رموز بے خودی

هستی مسلم ز آئین است و بس

هستی مسلم ز آئین است و بس

باطن دین نبی این است و بس

ترجمہ

مسلمان کی حقیقی ہستی اسی آئین سے قائم ہے، اور دینِ نبی کا باطن بھی یہی ہے اور بس۔

تشریح

پہلے شعر میں اقبال نے ملت کے بکھرنے کا سبب آئین سے دوری کو قرار دیا تھا، اس شعر میں وہ اس سے بھی زیادہ بنیادی بات کہتے ہیں: مسلمان کی ہستی ہی آئین سے ہے۔ یعنی اسلام میں ایمان کوئی بے صورت دعویٰ نہیں، نہ دین محض چند رسوم کا مجموعہ ہے، بلکہ اس کا باطن ایک ایسے اصولی نظم میں ظاہر ہوتا ہے جو انسان کے اعتقاد، اخلاق، عمل، تعلقات اور اجتماعی زندگی سب کو ایک مرکز سے جوڑ دیتا ہے۔ اقبال کے نزدیک ملتِ مسلمہ کا وجود اسی آئینی ربط سے ہے، اور یہی دینِ محمدی کے باطن کی اصل روح ہے۔ شعر کے مطابق:

ہستیِ مسلم کا راز:

“هستی مسلم” سے مراد صرف کسی مسلمان فرد کی نامی شناخت نہیں بلکہ اس کی حقیقی شخصیت، اس کی خودی، اس کی اجتماعی نسبت اور اس کی تاریخی معنویت ہے۔ اقبال بتاتے ہیں کہ مسلمان کی یہ ہستی کسی نسلی فخر، قومی رنگ یا دنیاوی طاقت سے نہیں بنتی۔ اس کا وجود اس آئین سے بنتا ہے جو اسے خدا کے تابع کرتا، اس کی خواہشات کو نظم دیتا اور اسے ایک بڑے ایمانی اجتماع سے جوڑتا ہے۔

اگر یہ آئین نکل جائے تو مسلمان صرف نام میں مسلمان رہ جاتا ہے۔ اس کی حرکات، ترجیحات اور زندگی کے فیصلے پھر کسی اور مرکز کے تابع ہو جاتے ہیں، اور اس کی اصل ہستی مدہم پڑنے لگتی ہے۔

باطنِ دین:

اقبال کہتے ہیں کہ “باطن دین نبی این است و بس”۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دین کا اندرونی جوہر محض وجدانی احساس یا بے قاعدہ روحانیت نہیں، بلکہ ایک زندہ اطاعت اور منظم وابستگی ہے۔ دینِ نبی انسان کو خدا سے جوڑتا ہے، مگر یہ تعلق زندگی سے الگ کسی گوشے میں محدود نہیں رہتا۔ وہ معاملات، اخلاق، اجتماع، عدل، محبت، جہاد، عبادت اور فکر سب کو اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے۔

یہی باطن اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب زندگی آئین کے تابع ہو۔ اگر دین کو صرف جذبے یا رسم تک محدود کر دیا جائے تو اس کا باطن چھپ جاتا ہے اور صرف کھوکھلا ظاہر رہ جاتا ہے۔

آئین اور روحانیت:

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ضابطہ، نظم اور اطاعت شاید روح کی آزادی کے خلاف ہیں۔ اقبال اس شعر سے اس غلط فہمی کو رد کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک حقیقی روحانیت بے مہار ہونا نہیں بلکہ حق کے تابع ہو کر اپنے بکھرے ہوئے وجود کو جمع کرنا ہے۔ آئین مسلمان کی آزادی کو ختم نہیں کرتا، اسے مقصد عطا کرتا ہے؛ اس کی قوت کو دباتا نہیں، اسے درست سمت دیتا ہے۔

اسی لیے اقبال دین کے باطن کو آئین سے جوڑتے ہیں۔ ان کے ہاں روح اور نظم ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔

فرد اور ملت کا ربط:

یہ شعر فرد اور جماعت کو بھی ایک دوسرے سے مربوط کرتا ہے۔ مسلمان کی انفرادی ہستی اسی وقت پوری ہوتی ہے جب وہ اس آئین سے جڑا ہو جو پوری ملت کو جوڑتا ہے۔ وہ تنہا اپنے ذاتی مذہبی احساس سے مکمل نہیں ہو جاتا، بلکہ اس کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے جب وہ ایک بڑے ایمانی نظام کا شعوری حصہ بنے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں تنہائی پسند دینداری کافی نہیں۔ باطنِ دین کی سچائی اس وقت پوری روشن ہوتی ہے جب وہ انفرادی تقویٰ کے ساتھ اجتماعی نظم میں بھی ڈھل جائے۔

آج کے لیے سبق:

آج بہت سے مسلمانوں کے ہاں دین ایک جذباتی وابستگی تو ہے، مگر زندگی کے مکمل آئین کی حیثیت سے کمزور ہو چکا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ عبادت الگ، معیشت الگ، سیاست الگ، اخلاق الگ اور تہذیب الگ سمتوں میں چل پڑتے ہیں۔ اقبال کا شعر یاد دلاتا ہے کہ مسلمان کی اصل ہستی اسی وقت محفوظ رہتی ہے جب اس کی پوری زندگی ایک ہی حقانی مرکز سے نظم پائے۔

اگر ہم دین کے باطن کو پانا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کے آئین کو صرف ماننا نہیں، جینا ہوگا۔ یہی مسلمان کی بقا اور اس کی خودی کی تکمیل کا راستہ ہے۔

مثال

جیسے ایک دریا کی حقیقت اس کے بہاؤ، راستے اور منبع سے وابستہ ہوتی ہے، ورنہ وہ پانی کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں میں بدل جائے، ویسے ہی مسلمان کی ہستی بھی آئین کے بغیر منتشر ہو جاتی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک مسلمان کی حقیقی ہستی اور دینِ نبی کا باطن ایک ہی حقیقت سے وابستہ ہے: وہ آئین جو ایمان کو پوری زندگی میں نافذ کرتا ہے۔ اس آئین کے بغیر نہ فرد کی خودی مکمل رہتی ہے نہ ملت کا وجود مستحکم۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button