ناله ها در کشت جان کاریده است
ناله ها در کشت جان کاریده است
تا نوای یک اذان بالیده است
ترجمہ
اس نے جان کی کھیتی میں بہت سے نالے بوئے ہیں، تب کہیں ایک اذان کی صدا پروان چڑھی ہے۔
تشریح
یہ شعر اس پوری بحث کے سب سے پُر سوز اور مذہبی طور پر نہایت معنی خیز اشعار میں سے ہے۔ اقبال یہاں اذان کو محض ایک آواز نہیں بلکہ صدیوں کے درد، دعا، سعی، تربیت، قربانی اور روحانی تیاری کا ثمر قرار دیتے ہیں۔ “ناله ها در کشت جان کاریده است” میں دل کی کھیتی، سوز کی کاشت، اور باطن میں بوئے گئے نالوں کی تصویر ہے۔ گویا ایک سچی دینی صدا، ایک زندہ توحیدی اعلان، اور ایک بیدار ایمان اچانک پیدا نہیں ہوتے؛ ان کے پیچھے جانوں کی کھیتی، اشکوں کا پانی، اور قربانیوں کی مٹی لگی ہوتی ہے۔
“نوای یک اذان” کی تعبیر میں اقبال نے کمالِ بلاغت دکھائی ہے۔ اذان اسلام میں توحید، رسالت، عبادت، فلاح اور اجتماع کی دعوت ہے۔ اس ایک اذان کے پیچھے انبیاء کی محنت، اہلِ ایمان کی استقامت، مجاہدین کی قربانی، عابدوں کی راتیں، اور داعیوں کے نالے کارفرما ہیں۔ شاعر ہمیں یہ احساس دینا چاہتے ہیں کہ جو صدا ہمیں معمولی معلوم ہو سکتی ہے، وہ دراصل بہت بڑے روحانی اور تاریخی سرمائے کا نتیجہ ہے۔ اس لیے اس صدا کی حرمت، اس کی معنویت اور اس کے تقاضوں کو سطحی نگاہ سے نہیں سمجھا جا سکتا۔
کشتِ جان کا مفہوم:
کشت جان سے مراد دل، روح، ضمیر، اور وہ باطنی میدان ہے جہاں ایمان، درد، دعا اور طلب بوئے جاتے ہیں۔ کھیتی ہمیشہ وقت مانگتی ہے۔ اسے بیج، پانی، محنت، نگہبانی اور صبر درکار ہوتا ہے۔ اقبال اذان کی آواز کو اس کھیتی کا پھل قرار دے کر یہ بتاتے ہیں کہ دین کی زندہ صدا صرف رسمی وراثت سے قائم نہیں رہتی؛ اس کے لیے اندرونی کاشت لازم ہے۔
یہ کاشت فردی بھی ہے اور اجتماعی بھی۔ فرد اپنے دل میں ذکر، خوفِ خدا، محبتِ رسول، اور طلبِ حق بوتا ہے، جبکہ امت اپنی تاریخ میں علم، دعوت، قربانی اور عبادت کے بیج ڈالتی ہے۔ پھر کہیں جا کر ایک صدا ایسی بلند ہوتی ہے جو دلوں کو ہلا دے۔
نالہ بطور بیج:
یہاں نالہ ایک کم زوری نہیں بلکہ بیج ہے۔ یعنی فریاد، دعا، سوز، اور دل کا درد تعمیری قوت رکھتے ہیں۔ وہ باطن میں ایسی نمی پیدا کرتے ہیں جس سے بعد میں ایمان کی صدا اٹھ سکتی ہے۔ اقبال کے نزدیک رقتِ قلب اور سوزِ دروں محض جذباتی کیفیات نہیں، تاریخ ساز ذخیرہ بھی ہو سکتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ خشک دل سے بڑی دینی آواز پیدا نہیں ہوتی۔ جہاں دلوں میں نالہ مر جائے وہاں اذان بھی صرف رسم میں بدلنے کا خطرہ رکھتی ہے۔ اقبال اس ربط کو پھر سے زندہ کرنا چاہتے ہیں۔
ایک اذان کی عظمت:
“یک اذان” کہہ کر اقبال اس بات کو نمایاں کرتے ہیں کہ کبھی ایک ہی سچی صدا پوری تاریخ کا حاصل بن جاتی ہے۔ اذان میں “اللہ اکبر” سے “حی علی الفلاح” تک پورا اسلامی تصورِ حیات موجزن ہے۔ اس ایک صدا کے پیچھے توحید کی تاریخ، نبوت کی محنت، اور امت کی اجتماعی تربیت موجود ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اقبال اذان کو صرف عبادتی اعلان نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور روحانی معجزہ سمجھتے ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ نالے بوئے گئے تب یہ نوائے اذان بالیدہ ہوئی، تو وہ اس معجزے کی قیمت یاد دلا رہے ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج اذان ہر روز سنائی دیتی ہے، مگر خطرہ یہ ہے کہ کثرتِ سماعت اس کی معنویت کو عادت میں بدل دے۔ اقبال اس شعر کے ذریعے ہمیں جگاتے ہیں کہ اس ایک صدا کے پیچھے کتنے سوز، کتنی آہیں، کتنی راتیں، کتنی قربانیاں، اور کتنی جانوں کی کاشت موجود ہے۔ اگر ہم اس شعور کے ساتھ اذان سنیں تو ہماری نسبت دین کے ساتھ کہیں زیادہ زندہ ہو سکتی ہے۔
یہ شعر ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آج بھی دین کی صدا اثر رکھے تو ہمیں اپنی جانوں کی کھیتی میں پھر سے نالے بونا ہوں گے: دعا، اخلاص، خدمت، سوز، قربانی اور استقامت۔ بغیر کشت کے آوازیں بڑھ سکتی ہیں، اثر نہیں۔ اقبال کی دعوت یہی ہے کہ اذان کے باطن کو پھر سے زندہ کیا جائے۔
مثال
جیسے ایک طاقتور درخت کے پیچھے برسوں کی مٹی، پانی اور نگہبانی پوشیدہ ہوتی ہے، ویسے ہی ایک سچی دینی صدا کے پیچھے دلوں کی طویل کاشت اور سوز کی تاریخ ہوتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں اذان کو نالوں، دعاؤں اور سوزِ دروں کی طویل کاشت کا ثمر قرار دیتے ہیں۔ ایک سچی توحیدی صدا اچانک نہیں ابھرتی؛ وہ جان کی کھیتی میں بوئے گئے درد اور اخلاص سے پروان چڑھتی ہے۔
