رموز بے خودی

مدعا مضراب ساز همت است

مدعا مضراب ساز همت است

مرکزی کو جاذب هر قوت است

ترجمہ

مدعا ہمت کے ساز پر پڑنے والا مضراب ہے، اور ایسا مرکز ہے جو ہر قوت کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال مقصد کو دو نہایت خوب صورت استعاروں کے ذریعے سمجھاتے ہیں: مضراب اور مرکز۔ “مضراب” وہ چیز ہے جس سے ساز کے تار بجتے ہیں۔ ساز اپنی جگہ موجود ہو سکتا ہے، تار بھی سلامت ہوں، مگر جب تک مضراب نہ لگے، نغمہ پیدا نہیں ہوتا۔ اسی طرح “ہمت” انسان کے اندر موجود طاقت، ارادہ، صلاحیت اور امکان کا نام ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ مدعا ہی وہ مضراب ہے جو ہمت کے ساز کو نغمہ خیز بناتا ہے۔ یعنی مقصد کے بغیر ہمت خاموش رہ سکتی ہے، اور مقصد کے ساتھ وہی ہمت بامعنی آواز پیدا کرنے لگتی ہے۔

دوسرے مصرعے میں مدعا کو ایسے مرکز کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو ہر قوت کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ یہ جاذبیت بہت اہم ہے۔ زندگی میں قوتیں بکھری ہوئی ہوتی ہیں: عقل، جذبہ، وقت، محنت، تعلق، علم، مال، شجاعت، قربانی، سب اپنی اپنی جگہ موجود ہو سکتے ہیں۔ مقصد ان سب کو ایک مرکز پر جمع کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال مدعا کو صرف خواہش نہیں کہتے؛ وہ اسے جاذب مرکز کہتے ہیں۔ یعنی بڑا مقصد انسان کے اندر بکھرے ہوئے امکانات کو متحد اور متحرک کر دیتا ہے۔

ہمت کا ساز:

ہر انسان میں ہمت کی کچھ نہ کچھ صورت موجود ہوتی ہے، مگر یہ ہمت ہمیشہ بیدار نہیں ہوتی۔ کسی میں علم کی ہمت ہے، کسی میں خدمت کی، کسی میں جہادِ نفس کی، کسی میں تخلیق کی، اور کسی میں قیادت کی۔ لیکن اگر یہ سب قوتیں خاموش پڑی رہیں تو ان سے نغمہ پیدا نہیں ہوتا۔ اقبال کی نظر اس پوشیدہ امکان پر ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ انسان اپنی ہمت کو مقصد کے زیرِ اثر ایک زندہ ساز بنا دے۔

یہاں ساز کا استعارہ اس لیے بھی خوب صورت ہے کہ ساز میں نظم، تناسب اور آہنگ ضروری ہیں۔ ہمت بھی اگر بے آہنگ ہو تو شور پیدا کرتی ہے، نغمہ نہیں۔ مدعا اس ہمت کو نہ صرف جگاتا ہے بلکہ موزوں بھی بناتا ہے۔

مضراب کی ضرب:

مضراب نغمے کا آغاز ہے۔ اس کے بغیر تار موجود ہوتے ہوئے بھی خاموش رہتے ہیں۔ اقبال بتاتے ہیں کہ مدعا آدمی کے اندر ایسی ہی پہلی زندہ ضرب ہے۔ یہ ضرب کبھی سوال کی صورت میں آتی ہے، کبھی درد کی صورت میں، کبھی عشق کی صورت میں، اور کبھی ذمہ داری کے شعور کی صورت میں۔ لیکن جب یہ پڑتی ہے تو اندر کے تار بیدار ہونے لگتے ہیں۔

یہی بیداری زندگی کی تخلیقی قوت کو آزاد کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقصد صرف آخری منزل کا نام نہیں، ابتدائی جنبش کا نام بھی ہے۔ وہ دل کے تاروں کو بے صدا نہیں رہنے دیتا۔

جاذب مرکز:

مدعا اگر حقیقی ہو تو وہ انسان کے اندر ایک کشش پیدا کرتا ہے۔ عقل اسی کے لیے سوچتی ہے، محبت اسی کے لیے گرم ہوتی ہے، وقت اسی کے لیے صرف ہوتا ہے، اور قربانی اسی کی خاطر معنی پاتی ہے۔ یہ کشش جبر نہیں، جاذبیت ہے۔ مقصد انسان کو ٹکڑوں میں نہیں توڑتا بلکہ اس کی قوتوں کو اکٹھا کرتا ہے۔

ملت کے لیے یہی اصول نہایت فیصلہ کن ہے۔ اگر اس کا نصب العین واضح اور زندہ ہو تو اس کے علماء، نوجوان، ادارے، معیشت، سیاست اور ثقافت سب ایک بڑے دائرے میں آ سکتے ہیں۔ اگر نصب العین کم زور ہو تو ہر قوت اپنی الگ سمت پکڑ لیتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج ہم اکثر ہمت کی کمی کا شکوہ کرتے ہیں، مگر ممکن ہے مسئلہ ہمت کی کمی نہیں بلکہ مضراب کی کمی ہو۔ لوگ صلاحیت رکھتے ہیں، ادارے موجود ہیں، وسائل موجود ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان سب کے اوپر کوئی ایسا بڑا مدعا موجود ہے جو ان کے تاروں کو چھیڑے اور ان کی قوتوں کو اکٹھا کرے؟ اقبال کا شعر اسی سوال کا جواب ہے۔

اگر امت اپنا حقیقی نصب العین پھر سے زندہ کر لے تو بہت سی خاموش صلاحیتیں بجنے لگیں گی۔ مقصد انسان کو صرف مصروف نہیں کرتا، نغمہ خیز بناتا ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ ہم اپنی ہمتوں کے ساز پر دوبارہ وہی زندہ ضرب سنیں۔

مثال

جیسے ساز کا ایک درست چھوؤ تاروں میں پوشیدہ نغمہ جگا دیتا ہے، ویسے ہی سچا مقصد انسان کی ہمتوں کو بیدار کر کے ایک مؤثر آہنگ میں بدل دیتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں مدعا کو ہمت کے ساز کا مضراب اور تمام قوتوں کا جاذب مرکز قرار دیتے ہیں۔ مقصد ہی وہ قوت ہے جو اندر کے امکانات کو بیدار اور متحد کر کے زندگی کو نغمہ خیز بناتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button