از گل غربت زبان گم کرده ئی
از گل غربت زبان گم کرده ئی
هم نوا هم آشیان گم کرده ئی
ترجمہ
تو غربت کی کیچڑ میں اپنی زبان کھو بیٹھا ہے، اور اپنا ہم نوا بھی کھو دیا ہے اور آشیانہ بھی۔
تشریح
اس شعر میں اقبال زوال کے ایک نہایت انسانی اور تہذیبی پہلو کو بیان کرتے ہیں۔ پہلے اشعار میں قوم کے مرکز کے کھو جانے، جمعیت کے ٹوٹنے، زمانے کی ذلت، اور جڑوں کی خشکی کا ذکر تھا۔ اب وہ اس حال کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اجنبیت، بے زبانی اور بے گھر پن کی تصویر کھینچتے ہیں۔ “از گل غربت” میں “گل” کو کیچڑ یا دلدل کے معنی میں لیا جائے تو مفہوم یہ بنتا ہے کہ آدمی غربت کی ایسی حالت میں پھنس گیا ہے جہاں اس کی حرکت بھی رک گئی اور اس کی زبان بھی گم ہو گئی۔ اقبال یہاں صرف جغرافیائی جلاوطنی کا ذکر نہیں کرتے، بلکہ ایک ایسی تہذیبی اور روحانی غربت کی بات کرتے ہیں جس میں قوم اپنی اصل زبانِ حال اور زبانِ قال دونوں کھونے لگتی ہے۔
“زبان گم کرده ئی” ایک گہرا استعارہ ہے۔ زبان صرف بولنے کا آلہ نہیں، شناخت، یادداشت، روایت، تعبیر، اور اپنے درد و مقصد کو بیان کرنے کی صلاحیت بھی ہے۔ جب کوئی ملت اپنی زبان گم کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے اصل لہجے، اپنی اپنی بات، اپنی سچی ترجیحات، اور اپنے اندر کے مشترک نغمے سے محروم ہو رہی ہے۔ دوسرے مصرعے میں “هم نوا هم آشیان گم کرده ئی” اس محرومی کو اور مکمل کر دیتا ہے۔ نہ ہم نوا باقی رہا، نہ آشیانہ۔ یعنی نہ رفاقت کا وہ دائرہ باقی رہا جہاں ایک مشترک نغمہ سنائی دے، نہ وہ مسکن جہاں انسان اپنے وجود کو محفوظ اور مانوس محسوس کرے۔ یہ مکمل تہذیبی بے وطنی کی کیفیت ہے۔
غربت کی دلدل:
غربت ہمیشہ صرف پردیس کا نام نہیں ہوتی۔ آدمی اپنے ہی وطن میں، اپنی ہی زبان کے درمیان، اور اپنے ہی لوگوں کے اندر بھی غریب ہو سکتا ہے اگر اس کے پاس زندہ مرکز، حقیقی رفاقت اور باطنی ربط نہ رہے۔ اقبال کی “گل غربت” اسی کیفیت کی علامت ہے۔ دلدل میں پھنسا ہوا آدمی آگے بھی مشکل سے بڑھتا ہے اور پیچھے بھی مشکل سے نکلتا ہے۔ اسی طرح تہذیبی غربت انسان کو معلق اور کم زور بنا دیتی ہے۔
یہ دلدل اس وقت بنتی ہے جب قوم اپنے اصل شعور سے کٹ جائے اور باہر کی فضا میں بے سمت بہنے لگے۔ پھر نہ اس کے الفاظ اپنے رہتے ہیں، نہ ترجیحات، نہ رشتے۔ وہ خود اپنے اندر اجنبی ہو جاتی ہے۔
زبان کھو دینے کا مطلب:
