عنصر نم بر کشی از جوهرش
عنصر نم بر کشی از جوهرش
ذوق رم از سالمات مضطرش
ترجمہ
اس کے جوہر سے نمی کا عنصر کھینچ لے، اور اس کی بے قرار کیفیت سے ساکن و سلامت چیزوں میں بھی حرکت کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے۔
تشریح
یہ شعر اپنی ترکیب میں لطیف اور اپنے معنی میں نہایت گہرا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اس کے جوہر سے نمی کا عنصر لیا جاتا ہے، اور اس کی مضطرب کیفیت سے سالم و ساکن چیزوں میں بھی حرکت کا ذوق پیدا ہو جاتا ہے۔ یہاں “عنصر نم” زندگی بخش رطوبت، تازگی، نرمی اور قابلیتِ نمو کی علامت ہے، جبکہ “ذوق رم” ایک ایسی بے قراری ہے جو جمود کو توڑ دیتی ہے۔ گویا اقبال یہ سمجھا رہے ہیں کہ حقیقی حیات میں دو چیزیں ساتھ ساتھ ہوتی ہیں: ایک وہ نرمی اور نمی جو زندگی کو پالتی ہے، اور دوسری وہ مضطرب شوق جو اسے آگے بڑھاتا ہے۔ صرف نمی ہو اور حرکت نہ ہو تو زندگی ڈھیلی پڑ سکتی ہے، اور صرف بے قراری ہو مگر رطوبت نہ ہو تو چیزیں جل سکتی ہیں۔ کمال یہ ہے کہ جوہر کے اندر دونوں جمع ہوں۔
اس شعر کا سیاق پچھلے اشعار سے خوب جڑتا ہے۔ سحر کی شعاع نے غنچے باندھ دیے، اب سوال یہ ہے کہ اس اثر کی اندرونی کیمیا کیا ہے۔ اقبال جواب دیتے ہیں کہ اصل جوہر میں ایسی نمی ہے جو زندگی پیدا کرتی ہے، اور ایسی اضطرابی تاثیر ہے جو جمود کو توڑ دیتی ہے۔ مسلمان کی روحانی زندگی میں بھی یہی دو قوتیں چاہیے: رحمت کی نمی اور شوق کی بے قراری۔ اگر اس کے دل میں صرف سکون ہو مگر کوئی حرکت نہ ہو تو وہ جلد جمود میں بدل سکتا ہے۔ اور اگر صرف اضطراب ہو مگر کوئی لطیف رطوبت نہ ہو تو وہ توازن کھو سکتا ہے۔
جوہر کی نمی:
نمی کا عنصر ایک بہت معنی خیز استعارہ ہے۔ خشک زمین میں بیج پڑا رہے تو بھی نہیں اگتا، جب تک اس میں نمی نہ آئے۔ اسی طرح خشک دل، خشک علم اور خشک تہذیب میں نمو کی قوت کم ہو جاتی ہے۔ اقبال کے نزدیک جوہرِ حیات میں رطوبت چاہیے: دل کی نرمی، نظر کی لطافت، رحمت کی حرارت، اور وہ قبولیت جو زندگی کو پھوٹنے دیتی ہے۔ اگر مذہب محض قانون بن جائے، تعلیم محض معلومات بن جائے، اور تعلق محض رسمی رشتہ رہ جائے تو وہ خشک ہو جاتے ہیں۔ نمی ان سب میں جان ڈالتی ہے۔
یہ نمی کمزوری نہیں، بلکہ زندگی کی بنیاد ہے۔ پانی نرم ہے مگر اسی سے سبزہ نکلتا ہے۔ انسان کے اخلاق میں بھی یہی کیفیت مطلوب ہے۔ نرم خوئی، رحم، محبت، حیا، اور دل داری وہ عنصر نم ہیں جن کے بغیر بلند ترین نظریات بھی بانجھ ہو سکتے ہیں۔
مضطر ذوقِ حرکت:
شعر کا دوسرا رخ “ذوق رم” ہے، یعنی وہ شوقِ حرکت جو چیزوں کو ساکت نہیں رہنے دیتا۔ یہاں اضطراب منفی پریشانی نہیں بلکہ حیات کی بیداری ہے۔ زندہ چیز اپنی حالیہ حالت پر مکمل مطمئن ہو کر ساکت نہیں رہتی؛ اس کے اندر بڑھنے، نکلنے، سنورنے اور آگے بڑھنے کی ایک کیفیت رہتی ہے۔ اقبال اسی اضطراب کو خودی کی علامتوں میں شمار کرتے ہیں۔
