آن جگر تاب بیابان کم آب
آن جگر تاب بیابان کم آب
چشم او احمر ز سوز آفتاب
ترجمہ
وہ کم پانی والے بیابان کا جگر تاب انسان، جس کی آنکھ سورج کی تپش سے سرخ ہو چکی تھی۔
تشریح
اس شعر میں علامہ اقبال عربِ بدوی کی اس ابتدائی انسانی صورت کو سامنے لاتے ہیں جس میں سختی، قلت، پیاس اور صحرائی زندگی کی مشقت موجود ہے۔ “جگر تاب” یعنی دلیر، سخت جان، برداشت رکھنے والا؛ “بیابان کم آب” یعنی ایسا ماحول جہاں فراوانی نہیں بلکہ تنگی ہے؛ اور “چشم او احمر ز سوز آفتاب” یعنی سورج کی شدت نے اس کی آنکھ کو سرخ کر دیا ہے۔ اقبال اس تصویر کے ذریعے یہ بتاتے ہیں کہ قرآن کا معجزہ کسی آسودہ، کتابی اور ناز پروردہ طبقے پر نہیں اترا، بلکہ ایک ایسے انسان پر اثر انداز ہوا جو اپنی طبیعی ساخت میں سخت، خام اور صحرائی تھا۔ شعر کے مطابق:
جگر تاب کا مفہوم:
جگر تاب ہونے کا مطلب محض بہادر ہونا نہیں، بلکہ سختیوں کو سہنے کی قوت رکھنا بھی ہے۔ عربِ بدوی کا یہ وصف اسے کمزور نہیں بلکہ قابلِ تربیت خام مادہ بناتا ہے۔ اقبال کے نزدیک بعض اوقات سخت ماحول انسان کے اندر وہ حوصلہ پیدا کر دیتا ہے جو بعد میں بڑی ذمہ داری اٹھانے کے قابل بنتا ہے۔
مگر یہ حوصلہ اپنی خام حالت میں صرف بقا کا حوصلہ ہوتا ہے۔ قرآن آ کر اسی خام سختی کو اخلاقی قوت، ایمانی استقامت اور تہذیبی ذمہ داری میں بدلتا ہے۔
بیابانِ کم آب:
صحرائے کم آب صرف جغرافیہ نہیں، ایک تہذیبی کمی کا استعارہ بھی بن سکتا ہے۔ جہاں وسائل کم ہوں، آرام کم ہو، علمی مراکز محدود ہوں اور زندگی بقا کی سخت آزمائشوں میں گزرے، وہاں انسان کی شخصیت ایک خاص انداز میں بنتی ہے۔ اقبال اسی سادہ، غیر متکلف اور سخت ماحول کو یاد دلاتے ہیں تاکہ دکھا سکیں کہ قرآن کی روشنی نے کن حالات سے اٹھا کر ایک عظیم امت بنائی۔
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حق کے انقلاب کے لیے لازماً آسودگی، کثرت یا دنیاوی سہولتیں شرط نہیں ہوتیں۔ بعض اوقات سب سے بڑی تاریخ انہی کم آبی بیابانوں سے اٹھتی ہے۔
احمر آنکھ:
سورج کی تپش سے سرخ آنکھ ایک سخت، جلتی ہوئی زندگی کی علامت ہے۔ اس میں تھکن بھی ہے، حدت بھی، آزمائش بھی۔ اقبال گویا بدوی انسان کے چہرے پر زمانے کی دھوپ دکھا رہے ہیں۔ یہ وہ انسان ہے جس کے پاس ابھی کتابی تہذیب کی نرمی نہیں، لیکن اس کے اندر قدرتی برداشت اور غیر معمولی قوتِ بقا موجود ہے۔
قرآن اسی آدمی کی آنکھ میں ایک نئی روشنی لاتا ہے۔ اب وہ صرف دھوپ کی سرخی نہیں رکھتا، بلکہ وحی کا نور بھی اپنے باطن میں لے لیتا ہے۔
خام مادہ اور الٰہی تربیت:
یہ شعر دراصل اقبال کے اس بڑے تصور کو واضح کرتا ہے کہ اسلام نے انسان کو خلا سے پیدا نہیں کیا، بلکہ موجود خام انسانی مواد کو ایک اعلیٰ معنی میں ڈھالا۔ عرب میں حوصلہ تھا، سفر تھا، صبر تھا، سختی تھی؛ مگر مقصدی نور کم تھا۔ قرآن نے ان اوصاف کو ضائع نہیں کیا بلکہ انہیں ایک نئی اخلاقی اور روحانی شکل دے دی۔
یہی وجہ ہے کہ بعد کے اشعار میں یہی صحرائی انسان تاریخ ساز بن کر سامنے آتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بہت سے لوگ اپنی پسماندگی، محرومی یا سخت حالات کو صرف رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ اقبال کا یہ شعر یاد دلاتا ہے کہ سخت ماحول خامی ضرور ہے، مگر اگر صحیح تربیت مل جائے تو یہی سختی عظیم کردار کا سرمایہ بن سکتی ہے۔ اصل سوال ماحول نہیں، اس ماحول پر نازل ہونے والا نور ہے۔
اگر امت اپنی موجودہ سختیوں کو قرآنی تربیت کے ساتھ جوڑ لے تو اسی تپش سے نئی استقامت اور نئی تہذیبی قوت پیدا ہو سکتی ہے۔
مثال
جیسے سخت پتھر اگر ماہر ہاتھ میں آ جائے تو مضبوط عمارت کی بنیاد بن سکتا ہے، ویسے ہی صحرائی سختی بھی وحی کے زیر اثر عظیم کردار کی بنیاد بن سکتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں صحرائی عرب کی سخت، پیاسی اور آفتاب زدہ زندگی کی تصویر پیش کرتے ہیں تاکہ دکھا سکیں کہ قرآن نے کس خام مگر طاقتور انسانی مادے کو ایک نئی روح اور نئی سمت دی۔