زبان کھو دینے کا ایک مفہوم یہ ہے کہ قوم اپنا سچا بیانیہ کھو دیتی ہے۔ وہ دوسروں کی اصطلاحوں میں اپنے آپ کو دیکھنے لگتی ہے، دوسروں کے پیمانوں سے اپنا نفع و ضرر ناپتی ہے، اور اپنی روایت کو یا تو شرمندگی کے ساتھ یاد کرتی ہے یا سطحی فخر کے ساتھ۔ اس کے پاس اپنے حال کی سچی تعبیر نہیں رہتی۔ اقبال کے نزدیک یہ بہت بڑا نقصان ہے، کیونکہ جب زبان گم ہو جائے تو اصلاح کا راستہ بھی دھندلا پڑ جاتا ہے۔
یہ زبان محض لفظی نہیں، اخلاقی اور روحانی بھی ہوتی ہے۔ ایک امت کی زبان اس کا کردار بھی ہے، اس کا ادب بھی، اس کی دعا بھی، اس کا شکوہ بھی، اور اس کی امید بھی۔ اگر یہ سب بکھر جائیں تو زبان کا گم ہونا پوری تہذیب کا زخم بن جاتا ہے۔
ہم نوا اور آشیان:
ہم نوا کا کھو جانا بتاتا ہے کہ آدمی یا قوم نے وہ رفاقت کھو دی جس میں مشترک نغمہ پیدا ہوتا ہے۔ آشیان کا کھو جانا اس سے بھی بڑھ کر ہے، کیونکہ آشیانہ صرف مکان نہیں، امن، مانوسیت، تسلسل اور اگلی نسلوں کے لیے جگہ کا نام ہے۔ جب قوم اپنے ہم نوا اور آشیان دونوں کھو دے تو وہ صرف منتشر نہیں رہتی، اس کی داخلی ثقافت بھی کم زور پڑنے لگتی ہے۔
اقبال کے ہاں آشیان کا تصور ہمیشہ بلند پروازی سے جڑا ہوا ہے۔ پرندہ آشیانے کے بغیر محض بھٹکتا ہے، اور ہم نوا کے بغیر اس کی آواز نغمہ نہیں بنتی۔ اس لیے یہ شعر اجتماعی تنہائی اور تہذیبی بے گھری کی ایک مکمل تصویر ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج مسلمان اگر اپنی تہذیبی زبان، اپنے فکری لہجے، اور اپنے مشترک شعور کو کم زور پڑتا دیکھے تو اسے اس شعر پر ٹھہر کر غور کرنا چاہیے۔ کیا ہم بھی ایسی غربت میں تو نہیں جا رہے جہاں اپنی بات دوسروں کی لغت میں اور اپنے مقصد دوسروں کے سانچوں میں ڈھونڈتے ہیں؟ کیا ہمارے درمیان ہم نوا کم اور شور زیادہ ہو گیا ہے؟ کیا ہمارے نوجوان اپنے ہی آشیانے سے مانوس رہ گئے ہیں؟
اقبال کا علاج یہ ہے کہ قوم اپنے اصل مرکز، اپنی صحیح روایت، اور اپنے زندہ شعور کی طرف لوٹے۔ جب زبان واپس آتی ہے تو رفاقت بھی لوٹ سکتی ہے اور آشیان بھی آباد ہو سکتا ہے۔ مگر اس کے لیے پہلے اپنی غربت کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ یہ شعر اسی اعتراف کی دعوت ہے۔
مثال
جیسے کوئی پرندہ دلدل میں پھنس کر نہ ٹھیک سے اڑ سکتا ہے، نہ اپنا گھونسلا پا سکتا ہے، ویسے ہی تہذیبی غربت انسان سے اس کی زبان، اس کے ساتھی اور اس کا مسکن چھین لیتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں زوال کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تہذیبی اور روحانی غربت دکھاتے ہیں۔ زبان کا گم ہو جانا، ہم نوا کا چھوٹ جانا، اور آشیانے کا اجڑ جانا اس بات کی علامت ہے کہ قوم اپنے اصل شعور اور رفاقت سے دور ہو گئی ہے۔
