رموز بے خودی

نا خدا را یم روی از ساحل است

نا خدا را یم روی از ساحل است

اختیار جاده ها از منزل است

ترجمہ

ناخدا کا سمندر میں چلنا ساحل کی نسبت سے ہے، اور راستوں کا انتخاب منزل کی وجہ سے ہوتا ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال مقصد اور راستے کے تعلق کو نہایت سادہ مگر حکیمانہ انداز میں واضح کرتے ہیں۔ انسان عام طور پر راستوں میں الجھ جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ شاید راستہ ہی اصل مسئلہ ہے، مگر اقبال بتاتے ہیں کہ راستے کی اصل تعیین منزل سے ہوتی ہے۔ اگر منزل واضح ہو تو جادہ بھی سمجھ میں آتا ہے، اور اگر منزل دھندلی ہو تو بہت سے راستے ہونے کے باوجود آدمی فیصلہ نہیں کر پاتا۔ “ناخدا” اور “ساحل” کی تصویر اسی حقیقت کو بصری شکل دیتی ہے۔ سمندر کا سفر خود اپنے لیے نہیں ہوتا؛ کسی کنارے، کسی پہنچنے، کسی اترنے کے لیے ہوتا ہے۔

“اختیار جاده ها از منزل است” ایک ایسا اصول ہے جو صرف سفر پر نہیں، پوری زندگی پر لاگو ہوتا ہے۔ ایک طالب علم کی راہ اس کی علمی منزل سے، ایک مجاہد کی راہ اس کے مقصد سے، ایک ملت کی راہ اس کے نصب العین سے متعین ہوتی ہے۔ اقبال یہ سمجھا رہے ہیں کہ اگر امت اپنے بڑے مدعا یعنی حفظ و نشرِ توحید کو بھول جائے تو وہ تعلیم، سیاست، ثقافت، معیشت اور اجتماعی نظم کے میدان میں بار بار راستے کھو دے گی۔ منزل کے بغیر راستہ انتخاب نہیں بناتا، الجھن بن جاتا ہے۔

ناخدا اور ساحل:

ناخدا سمندر میں بلا مقصد نہیں نکلتا۔ سمندر خطرہ بھی رکھتا ہے، وسعت بھی، اور بے سمتی کا امکان بھی۔ مگر اس کے سفر کو معنی ساحل دیتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اسے کہاں پہنچنا ہے، اسی لیے وہ لہروں، ہوا، کشتی اور سمت کا حساب رکھتا ہے۔ اقبال اسی تمثیل سے یہ بتاتے ہیں کہ وسیع دنیا میں حرکت کرنا تبھی بامعنی ہے جب آدمی کے سامنے کوئی واضح ساحل ہو۔

اگر ساحل نظر سے اوجھل ہو جائے تو سمندر کی وسعت سہولت نہیں رہتی، ہلاکت بن سکتی ہے۔ اسی طرح امکانات کی کثرت بھی تبھی نعمت ہے جب انسان کے پاس منزل کا شعور ہو۔ ورنہ آزادی بھی آوارگی میں بدل سکتی ہے۔

راستہ منزل سے بنتا ہے:

اس شعر کا دوسرا مصرعہ خاص طور پر ملی زندگی کے لیے رہنما ہے۔ بہت سی بحثیں راستوں پر ہوتی ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ منزل کیا ہے۔ اگر منزل بدل جائے تو وہی راستہ جو کبھی درست تھا، اب غلط بھی ہو سکتا ہے۔ اور اگر منزل درست ہو تو مشکل راستہ بھی قابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔ اقبال ہمیں ترجیحات کا یہ الٹا درجہ سمجھا رہے ہیں: پہلے منزل، پھر راستہ۔

یہ نکتہ تربیت میں بھی ضروری ہے۔ جو قوم اپنے نوجوانوں کو صرف مہارتیں دے مگر منزل نہ دے، وہ انہیں حرکت تو دے سکتی ہے مگر سمت نہیں۔ اقبال چاہتے ہیں کہ سمت کی اصل بنیاد پھر سے مقصد میں تلاش کی جائے۔

تدبیر اور وضاحت:

منزل واضح ہونے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ تدبیر زیادہ سمجھ دار ہو جاتی ہے۔ آدمی ہر راستے پر نہیں دوڑتا، ہر موقع پر نہیں لپکتا، ہر نعرے سے متاثر نہیں ہوتا۔ وہ اپنے بڑے مقصد کی روشنی میں فیصلہ کرتا ہے کہ کون سا راستہ وقتی ہے، کون سا مستقل، کون سا مفید، اور کون سا محض مشغولیت۔

اسی لیے اقبال راستے کے اختیار کو منزل سے باندھتے ہیں۔ یہ اختیار اندھی آزادی نہیں بلکہ روشن ذمہ داری ہے۔ یعنی مقصد انسان کو فیصلہ کرنے کی قوت دیتا ہے، فیصلہ چھینتا نہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج مسلم معاشروں میں بھی بہت سی بحثیں وسائل، نظام، قیادت، اداروں اور حکمتِ عملی پر ہوتی ہیں، مگر اکثر یہ سوال پس منظر میں چلا جاتا ہے کہ ہماری منزل کیا ہے۔ جب یہ سوال کم زور پڑ جائے تو بہترین وسائل بھی منتشر ہو جاتے ہیں۔ اقبال کا شعر کہتا ہے: پہلے منزل واضح کرو، پھر راستہ خود زیادہ صاف ہو جائے گا۔

فردی سطح پر بھی یہی سچ ہے۔ جس انسان کو معلوم ہو کہ اسے کس طرح کی زندگی جینی ہے، وہ اپنے وقت، دوستیوں، علم، محنت اور خواہشات کا بہتر انتخاب کرتا ہے۔ منزل انسان کی آزادی کو محدود نہیں کرتی، اسے بے مقصد پھیلاؤ سے بچاتی ہے۔ اقبال ہمیں یہی شعور دینا چاہتے ہیں۔

مثال

جیسے مسافر پہلے مقام طے کرتا ہے پھر راستہ چنتا ہے، ویسے ہی زندگی کی درست تدبیر بھی منزل کے تعین کے بعد ہی پیدا ہوتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں واضح کرتے ہیں کہ راستوں کا صحیح انتخاب منزل کے شعور سے پیدا ہوتا ہے۔ مقصد کے بغیر حرکت آوارگی بن سکتی ہے، اور مقصد کے ساتھ مشکل راستے بھی بامعنی سفر میں بدل جاتے ہیں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button