رموز بے خودی

از حساب او یکی بسیاریت

از حساب او یکی بسیاریت

پخته از بند یکی خودداریت

ترجمہ

اسی ایک کے حساب و نظم سے تمہاری کثرت ترتیب پاتی ہے، اور ایک بند سے بندھ کر تمہاری خود داری پختہ ہوتی ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال ملت کی کثرت اور وحدت کے باہمی تعلق کو ایک نہایت باریک مگر فیصلہ کن پیرائے میں بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تمہاری “بسیاریت”، یعنی تمہارا بہت ہونا، تمہارا مختلف علاقوں، مزاجوں، زبانوں اور صورتوں میں پھیل جانا، اسی ایک کے حساب سے معنی پاتا ہے۔ اگر وہ ایک نہ ہو تو بہت ہونا بکھراؤ بن جاتا ہے، مگر اگر ایک زندہ مرکز موجود ہو تو بہت سے افراد، بہت سے قبیلے اور بہت سی سمتیں ایک منظم جمعیت میں بدل سکتی ہیں۔ اقبال کے نزدیک امت کی شان یہ نہیں کہ وہ اختلافات مٹا دے، بلکہ یہ ہے کہ کثرت کو ایسے حساب میں لے آئے جہاں ہر جز اپنی جگہ رکھتے ہوئے کل کی خدمت کرے۔

دوسرے مصرعے میں “بند یکی” اور “خود داری” کے الفاظ خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ اقبال یہاں یہ نہیں کہتے کہ ایک سے بندھنا غلامی ہے؛ وہ کہتے ہیں کہ اسی بند سے خود داری پختہ ہوتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب انسان اور ملت کسی سچے، بلند اور خدا آشنا مرکز سے وابستہ ہوتے ہیں تو ان کے اندر نظم، وقار، ضبط اور اندرونی استحکام پیدا ہوتا ہے۔ خود داری ہمیشہ بے قیدی سے پیدا نہیں ہوتی؛ بسا اوقات وہ صحیح نسبت، صحیح قانون اور صحیح وفاداری سے پختہ ہوتی ہے۔ ایک آدمی جو اپنی خواہشات کا غلام ہو، بظاہر آزاد ہو کر بھی باطن میں کم زور ہوتا ہے، مگر جو اپنی قوت کو ایک بلند مقصد کے تابع کر دے اس کی خودی میں وزن آ جاتا ہے۔

حساب کا مطلب:

“حساب” سے مراد یہاں محض گنتی نہیں بلکہ تناسب، ترتیب، نظم اور پہچان کا وہ اصول ہے جو کثرت کو قابلِ فہم بناتا ہے۔ جس چیز کا حساب نہ ہو وہ ڈھیر تو ہو سکتی ہے، نظام نہیں بن سکتی۔ اقبال امت کے بارے میں یہی کہنا چاہتے ہیں کہ مسلمان دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوں، رنگ اور نسل میں مختلف ہوں، زبان اور عادت میں متنوع ہوں، مگر اگر ان کے درمیان ایک زندہ حساب موجود ہے تو وہ افراتفری نہیں بنتے۔ وہ امت بنتے ہیں۔

یہ حساب دراصل وہ مرکز عطا کرتا ہے جس کے گرد شعور، عبادت، محبت اور وفاداری ایک رخ اختیار کرتی ہے۔ اس کے بغیر کثرت، کثرت ہی رہتی ہے؛ اس کے ساتھ کثرت ایک وحدتِ کار بن جاتی ہے۔ اسی لیے اقبال “بسیاریت” کو رد نہیں کرتے، بلکہ اسے صحیح مرکز کے تحت معنی دیتے ہیں۔

بندِ یکی کی معنویت:

