رموز بے خودی

زندگی مرغ نشیمن ساز نیست

زندگی مرغ نشیمن ساز نیست

طایر رنگ است و جز پرواز نیست

ترجمہ

زندگی آشیانہ بنا کر بیٹھ رہنے والی چڑیا نہیں، وہ رنگین پرندہ ہے اور اس کی حقیقت پرواز کے سوا کچھ نہیں۔

تشریح

یہ شعر اقبال کے تصورِ حیات کو نہایت صاف اور زور دار انداز میں سامنے لاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ زندگی ایسی چڑیا نہیں جو بس نشیمن بنا کر بیٹھ جائے، بلکہ وہ ایک رنگین پرندہ ہے اور اس کی اصل حقیقت پرواز ہے۔ یہاں اقبال حیات کی سرشت کو سکونِ عادی، جمود اور آسودگی پرستی کے خلاف کھڑا کر دیتے ہیں۔ زندگی کا مطلب محض محفوظ رہنا نہیں، بلکہ حرکت کرنا، آسمان ڈھونڈنا، وسعت اختیار کرنا اور ایک جگہ ٹھہر کر اپنی اصل کھو نہ دینا ہے۔ جو چیز صرف آشیانہ بنا کر بیٹھ جائے وہ زندگی کے مزاج سے دور ہو جاتی ہے۔

“طایر رنگ” کی ترکیب اس شعر کو خاص حسن دیتی ہے۔ زندگی صرف اڑنے والا پرندہ نہیں، بلکہ رنگین پرندہ ہے۔ یعنی اس کی پرواز بے روح یا خشک نہیں بلکہ حسن، تنوع، تخلیق اور حرارت سے بھری ہوئی ہے۔ اقبال یہ نہیں چاہتے کہ زندگی محض بے قرار دوڑ بن جائے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اس میں رنگ بھی ہو، وقار بھی ہو، اور مقصد بھی۔ اس لیے پرواز یہاں اضطرابِ بے سمت نہیں بلکہ حیات کی فطری تکمیل ہے۔ فرد بھی اگر زندہ ہے تو وہ بڑھنا چاہے گا، سیکھنا چاہے گا، اپنے حال سے آگے جانا چاہے گا۔ ملت بھی اگر زندہ ہے تو وہ محض ماضی کے آشیانے میں نہیں بیٹھ سکتی۔

مرغِ نشیمن ساز کیوں نہیں:

نشیمن گھر، قرار اور سکون کی علامت ہے، مگر اقبال یہاں اس کا ایک منفی پہلو سامنے لاتے ہیں۔ اگر سارا زور صرف نشیمن بنانے پر ہو اور پرواز بھلا دی جائے تو زندگی کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ انسان صرف حفاظت، سہولت، روٹین اور مانوس دائرے میں بند ہو کر اپنی بلند صلاحیت کھو سکتا ہے۔ اقبال ایسی زندگی کے خلاف ہیں جو صرف محفوظ ہو مگر بامقصد نہ ہو، صرف قائم ہو مگر بڑھتی نہ ہو، صرف بیٹھنا جانتی ہو مگر اڑنا بھول گئی ہو۔

یہاں یہ مراد نہیں کہ گھر، نظم یا استحکام کی نفی ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ نشیمن خود مقصد نہ بن جائے۔ زندگی کے لیے آشیانہ وسیلہ ہو سکتا ہے، مگر حقیقتِ حیات اس سے آگے ہے۔ جس زندگی میں پرواز ختم ہو جائے وہ اپنے نشیمن ہی کی قیدی بن جاتی ہے۔

پرواز کی حقیقت:

“جز پرواز نیست” کہہ کر اقبال مبالغہ نہیں، اصل جوہر بیان کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک حیات کا معنی ہی آگے بڑھنا ہے۔ یہ پرواز کبھی فکری ہوتی ہے، کبھی اخلاقی، کبھی روحانی، کبھی اجتماعی۔ ایک طالب علم کے لیے یہ علم میں ترقی ہے، ایک مومن کے لیے یہ قربِ الٰہی کی جستجو ہے، ایک قوم کے لیے یہ تہذیبی بیداری اور اجتماعی خود آگاہی ہے۔ پرواز ہمیشہ جسمانی سفر نہیں، بہت بار باطن کی بلندی بھی ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اقبال کے ہاں جمود موت کے قریب اور پرواز حیات کے قریب ہے۔ جو قوم اپنے پر کاٹ دیتی ہے وہ کچھ عرصہ محفوظ رہ سکتی ہے، مگر زندہ نہیں رہتی۔ اور جو فرد اپنی بلند طلب کھو بیٹھتا ہے، وہ چاہے سہولت میں ہو، اس کی روح اندر سے مرجھانے لگتی ہے۔

رنگین پرندہ ہونے کا مطلب:

رنگ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ زندگی کی پرواز یک رنگ نہیں۔ اس میں تنوع، حسن، ذوق اور نیاپن ہے۔ اقبال کے نزدیک زندہ انسان کا باطن بھی یکسر خشک یا مشینی نہیں ہوتا۔ وہ سیکھتا ہے، بدلتا ہے، تخلیق کرتا ہے، محبت کرتا ہے، روتا ہے، مسکراتا ہے، عبادت کرتا ہے، اور خدمت کرتا ہے۔ یہ سب رنگ ہیں۔ اسی طرح ملت کی پرواز بھی صرف ایک شعبے میں نہیں، علم، ادب، اخلاق، عبادت، سیاست، معیشت اور تمدن سب میں ہونی چاہیے۔

یہ شعر ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ حیات کی بلندی حسن سے جدا نہیں۔ اڑنا ہے تو رنگ کے ساتھ اڑو، یعنی ایسی پرواز کرو جس میں جمال اور خیر ہو۔ محض طاقت ور ہونا کافی نہیں، خوب صورت اور باوقار بھی ہونا چاہیے۔ اقبال کی طایرانہ دنیا میں پرواز اور حسن ساتھ ساتھ ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج بہت سے لوگ کامیابی کو صرف ایک محفوظ آشیانے سے تعبیر کرتے ہیں: اچھی نوکری، بند گھر، محدود معمول اور بس۔ یہ چیزیں اپنی جگہ اہم ہیں، مگر اگر زندگی کا سارا مفہوم انہی میں بند ہو جائے تو حیات کی پرواز کمزور پڑ جاتی ہے۔ اقبال کا یہ شعر یاد دلاتا ہے کہ انسان کو اپنے اندر بلند طلب، تجدید، سیکھنے کی جستجو، اور اپنے حال سے آگے بڑھنے کا شوق باقی رکھنا چاہیے۔

یہی بات ملت کے لیے بھی درست ہے۔ اگر امت صرف اپنے محفوظ حلقوں میں قید رہے، صرف روایت کو دہرائے، اور نئے زمانے میں اپنی تخلیقی پرواز نہ دکھائے، تو وہ زندگی کے قانون کے خلاف جائے گی۔ اقبال کی آواز ہمیں پھر سے پرواز کی طرف بلاتی ہے: ایسی پرواز جو رنگین ہو، باوقار ہو، اور اپنے بلند مقصد سے جڑی ہوئی ہو۔

مثال

جیسے دریا کا کام صرف ایک تالاب میں ٹھہر جانا نہیں بلکہ بہتے ہوئے نئی زمینوں کو سیراب کرنا ہے، ویسے ہی زندگی کا کام بھی صرف ٹھہرنا نہیں بلکہ پرواز، پیش قدمی اور تازگی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں صاف کہتے ہیں کہ زندگی کی اصل حقیقت پرواز ہے، نہ کہ محض محفوظ آشیانہ۔ زندہ فرد اور زندہ ملت دونوں کو بڑھنا، بلند ہونا اور اپنے امکانات کو وسعت دینا ہوتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button