رموز بے خودی

هست دین مصطفی دین حیات

هست دین مصطفی دین حیات

شرع او تفسیر آئین حیات

ترجمہ

دینِ مصطفی زندگی کا دین ہے، اور اس کی شریعت زندگی کے آئین کی تفسیر ہے۔

تشریح

یہ شعر اس پوری بحث کا مرکزی نکتہ سامنے رکھ دیتا ہے۔ اقبال صاف اعلان کرتے ہیں کہ دینِ مصطفی محض رسومات، خشک قوانین، یا گوشہ نشینی کا مذہب نہیں، بلکہ زندگی کا دین ہے۔ مزید یہ کہ اس کی شریعت زندگی کے آئین کی تفسیر ہے۔ یعنی زندگی کا جو حقیقی قانون، جو فطری نظم، جو انسانی بقا، ترقی، توازن اور قوت کا راز ہے، شریعت اسی کو واضح کرتی ہے۔ اس طرح اقبال دین اور زندگی کو الگ الگ خانوں میں نہیں رکھتے، بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو پہلو قرار دیتے ہیں۔

اقبال کے نزدیک اگر دین کو صرف عبادت گاہ تک محدود کر دیا جائے، اگر شریعت کو محض ممنوعات کی فہرست سمجھ لیا جائے، یا اگر ایمان کو عملی زندگی سے جدا کر دیا جائے، تو دین کی اصل روح کھو جاتی ہے۔ دینِ مصطفی انسان کو زندہ، متحرک، منظم، باکردار، صاحبِ مقصد اور باہمت بناتا ہے۔ اسی لیے اس کے احکام محض روکنے کے لیے نہیں بلکہ زندگی کو صحیح رخ دینے کے لیے ہیں۔

دینِ حیات کا مطلب:

زندگی یہاں صرف سانس لینے یا معاشی بقا کا نام نہیں۔ اقبال کی زبان میں حیات وہ زندہ کیفیت ہے جس میں شعور ہو، مقصد ہو، حرکت ہو، محبت ہو، جرأت ہو، اور باطن میں خدا سے نسبت ہو۔ جو دین ایسی زندگی پیدا نہ کرے وہ اقبال کی نظر میں ابھی اپنی اصل تاثیر میں نہیں سمجھا گیا۔ دینِ مصطفی کا کمال یہ ہے کہ وہ انسان کو فرداً بھی بیدار کرتا ہے اور ملّتاً بھی۔ وہ دل کو بھی زندگی دیتا ہے اور اجتماعی نظام کو بھی۔

اسی لیے اقبال نے اس سے پہلے خطرات میں جینے، بڑی رکاوٹوں سے الجھنے، پست عادتوں سے بچنے اور عمل سے شخصیت بنانے کی بات کی۔ اب وہ واضح کر رہے ہیں کہ یہ سب کسی حادثاتی اخلاقیات کا حصہ نہیں، بلکہ اسی “دینِ حیات” کی تفصیل ہیں۔

شریعت بطور تفسیر:

“تفسیر آئین حیات” ایک بہت گہرا فقرہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شریعت زندگی کے اصل قانون کو سمجھاتی ہے۔ زندگی کس طرح پختہ ہوتی ہے؟ کون سی عادت اسے کمزور کرتی ہے؟ نظم کیوں ضروری ہے؟ قربانی کیوں ضروری ہے؟ عدل، امانت، پاکیزگی، ضبط، عبادت، جہاد، محبت اور خدمت سب کا آپس میں کیا ربط ہے؟ شریعت ان سوالات کا عملی جواب ہے۔

گویا شریعت زندگی پر کوئی بیرونی بوجھ نہیں، بلکہ زندگی کی اصل بناوٹ کی ترجمان ہے۔ جیسے کوئی ماہر انسان کے جسمانی نظام کو سمجھا کر صحت کا اصول بتاتا ہے، ویسے ہی شریعت انسانی روح، معاشرے، اخلاق اور تہذیب کے لیے صحت مند زندگی کا نظام بیان کرتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج دین کو یا تو صرف شخصی معاملہ بنا دیا جاتا ہے، یا صرف قانونی بحث، یا صرف جذباتی وابستگی۔ اقبال ان سب جزوی تعبیرات سے آگے لے جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دین کو زندگی کے مرکز میں سمجھو۔ اگر تم دیکھنا چاہتے ہو کہ دین کیا ہے تو یہ دیکھو کہ وہ انسان میں کیسی زندگی پیدا کرتا ہے۔ کیا وہ اسے بیدار کرتا ہے یا سلاتا ہے؟ کیا وہ اسے ذمہ دار بناتا ہے یا بے فکر؟ کیا وہ اس میں حرکت پیدا کرتا ہے یا جمود؟

یہ شعر ہمیں دعوت دیتا ہے کہ شریعت کو خوف یا تنگی کے تصور سے نہیں بلکہ زندگی کی تعمیر، توازن اور وقار کے تصور سے سمجھیں۔ تب معلوم ہوگا کہ دینِ مصطفی دراصل انسانی حیات کو اس کے اعلی ترین معنی میں منظم کرنے آیا ہے۔

مثال

جیسے ایک مکمل نقشہ صرف راستہ نہیں دکھاتا بلکہ پورے شہر کی ساخت سمجھاتا ہے، ویسے ہی شریعت زندگی کے تمام شعبوں کو صحیح ترتیب دیتی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق دینِ مصطفی زندگی کا دین ہے، اور شریعت اسی زندگی کے صحیح نظام کی تشریح ہے۔ اس لیے دین کو جمود نہیں بلکہ حرکت، نظم اور بامقصد حیات کے آئینے میں سمجھنا چاہیے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button