“بند” کا لفظ عام طور پر روک، قید یا پابندی کا احساس پیدا کرتا ہے، مگر اقبال کے ہاں یہ بند ایک زندہ ربط ہے۔ جیسے تسبیح کے دانے دھاگے کے بغیر بکھر جاتے ہیں، ویسے ہی افراد اور جماعتیں کسی مرکزی بندھن کے بغیر جلد منتشر ہو جاتی ہیں۔ یہاں بندِ یکی اس رشتے کا نام ہے جو ملت کو محض اکٹھا نہیں رکھتا بلکہ اسے ایک سمت اور ایک آہنگ عطا کرتا ہے۔

یہ بند خود داری کو اس لیے پختہ کرتا ہے کہ وہ انسان کو خواہشات، تعصبات اور بے مہار انا کی غلامی سے نکالتا ہے۔ جب آدمی ایک سچے مرکز سے بندھتا ہے تو وہ چھوٹے چھوٹے بتوں سے آزاد ہوتا ہے۔ اس کے فیصلے میں وزن آتا ہے، اس کے رویے میں وقار پیدا ہوتا ہے، اور اس کے اندر ایک ایسی اخلاقی مضبوطی جنم لیتی ہے جو محض دعوے سے نہیں آتی۔

کثرت اور وقار:

اقبال کی فکر میں کثرت کا احترام موجود ہے، مگر وہ اسے آزاد چھوڑ دینے کے قائل نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ فرق باقی رہیں مگر فتنے نہ بنیں، تنوع باقی رہے مگر تصادم نہ بنے، بہت سے رنگ ہوں مگر کسی ایک اصل نور سے جدا نہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک زندہ مرکز کی طرف بار بار رجوع کرتے ہیں۔ اس مرکز کے بغیر کثرت اپنی برکت کھو دیتی ہے، اور اس کے ساتھ کثرت ایک باغ بن جاتی ہے جہاں ہر پھول الگ ہے مگر فضا مشترک ہے۔

یہی بات فردی اخلاق پر بھی صادق آتی ہے۔ انسان کی شخصیت میں بھی بہت سے تقاضے، خواہشیں، احساسات اور میلانات ہوتے ہیں۔ اگر ان سب کو کوئی اعلیٰ اصول منظم نہ کرے تو آدمی اندر سے ٹوٹا رہتا ہے۔ مگر جب ایک برتر مقصد سب کو ترتیب دے تو اس کی خود داری پختہ ہو جاتی ہے۔ اقبال ملت کے ذریعے فرد کا بھی باطن سمجھا رہے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج ہم کثرت کو اکثر دو انتہاؤں میں دیکھتے ہیں: یا تو ہر فرق کو اس حد تک بڑھا دیتے ہیں کہ جمعیت ٹوٹ جاتی ہے، یا پھر ایسی وحدت چاہتے ہیں جو زندگی کی فطری رنگا رنگی کو کچل دے۔ اقبال ان دونوں سے بچاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ صحیح وحدت وہ ہے جو کثرت کو حساب دے، اور صحیح خود داری وہ ہے جو بندِ حق سے پیدا ہو۔ اگر امت اپنی کثرت کو ایک زندہ مرکز کے ساتھ جوڑ لے تو اس کی داخلی طاقت کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔

یہ شعر ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ نظم دشمنیِ آزادی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کس سے بندھے ہیں۔ اگر رشتہ حق سے ہو تو بند پختگی بن جاتا ہے، اور اگر رشتہ خواہش سے ہو تو آزادی بھی ذلت میں بدل سکتی ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ ہم اس فرق کو سمجھیں اور اپنی کثرت کو ایک باوقار جمعیت میں ڈھالیں۔

مثال

جیسے تسبیح کے بہت سے دانے ایک ہی دھاگے میں پروئے جائیں تو بکھرتے نہیں بلکہ معنی پاتے ہیں، ویسے ہی ملت کی کثرت ایک سچے بند سے بندھ کر وقار اور نظم اختیار کرتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ امت کی کثرت کسی ایک زندہ حساب سے ترتیب پاتی ہے، اور اسی بندِ وحدت سے اس کی خود داری مضبوط ہوتی ہے۔ صحیح ربط کثرت کو انتشار نہیں بننے دیتا بلکہ اسے باوقار جمعیت میں بدل دیتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button