رموز بے خودی

در یم اندازش که گردد گوهری

در یم اندازش که گردد گوهری

تاب او لرزد چو تاب اختری

ترجمہ

اسے سمندر میں ڈال دے تاکہ وہ گوہر بن جائے، اور اس کی چمک ستارے کی چمک کی طرح لرزنے لگے۔

تشریح

یہ شعر پچھلے شعر کی تنبیہ کا مثبت حل پیش کرتا ہے۔ اگر محض موج اور سراب کافی نہیں، تو پھر کیا کیا جائے؟ اقبال کہتے ہیں: اسے یم میں ڈال دے تاکہ وہ گوہر بن جائے۔ گویا سطحی حرکت سے نجات کا راستہ گہرائی میں اترنا ہے، اور بکھرے ہوئے قطرے کو دریا کے سپرد کرنا ہے۔ سمندر یہاں محض پانی کا ذخیرہ نہیں، بلکہ وسعت، مرکز، اصل منبع، اور اس تربیتی عمل کا استعارہ ہے جہاں چھوٹی حقیقتیں نئی قیمت پاتی ہیں۔ گوہر اتفاق سے نہیں بنتا؛ اس کے لیے دریا کی گہرائی، دباؤ، وقت اور ایک مخصوص تقدیر چاہیے۔ اقبال اسی تمثیل سے سمجھاتے ہیں کہ انسان بھی جب اپنی ذات کی سطح سے نکل کر بڑے منبع سے جڑتا ہے تب اس کے اندر حقیقی قیمت پیدا ہوتی ہے۔

دوسرے مصرعے میں گوہر کی روشنی کو ستارے کی تاب سے تشبیہ دی گئی ہے۔ یہ نہایت خوب صورت اضافہ ہے۔ گوہر زمین کے قریب کی شے ہے، اور اختر آسمان کی۔ اقبال ان دونوں کو ملا کر یہ بتاتے ہیں کہ جب ایک قطرہ صحیح تربیت سے گوہر بنتا ہے تو اس کے اندر زمینی قیمت بھی آتی ہے اور آسمانی چمک بھی۔ یعنی وہ صرف نفع بخش نہیں رہتا بلکہ نورانی بھی ہو جاتا ہے۔ یہ مسلمان کی کامل سیرت کی تصویر ہے: وہ دنیا میں کارآمد بھی ہو اور اوپر سے منور بھی۔

یم میں ڈالنے کا مطلب:

“در یم اندازش” کے اندر خود سپردگی کا مفہوم ہے۔ قطرہ اگر اپنی علیحدہ حیثیت سے چمٹا رہے تو وہ موج یا شبنم ہی رہے گا، مگر جب وہ بڑے یم کے حوالے ہو گا تو اس کے لیے ایک نئی تقدیر کھلے گی۔ اقبال کے نزدیک انسان کو بھی بعض اوقات اپنی محدود خود پسندی، اپنی سطحی مرکزیت، اور اپنے چھوٹے دائروں کو چھوڑ کر ایک بڑی نسبت میں داخل ہونا پڑتا ہے۔ یہی داخلہ اسے گوہر بناتا ہے۔

یہ یم اسلامی معنویت میں یمِ پیغمبر، یمِ رحمت، یمِ ملت اور یمِ حق کی طرف اشارہ رکھ سکتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ قطرہ کسی بڑے، پاک اور وسیع منبع سے جڑے۔ اگر جوڑ درست ہو تو ضائع نہیں ہوتا، قیمتی ہو جاتا ہے۔ اقبال کے نزدیک یہی نسبت فرد کی خودی کو فنا نہیں کرتی بلکہ اسے اعلیٰ قیمت دیتی ہے۔

گوہر کیسے بنتا ہے:

گوہر بننا فوری عمل نہیں۔ اس میں وقت ہے، تہہ ہے، خاموشی ہے، اور اندرونی تراکم ہے۔ اقبال کی تمثیل میں یہ سب روحانی اور اخلاقی تربیت کے مراحل کی علامت ہیں۔ جو شخص ہر وقت سطح پر رہے، ہر وقت فوری نتیجہ چاہے، اور ہر وقت صرف نمود میں رہے، وہ گوہر بننے کے عمل سے محروم رہ جاتا ہے۔ گوہر بننے کے لیے باطن کی تعمیر، صبر، نسبت اور آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے۔

یہاں ایک بڑی امید بھی ہے۔ قطرہ اپنی موجودہ چھوٹائی کے باوجود گوہر بن سکتا ہے۔ اقبال کے نزدیک صلاحیت کی کمی اصل مسئلہ نہیں، صحیح سپردگی اور صحیح تربیت کی کمی مسئلہ ہے۔ جب یہ میسر آ جائیں تو چھوٹی حقیقت بھی بڑی قیمت پا سکتی ہے۔

تابِ اختر کیوں:

ستارے کی تاب لرزتی ہوئی دکھائی دیتی ہے، مگر اس میں ایک مسلسل اور دل کش نور ہوتا ہے۔ گوہر کی تاب کو اس سے تشبیہ دینا یہ بتاتا ہے کہ کامل انسان کا نور سخت، جامد اور بے روح نہیں ہوتا؛ اس میں لطافت، زندگی اور دل کشی ہوتی ہے۔ اس کے اندر قیمت بھی ہے اور جمال بھی۔ اقبال کے ہاں حسن اور حق ایک دوسرے کے مخالف نہیں، بلکہ صحیح تربیت میں دونوں جمع ہو جاتے ہیں۔

یہ تشبیہ یہ بھی سکھاتی ہے کہ انسان کی نجات صرف محفوظ ہو جانے میں نہیں، روشن ہو جانے میں ہے۔ گوہر بن کر بھی اگر وہ بے نور رہے تو منزل پوری نہیں۔ اقبال چاہتے ہیں کہ جو نسبت انسان کو ملے وہ اس کے اندر ایسی تاب پیدا کرے جو دوسروں کو بھی راستہ دکھا سکے۔

آج کے لیے سبق:

آج بہت سے لوگ اپنی شخصیت، اپنے علم یا اپنے کام کو نکھارنا تو چاہتے ہیں، مگر ایسے کسی بڑے یم کے حوالے ہونے سے گھبراتے ہیں جو ان کی خودپسندی توڑ دے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ حقیقی قدر تنہائی کی خود کفالت سے نہیں، درست نسبت اور گہرائی سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر ہم واقعی گوہر بننا چاہتے ہیں تو ہمیں کسی بڑے حق، کسی زندہ روایت، اور کسی پاک مرکز کے سپرد ہونا ہوگا۔

یہ شعر ہر نوجوان کے لیے امید کا اعلان بھی ہے۔ تم ابھی قطرہ ہو تو کیا ہوا؟ اگر تمہاری سمت درست ہو اور تم صحیح یم تک پہنچ جاؤ تو تم گوہر بن سکتے ہو۔ اور اگر گوہر بن گئے تو تمہاری تاب محض ذاتی فائدہ نہیں دے گی، بلکہ ستارے کی طرح دوسروں کے لیے بھی روشنی بنے گی۔

مثال

جیسے خام لوہا تنہا پڑا رہے تو عام دھات رہتا ہے، مگر آگ، ہتھوڑے اور کاریگری سے گزر کر قیمتی اوزار بن جاتا ہے، ویسے ہی قطرہ بڑے منبع کی تربیت میں گوہر بن جاتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ سطحی حرکت سے نجات کا راستہ صحیح یم میں داخل ہونا ہے۔ دریا کی گہرائی سے جڑ کر قطرہ گوہر بنتا ہے، اور پھر اس کے اندر ستارے جیسی روشن تاب پیدا ہوتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button