رموز بے خودی

فکر شان ریسد همی باریک تر

فکر شان ریسد همی باریک تر

ورعشان با مصطفی نزدیک تر

ترجمہ

ان بزرگوں کی فکر زیادہ باریک اور نفیس کاتتی تھی، اور ان کا ورع حضرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ قریب تھا۔

تشریح

اس شعر میں علامہ اقبال اسلاف کی پیروی کی ایک اور نہایت بلند بنیاد بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رفتگان اور پاکان کی محض عمر زیادہ نہ تھی، بلکہ ان کی فکر بھی زیادہ باریک، زیادہ لطیف اور زیادہ گہری تھی، اور ان کا ورع، یعنی خدا ترسی، احتیاط اور دینی نزاکت کا شعور، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و مزاج سے زیادہ قریب تھا۔ گویا ان کے ہاں عقل اور تقویٰ ایک دوسرے سے الگ نہ تھے۔ یہی وہ ترکیب ہے جو ان کے فہم کو وزن، توازن اور سلامتی عطا کرتی ہے۔ شعر کے مطابق:

فکر کا باریک ریسنا:

“ریسد” اور “باریک تر” کی ترکیب بڑی معنی خیز ہے۔ جیسے کوئی ماہر ریسہ کاتنے والا خام مادے سے نفیس دھاگا نکالتا ہے، ویسے ہی اکابر کی فکر نصوص، تاریخ، تجربہ، اخلاق اور امت کے وسیع تر خیر سے باریک نتائج نکالتی تھی۔ ان کا غور سرسری نہ تھا۔ وہ مسئلے کے ظاہر پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ اس کے باطن، اس کے لوازم، اس کے مآلات اور اس کے امت پر اثرات کو بھی دیکھتے تھے۔

اقبال کے نزدیک ایسی باریک فکر محض ذہانت سے پیدا نہیں ہوتی، بلکہ تربیت یافتہ عقل، صبر اور ذمہ دار شعور سے پیدا ہوتی ہے۔

فکر اور سطحیت کا فرق:

انحطاط کے زمانے میں اکثر فکر موٹی، جلد باز اور سطحی ہو جاتی ہے۔ لوگ بڑے سوالات کو چھوٹے پیمانوں سے ناپنے لگتے ہیں، فوری فائدے کو اصل خیر سمجھ لیتے ہیں، اور جزئیات کے شور میں کلیات کا وزن کھو بیٹھتے ہیں۔ اس کے برعکس اقبال اکابر کی فکر کو “باریک تر” کہتے ہیں، کیونکہ ان کے ہاں علم میں تہہ تھی، نظر میں توازن تھا، اور مسئلے کو کھولنے میں عجلت نہ تھی۔

یہی باریکی انہیں ایسے فیصلوں تک پہنچاتی تھی جو صرف وقتی نہیں بلکہ دیر پا ہوتے تھے۔

ورع کا مقام:

دوسری سطر میں اقبال “ورع” کو سامنے لاتے ہیں۔ ورع صرف حرام سے بچنا نہیں، بلکہ ایسی حساس دینی بیداری ہے جس میں آدمی مشتبہ، مضر اور دل کو تاریک کرنے والی چیزوں سے بھی بچتا ہے۔ یہ خشیت، حیا، باطنی صفائی اور شریعت کے آداب کے ساتھ جڑا ہوا وصف ہے۔ جب اقبال کہتے ہیں کہ ان کا ورع مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ قریب تھا، تو وہ ان کے باطن کی نبوی نسبت کو سراہتے ہیں۔

یعنی ان کی عقل صرف ذہنی نہ تھی، نبوی اخلاق اور خوفِ خدا سے منور بھی تھی۔

عقل اور ورع کی باہمی نسبت:

اس شعر کا سب سے اہم نکتہ یہی ہے کہ باریک فکر اور ورع ایک ساتھ چل رہے ہیں۔ اگر فکر باریک ہو مگر ورع نہ ہو تو ذہانت مکاری یا خود رائی میں بدل سکتی ہے۔ اور اگر ورع کا دعویٰ ہو مگر فکر کمزور ہو تو آدمی پیچیدہ مسائل میں رہنمائی نہ دے سکے گا۔ اسلاف کی عظمت یہ تھی کہ ان کے ہاں بصیرت اور پاکیزگی، دونوں جمع تھے۔

اسی لیے اقبال کے نزدیک ان کی اقتدا اندھا پن نہیں بلکہ حکمت کا انتخاب ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج دینی گفتگو میں یا تو محض ذہانت کو بڑا سمجھ لیا جاتا ہے یا صرف ظاہری دینداری کو۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ امت کو ایسے فہم کی ضرورت ہے جو نفیس بھی ہو اور پاک بھی، عمیق بھی ہو اور نبوی مزاج سے جڑا ہوا بھی۔ اگر فکر باریک نہ ہو تو فیصلے سادہ لوح بن جاتے ہیں، اور اگر ورع نہ ہو تو فیصلے نفسانی آلودگی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

اسلاف کی طرف رجوع کا مطلب یہی ہے کہ ہم اس عقل و ورع کی جمعیت سے دوبارہ رشتہ قائم کریں۔

مثال

جیسے ایک ماہر سنار سونے کو بہت باریک تراش بھی سکتا ہے اور اس کی اصل کو ضائع بھی نہیں ہونے دیتا، ویسے ہی اکابر کی فکر باریک بھی تھی اور دیانت سے محفوظ بھی۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں اسلاف کی دو بنیادی صفات بیان کرتے ہیں: ان کی فکر نہایت نفیس اور گہری تھی، اور ان کا ورع نبوی مزاج کے زیادہ قریب تھا۔ اسی وجہ سے ان کی راہ انحطاط کے دور میں زیادہ قابلِ اعتماد بنتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button