رموز بے خودی

با تو گویم سر اسلام است شرع

با تو گویم سر اسلام است شرع

شرع آغاز است و انجام است شرع

ترجمہ

میں تجھ سے کہتا ہوں کہ اسلام کا راز شریعت ہے؛ شریعت ہی آغاز ہے اور شریعت ہی انجام ہے۔

تشریح

اس شعر میں علامہ اقبال شریعت کی حیثیت کو انتہائی دوٹوک الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اسلام کا “سر” یعنی اس کا راز، اس کی بنیاد، اس کی معنوی کلید اور اس کے ظاہری و باطنی نظام کا مرکز شریعت ہے۔ پھر وہ مزید کہتے ہیں کہ شریعت ہی آغاز ہے اور شریعت ہی انجام ہے۔ گویا اسلام کی ابتدا بھی اسی راہ سے ہوتی ہے، اس کی تربیت بھی اسی سے ہوتی ہے، اور اس کی تکمیل بھی اسی سے وابستہ رہتی ہے۔ شعر کے مطابق:

سرِ اسلام کیا ہے:

“سر” سے مراد راز، باطنی حقیقت اور وہ نکتہ ہے جس پر پوری عمارت قائم ہو۔ اقبال اس راز کو شریعت میں دیکھتے ہیں، کیونکہ انہی کے نزدیک شریعت وہ مقام ہے جہاں ایمان عملی صورت اختیار کرتا ہے، محبت نظم میں ڈھلتی ہے، اور فرد و ملت دونوں کو راستہ ملتا ہے۔ اگر اسلام کو صرف وجد، صرف نعرہ، یا صرف تہذیبی شناخت بنا دیا جائے تو اس کا اصل سر ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔

پس شریعت اسلام کی سطحی جلد نہیں بلکہ اس کی زندہ باطنی کلید بھی ہے۔

آغاز کیوں شریعت ہے:

انسان جب دین میں داخل ہوتا ہے تو سب سے پہلے اسے ایک راستہ چاہیے: کیسے جئے، کیسے عبادت کرے، کیسے پاک رہے، کیسے حلال و حرام پہچانے، کیسے تعلقات سنبھالے۔ یہ سب شریعت عطا کرتی ہے۔ اس معنی میں شریعت آغاز ہے، کیونکہ بندگی کا عملی سفر اسی سے شروع ہوتا ہے۔ دل کا اخلاص بھی عمل کے سانچے میں آ کر مضبوط ہوتا ہے۔

یعنی شریعت دروازہ بھی ہے اور راہ بھی۔

انجام بھی شریعت کیوں:

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ شریعت صرف ابتدا کے لیے ہے، اور جب انسان کسی باطنی مقام تک پہنچ جائے تو اس کے بعد وہ اس سے آزاد ہو سکتا ہے۔ اقبال اس خیال کو باطل قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انجام بھی شریعت ہے۔ یعنی قرب، معرفت، یقین، محبت، حکمت اور روحانی کمال سب اسی دائرے میں پختہ ہوتے ہیں، اس سے باہر نکل کر نہیں۔

جو انجام کو آغاز سے جدا کرتا ہے وہ دراصل دین کے جسم و جان کو الگ کر دیتا ہے۔

ظاہر و باطن کی وحدت:

یہ شعر اقبال کی فکری دنیا کا نہایت اہم اصول بیان کرتا ہے: اسلام کی حقیقت اور اس کی شریعت الگ الگ راستے نہیں ہیں۔ شریعت ہی وہ صورت ہے جس میں اسلام کی روح سانس لیتی ہے۔ اگر روح کو صورت سے جدا کیا جائے تو وہ بے قاعدہ دعویٰ بن جاتی ہے، اور اگر صورت کو روح سے جدا کیا جائے تو وہ خشک عادت بن جاتی ہے۔ اقبال کی نظر میں نجات اسی جمعیت میں ہے جہاں آغاز و انجام دونوں شریعت سے وابستہ ہوں۔

یہی جامعیت دین کو مکمل نظام بناتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج ایک عام غلطی یہ ہے کہ بعض لوگ شریعت کو ابتدائی درجے کی چیز سمجھتے ہیں اور دین کی “اصل روح” کے نام پر اس سے اوپر جانے کا دعویٰ کرتے ہیں، جبکہ بعض لوگ صرف ظاہری پابندیوں تک محدود رہتے ہیں۔ اقبال دونوں کو جوڑتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اسلام کا راز بھی شریعت ہے، ابتدا بھی، تکمیل بھی۔

یہ شعر ہمیں دین کو ٹکڑوں میں نہیں، ایک مکمل الٰہی راستے کے طور پر دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔

مثال

جیسے درخت بیج سے لے کر پھل تک ایک ہی جڑ کے ساتھ زندہ رہتا ہے، ویسے ہی اسلام بھی ابتدا سے انجام تک شریعت کے ربط میں زندہ رہتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں فرماتے ہیں کہ اسلام کا راز شریعت ہے، اور دین کا آغاز و انجام دونوں اسی سے وابستہ ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شریعت اسلام کی سطحی صورت نہیں بلکہ اس کی مسلسل زندہ حقیقت ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button