رموز بے خودی

عبرتی ای مسلم روشن ضمیر

عبرتی ای مسلم روشن ضمیر

از مآل امت موسی بگیر

ترجمہ

اے روشن ضمیر مسلمان، امتِ موسیٰ کے انجام سے عبرت حاصل کر۔

تشریح

اس شعر میں اقبال ایک تاریخی مثال کے ذریعے تنبیہ کرتے ہیں۔ وہ مسلمان کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ امتِ موسیٰ کے انجام سے سبق لو۔ یہاں اقبال کا مقصد کسی قوم کی تحقیر نہیں، بلکہ تاریخ کے ایک الٰہی قانون کی طرف توجہ دلانا ہے۔ قرآن مجید بھی سابقہ امتوں کے واقعات کو اسی لیے بیان کرتا ہے کہ بعد میں آنے والے لوگ اپنے حال کو ان آئینوں میں دیکھ سکیں۔ اقبال اسی قرآنی اسلوب کو اختیار کرتے ہیں: جو کچھ پہلے لوگوں کے ساتھ ہوا، وہ صرف ان کی کہانی نہیں بلکہ تمہارے لیے تنبیہ بھی ہے۔

“روشن ضمیر” کی ترکیب خاص معنی رکھتی ہے۔ اقبال صرف “مسلم” نہیں کہتے، بلکہ روشن ضمیر مسلم کو پکارتے ہیں، یعنی وہ مسلمان جو صرف جذبات سے نہیں بلکہ بیدار بصیرت سے سوچتا ہو۔ عبرت اندھا ردِ عمل نہیں مانگتی؛ وہ غور و فکر، دیانت، اور اپنے عیب دیکھنے کا حوصلہ مانگتی ہے۔ امتِ موسیٰ کی مثال اس لیے دی گئی ہے کہ ایک برگزیدہ ورثہ بھی اگر مرکز، اطاعت، جمعیت اور روحانی اخلاص کو کم زور پڑنے دے تو محض ماضی کا شرف اسے بچا نہیں سکتا۔

عبرت کا قرآنی مفہوم:

عبرت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دوسروں کی خطاؤں پر فخر کریں یا ان کے انجام کو اپنی برتری کا ثبوت بنائیں۔ عبرت کا مطلب یہ ہے کہ ہم تاریخ میں اپنے لیے تنبیہ پڑھیں۔ قرآن جب بنی اسرائیل، عاد، ثمود یا دوسری امتوں کا ذکر کرتا ہے تو وہ محض پرانے واقعات سنانے کے لیے نہیں کرتا، بلکہ دلوں کو جگانے کے لیے کرتا ہے۔ اقبال اسی روش سے مسلمان کو یاد دلاتے ہیں کہ تم اپنے آپ کو تاریخ کے قانون سے مستثنیٰ نہ سمجھو۔

یہ بات خاص طور پر خطرناک ہوتی ہے جب کوئی امت اپنے منصب کو حق سمجھنے لگے مگر اس کی ذمہ داری کو بھلا دے۔ ایسے وقت میں ماضی کا شرف تکبر میں بدل سکتا ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان تاریخ کو عزت کے مخزن کے طور پر ہی نہیں، محاسبے کے آئینے کے طور پر بھی پڑھے۔

امتِ موسیٰ کا حوالہ:

اقبال کے اس اشارے کا مفہوم وسیع ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت کو کتاب، شریعت، رہنمائی اور ایک خاص تاریخی منصب ملا، مگر تاریخ میں ایسے مراحل بھی آئے جب اس امت کے بعض طبقات میں ظاہریت، باہمی نزاع، مرکز سے دوری، یا روح کے بجائے محض رسم پر اکتفا نمایاں ہوئی۔ اقبال اسی انجام کے ایک پہلو کو بطور مثال سامنے لاتے ہیں: اگر وحی یافتہ ورثہ بھی اپنی جمعیت اور مرکزیت کھو دے تو اس کی قوت کم زور پڑ سکتی ہے۔