جب وہ کہتے ہیں کہ اس کی مضطرب تاثیر سالم چیزوں میں بھی حرکت پیدا کرتی ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقی زندگی صرف خود زندہ نہیں رہتی، دوسروں کو بھی جگاتی ہے۔ ایک بیدار دل مجلس میں بیٹھے تو ساکت دل بھی کچھ ہلنے لگتے ہیں۔ ایک سچا فکر سامنے آئے تو جمے ہوئے ذہن میں بھی سوال جاگتے ہیں۔ یہی زندہ جوہر کی علامت ہے۔
سالمات اور جمود:
“سالمات” سے مراد وہ چیزیں لی جا سکتی ہیں جو بظاہر درست اور محفوظ ہیں، مگر اندر سے ساکن ہیں۔ زندگی کا ایک دھوکا یہ بھی ہوتا ہے کہ آدمی سمجھتا ہے کہ چونکہ سب کچھ بظاہر ترتیب میں ہے، اس لیے سب کچھ ٹھیک ہے۔ مگر بہت سی سلامت چیزیں اندر سے بے جان بھی ہو سکتی ہیں۔ اقبال کے نزدیک اصل سوال صرف سلامت رہنا نہیں، باحیات رہنا ہے۔ اس لیے وہ ایسی تاثیر چاہتے ہیں جو جمود کے سکون کو توڑ دے اور زندگی کا ذوق پیدا کرے۔
یہ نکتہ دینی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر اہم ہے۔ ایک امت میں ظاہری ڈھانچے، ادارے، روایات اور الفاظ باقی رہ سکتے ہیں، مگر اگر ان کے اندر حرکت، شوق اور نمو کا جوہر نہ رہے تو وہ “سالم” ہو کر بھی کمزور رہ جاتی ہے۔ اقبال اسی سلامت جمود کو مضطرب حیات میں بدلنا چاہتے ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج ہمارے زمانے میں دو انتہائیں عام ہیں: ایک طرف ایسی سختی جس میں نمی کم ہے، اور دوسری طرف ایسی نرمی جس میں حرکت کم ہے۔ کہیں اصول ہیں مگر دل نہیں، کہیں دل ہے مگر سمت نہیں۔ اقبال اس شعر میں یاد دلاتے ہیں کہ جوہرِ صحیح میں دونوں جمع ہوتے ہیں: رطوبت بھی اور اضطراب بھی۔ ہمیں اپنی تربیت، اپنی دعوت، اپنے علم اور اپنی ذاتی زندگی میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کہیں ہم خشک تو نہیں ہو گئے، اور کہیں ہم جمود کو سلامت سمجھ کر بیٹھ تو نہیں گئے۔
یہ شعر امید بھی دیتا ہے، کیونکہ زندہ جوہر کی تاثیر دوسروں تک پہنچتی ہے۔ اگر انسان اپنے اندر عنصر نم پیدا کرے اور اپنے شوق کو صحیح سمت دے تو وہ صرف خود نہیں سنورتا، دوسروں کے دلوں میں بھی حرکت پیدا کر سکتا ہے۔ یہی زندہ تہذیب کی پہچان ہے: اس میں نرمی بھی ہو اور بیداری بھی۔
مثال
جیسے بارش کی نمی صرف زمین کو تر نہیں کرتی بلکہ سوئے ہوئے بیج کو بھی جاگنے اور پھوٹنے پر مجبور کر دیتی ہے، ویسے ہی زندہ جوہر کی لطیف تاثیر جمود کو حرکت میں بدل دیتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ حقیقی حیات کے جوہر میں زندگی بخش نمی اور آگے بڑھانے والی بے قراری دونوں شامل ہیں۔ یہی توازن فرد اور جماعت دونوں کو جمود سے نکال کر نمو کی طرف لے جاتا ہے۔