود اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کائنات بے قاعدہ خود سری کا میدان نہیں بلکہ ایک منظم امانت ہے۔ اگر آسمان اور سورج اپنی حقیقت میں خود مختار نہیں تو انسان کا تکبر اور باطل مرکزوں کا غرور کس قدر بے بنیاد ہے۔

اقبال کی نظر میں سچا مومن کائنات کو اسی شہادت کے طور پر پڑھتا ہے۔ اسے ہر طرف نظم، ربط اور توحیدی اشارے دکھائی دیتے ہیں۔ یوں عالم محض منظر نہیں رہتا، معانی کا آئینہ بن جاتا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج انسان اپنی تکنیکی قوت اور علمی ترقی کے باعث کبھی کبھی یہ گمان کر بیٹھتا ہے کہ وہ خود ہی اپنے نظام کا آخری مرکز ہے۔ اقبال کا یہ شعر اسے یاد دلاتا ہے کہ عالم کی بڑی قوتیں بھی کسی اعلیٰ سچ کے تابع ہیں۔ انسانی کامیابی اگر توحید سے کٹ جائے تو وہ روشنی کم اور غرور زیادہ بن سکتی ہے۔

یہ شعر امت کو بھی یاد دلاتا ہے کہ اس کی حرکت اور روشنی دونوں کو سچے مرکز سے وابستہ رہنا چاہیے۔ اگر توحید دلوں میں زندہ ہو تو اس کی اجتماعی گردش بھی صحیح ہوگی اور اس کی تہذیبی روشنی بھی پائیدار بن سکتی ہے۔ اقبال اسی نسبتِ نور کو بیدار کرنا چاہتے ہیں۔

مثال

جیسے چراغ کی لو تیل اور مرکز سے کٹ جائے تو بجھنے لگتی ہے، ویسے ہی فرد یا قوم کی روشنی بھی سچے مرکز سے جدا ہو کر دیر تک قائم نہیں رہ سکتی۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ عالم کی حرکت اور روشنی بھی ایک اعلیٰ مرکز کے تابع ہیں۔ چرخ کی گردش اور سورج کی تابانی توحید کے اس اصول کی کائناتی شہادت بن جاتی ہیں کہ پائیداری اور نظم خود سری سے نہیں، سچے مرکز سے آتے ہیں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button