رموز بے خودی

خوشتر از آهو رم جمازه اش

خوشتر از آهو رم جمازه اش

گرم چون آتش دم جمازه اش

ترجمہ

اس کے جمازے کی دوڑ ہرن سے بھی زیادہ سبک اور خوش رفتار تھی، اور اس کا دم آگ کی طرح گرم تھا۔

تشریح

یہ شعر پچھلے صحرائی انسان کی تصویر کو حرکت، حرارت اور رفتار کے ساتھ مکمل کرتا ہے۔ اقبال “جمازه” کے ذریعے اس سواری، اس نقل و حرکت اور اس صحرائی طرزِ زندگی کی علامت لاتے ہیں جو بدوی انسان کی فطرت کا حصہ تھی۔ اس کی دوڑ ہرن سے زیادہ خوش رفتار ہے، اور اس کا سانس آگ کی طرح گرم۔ گویا یہ ایک ایسا ماحول ہے جہاں زندگی ساکن نہیں بلکہ مسلسل حرکت میں ہے، جہاں جسمانی طاقت، سفر، جفاکشی اور گرم خون زندگی کی بنیادی حقیقتیں ہیں۔ اقبال اسی خام حیاتی قوت کو بعد میں قرآنی تربیت کے تحت تہذیبی اور روحانی قوت میں بدلتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ شعر کے مطابق:

جمازه کی علامت:

جمازه عربی صحرائی سواری کی علامت ہے، اور یہاں یہ صرف ایک جانور نہیں بلکہ پورے صحراوی مزاج کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس میں سفر ہے، سرعت ہے، بے قراری ہے، اور فاصلوں کو چیرنے کی طاقت ہے۔ اقبال اس علامت کو اس لیے لاتے ہیں کہ بدوی انسان کی فطرت میں سستی، جمود اور آرام طلبی نہیں تھی؛ اس کے اندر حرکت اور قوت پہلے سے موجود تھی۔

لیکن یہ حرکت اپنی خام حالت میں صرف بقا کی حرکت تھی۔ قرآن نے آ کر اسے مقصدی حرکت، دعوتی سفر اور تاریخ ساز جہد میں بدل دیا۔

آہو سے خوشتر رم:

ہرن کی دوڑ لطافت، سبک روی اور قدرتی چستی کی علامت ہے۔ جب اقبال کہتے ہیں کہ اس جمازے کی رم آہو سے بھی خوشتر ہے تو وہ صحرائی زندگی کی اس قوت کو بیان کرتے ہیں جو نہ صرف سخت ہے بلکہ خوبصورت بھی ہے۔ اس میں محض وحشت نہیں، ایک جمالیاتی توانائی بھی ہے۔

یہ نکتہ اہم ہے، کیونکہ اقبال صحراوی زندگی کو محض وحشیانہ نہیں دکھاتے۔ وہ اس میں خام حسن، طبیعی قوت اور ایک غیر مصنوعی حرارت کو بھی دیکھتے ہیں، جو بعد میں وحی کے لمس سے نئی شان اختیار کرتی ہے۔

آتش کی طرح گرم دم:

“گرم چون آتش دم جمازه اش” میں حرارت، جوش، توانائی اور مسلسل حرکت کا تصور ہے۔ صحرا کی زندگی سرد اور سست نہیں بلکہ آگ کی طرح گرم ہے۔ یہ گرمی طبیعت کے اندر بھی ہے، رفتار میں بھی، اور ماحول میں بھی۔ اقبال کے نزدیک یہی حرارت اگر بے مرکز رہے تو محض بدویت رہ جاتی ہے، لیکن اگر قرآن کے نور سے جڑ جائے تو یہ دنیا بدلنے والی قوت بن سکتی ہے۔

قرآن نے اسی گرم دم کو نظم دیا، اسی سرعت کو مقصد دیا، اور اسی حرکت کو اخلاقی جہت عطا کی۔

قدرتی قوت سے تہذیبی قوت تک:

یہ شعر بتاتا ہے کہ اسلام نے کسی مردہ، بے حرکت یا مضمحل قوم سے اپنا سفر شروع نہیں کیا۔ اس نے ایک زندہ، پرحرارت، متحرک اور سخت جان انسانی مادہ پایا، اور پھر اس کے اندر ایک آسمانی مرکز داخل کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنی امت کی تشکیل میں رفتار بھی تھی، وسعت بھی، جہد بھی اور تاریخ سازی بھی۔

اقبال یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ فطری قوت اگر وحی سے مربوط ہو جائے تو اس کی تاثیر کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج امت کے اندر بھی بہت سی قوتیں، بے قراری، نوجوانی کا جوش اور حرکت کی خواہش موجود ہے۔ مگر اگر یہ سب قرآنی مقصد سے نہ جڑے ہوں تو یہ طاقت کبھی تھکن، کبھی انتشار، اور کبھی بے راہ تصادم میں ضائع ہو سکتی ہے۔ اقبال کا شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ حرکت خود کافی نہیں، اس کا ربانی مرکز بھی چاہیے۔

اگر ہماری رفتار قرآن سے جڑ جائے تو ہماری حرارت بھی نفع بخش ہوگی اور ہماری قوت بھی تعمیر کا ذریعہ بنے گی۔

مثال

جیسے ایک تیز رفتار گاڑی اگر درست سمت اور مضبوط اسٹیئرنگ کے ساتھ ہو تو منزل تک جلد پہنچاتی ہے، مگر سمت کے بغیر خطرہ بن جاتی ہے، ویسے ہی خام قوت کو بھی ربانی رہنمائی چاہیے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں صحرائی عرب کی فطری رفتار، حرارت اور قوت کو بیان کرتے ہیں۔ یہی خام حیاتی توانائی جب قرآن کے تابع ہوئی تو تاریخ ساز اور تہذیب ساز قوت میں بدل گئی۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button