بر دل پروانه داغ از ذوق سوز
بر دل پروانه داغ از ذوق سوز
طوف او گرد چراغ از ذوق سوز
ترجمہ
پروانے کے دل پر جلنے کے شوق کا داغ ہے، اور اس کا چراغ کے گرد طواف بھی اسی شوقِ سوز سے ہے۔
تشریح
اس شعر میں اقبال مقصد کی داخلی حرارت کو عشق کی تمثیل کے ذریعے سمجھاتے ہیں۔ پچھلے اشعار میں مقصد کو ربط، مهمیز، بقا کا راز اور اسباب پر ضبط کی قوت قرار دیا گیا تھا۔ یہاں وہ بتاتے ہیں کہ بڑا مدعا صرف عقل کا انتخاب نہیں، دل کی آگ بھی مانگتا ہے۔ پروانہ چراغ کے گرد اس لیے نہیں گھومتا کہ کسی نے اسے حکم دیا ہو، بلکہ اس کے دل میں “ذوقِ سوز” ہے۔ یہی ذوق اس کے سینے کا داغ بھی ہے اور اس کی حرکت کا سبب بھی۔ اقبال گویا کہہ رہے ہیں کہ سچی زندگی کی گردش بھی اسی وقت بامعنی ہوتی ہے جب اس کے اندر مقصد کے لیے جلنے کی آمادگی ہو۔
“داغ” اور “طوف” دونوں الفاظ گہری معنویت رکھتے ہیں۔ داغ دل کے اندر کے زخم، نشان اور سوز کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ طوف کسی مرکز کے گرد عاشقانہ گردش کی علامت ہے۔ اقبال ان دونوں کو ایک ہی سرچشمے سے نکالتے ہیں: ذوقِ سوز۔ یعنی اندر کا عشق ہی باہر کی حرکت پیدا کرتا ہے۔ اگر دل میں سوز نہ ہو تو گردش رسم بن جاتی ہے، اور اگر سوز ہو تو چھوٹی سی حرکت بھی عبادت اور وفاداری میں بدل سکتی ہے۔ یہی اصول ملی زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ مرکز کے گرد جمع ہونا صرف نظم سے نہیں، محبت اور سوز سے پائیدار بنتا ہے۔
ذوقِ سوز کیا ہے:
ذوقِ سوز وہ خوشی ہے جو انسان کو قربانی میں بھی معنی دکھاتی ہے۔ یہ ایسا شوق ہے جو آسانی نہیں ڈھونڈتا بلکہ سچائی کے قریب جانے کے لیے جلنے، گھلنے اور دینے پر آمادہ کرتا ہے۔ اقبال کے ہاں عشق کی یہی شان ہے کہ وہ تکلیف کو بے معنی نہیں رہنے دیتا۔ سوز میں درد ہے، مگر ایسا درد جو زندگی کو بیدار رکھتا ہے۔
یہ ذوق مقصد کے لیے ناگزیر ہے، کیونکہ صرف حساب کتاب سے بڑی قربانی نہیں اٹھتی۔ عقل راستہ دکھاتی ہے، مگر سوز قدموں کو مستقل رکھتا ہے۔ اقبال فرد اور ملت دونوں کے لیے اسی باطنی حرارت کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔
پروانے کا داغ:
پروانے کے دل کا داغ اس کی شناخت ہے۔ وہ چراغ کے ساتھ اپنی نسبت صرف فاصلے سے نہیں رکھتا، اپنے دل کے نشان سے رکھتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی نسبت ہمیشہ دل پر اثر ڈالتی ہے۔ اگر کسی مقصد سے تعلق ہو مگر دل پر اس کا کوئی نشان نہ ہو تو وہ تعلق غالباً سطحی ہے۔
اقبال اس تمثیل سے یہ نہیں چاہتے کہ انسان اندھا ہو جائے، بلکہ یہ کہ وہ بے جان نہ رہے۔ مقصد دل میں داغ کی طرح اترے، یعنی وہ انسان کی ترجیح، درد، خوشی اور طلب سب میں شامل ہو۔
گردش کا راز:
پروانے کی گردش کسی خشک قانون سے نہیں، محبت سے پیدا ہوتی ہے۔ اسی لیے اقبال “طوف” کہتے ہیں۔ یہ لفظ بیت الحرام کے گرد طواف کی یاد بھی دلاتا ہے، جہاں عاشقانہ بندگی، نظم اور مرکزیت ایک ہو جاتے ہیں۔ گویا بڑا مدعا انسان کو اپنے مرکز کے گرد ایسی حرکت میں لاتا ہے جو صرف بیرونی پابندی نہیں بلکہ اندرونی شوق سے بھری ہوتی ہے۔
ملت کے لیے یہی بات بہت اہم ہے۔ اگر مرکز سے تعلق صرف خوف، رسم یا سیاست کے تحت ہو تو وہ جلد کم زور پڑ سکتا ہے، مگر اگر اس میں ذوقِ سوز شامل ہو تو اجتماع کو جان ملتی ہے، اور قربانی میں بھی حیات پیدا ہوتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج ہماری بہت سی اجتماعی اور دینی حرکات بظاہر موجود ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ ان کے پیچھے ذوقِ سوز کتنا ہے۔ کیا ہمارے ادارے، عبادتیں، اجتماعات اور تحریکیں صرف انتظامی ڈھانچے ہیں، یا ان کے اندر ایسا شوق بھی موجود ہے جو دلوں کو روشن کرے؟ اقبال کا شعر اسی باطن کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
یہ شعر یہ بھی سکھاتا ہے کہ بڑی نسبتیں دل پر نشان چھوڑتی ہیں۔ اگر مقصد واقعی بڑا ہو تو وہ زندگی میں کچھ جلا کر، کچھ بدل کر، اور کچھ نیا پیدا کر کے رہتا ہے۔ اقبال یہی چاہتے ہیں کہ ہماری حرکت محض شور نہ ہو، سوز سے پیدا ہونے والی روشن گردش ہو۔
مثال
جیسے کسی ماں کی خدمت صرف فرض سے نہیں بلکہ محبت سے معنی پاتی ہے، ویسے ہی مقصد کے گرد قائم رہنے والی حرکت بھی دل کے سوز سے زندہ ہوتی ہے، صرف قانون سے نہیں۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ سچا مدعا دل میں ذوقِ سوز پیدا کرتا ہے۔ یہی سوز انسان کے باطن میں داغ بھی بناتا ہے اور اسے اپنے مرکز کے گرد عاشقانہ وفاداری کے ساتھ حرکت کرنے پر بھی آمادہ کرتا ہے۔