یہ نکتہ بڑے ادب سے سمجھنا چاہیے۔ اقبال کا مقصود مذہبی مقابلہ یا تہذیبی تحقیر نہیں، بلکہ مسلمانوں کو آئینہ دکھانا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ دوسروں سے کیا ہوا، بلکہ یہ ہے کہ اگر ہم نے بھی وہی روش اختیار کی تو کیا ہم محفوظ رہیں گے؟ جواب ظاہر ہے: نہیں۔

روشن ضمیر مسلمان کی ذمہ داری:

روشن ضمیر مسلمان وہ ہے جو تاریخ کو شعوری آنکھ سے دیکھے، اپنے زمانے کے فتنوں کو سمجھے، اور امت کے اندر پیدا ہونے والی کم زوریوں کو پہچانے۔ وہ صرف دشمن کا نام نہیں لیتا بلکہ اپنی صفوں کی دراڑیں بھی دیکھتا ہے۔ اقبال ایسے ہی بیدار مسلمان کو پکار رہے ہیں کہ تمہاری ذمہ داری صرف محبتِ دین کا دعویٰ نہیں، بلکہ عبرت کے ذریعے اصلاح کی راہ کھولنا بھی ہے۔

یہ روشن ضمیری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب آدمی اپنے ماضی پر ناز کرنے کے ساتھ اپنے حال کا محاسبہ بھی کرے۔ اگر جمعیت کم زور پڑ رہی ہو، اگر مرکز سے ربط سرد ہو رہا ہو، اگر شریعت رسم بن رہی ہو، اگر روحانیت کے بجائے نزاع بڑھ رہی ہو، تو روشن ضمیر مسلمان خاموش نہیں رہتا۔ وہ ان نشانیوں کو تاریخی تنبیہ کے طور پر پڑھتا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج ہم بھی بہت سی وہی بیماریوں سے دوچار ہو سکتے ہیں جن سے پچھلی امتیں آزمائی گئیں: گروہی عصبیت، علم کا غرور، عمل کی کم زوری، رسم پر اطمینان، اور مرکز سے جذباتی تعلق کے باوجود اجتماعی بے ترتیبی۔ اقبال کا شعر جھنجھوڑتا ہے کہ روشن ضمیر بنو اور تاریخ سے سبق لو۔ امتوں کے زوال اچانک نہیں آتے؛ وہ پہلے دلوں، پھر اداروں، پھر رشتوں، اور آخر میں تاریخ میں ظاہر ہوتے ہیں۔

اس لیے یہ شعر خوف نہیں، بیداری پیدا کرتا ہے۔ اگر عبرت لے لی جائے تو زوال کی راہ بدل سکتی ہے۔ اگر تاریخ کو وقت پر پڑھ لیا جائے تو غلطی دہرانے سے بچا جا سکتا ہے۔ اقبال کا مقصود یہی ہے کہ مسلمان اپنی تقدیر کو اندھی تکرار کے حوالے نہ کرے بلکہ روشن ضمیر ہو کر اپنا راستہ سنوارے۔

مثال

جیسے ایک ہوشیار مسافر اپنے سے پہلے گزرنے والوں کے حادثات دیکھ کر راستہ سنبھال لیتا ہے، ویسے ہی بیدار امتیں تاریخ کے انجاموں سے سبق لے کر اپنے قدم درست کرتی ہیں۔

خلاصہ

اقبال مسلمان کو تاریخ کے آئینے میں جھانکنے کی دعوت دیتے ہیں۔ امتِ موسیٰ کے انجام کا حوالہ دراصل یہ یاد دہانی ہے کہ موروثی شرف اس وقت تک محفوظ نہیں رہتا جب تک جمعیت، مرکزیت اور روحانی وفاداری زندہ نہ ہوں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button