رموز بے خودی

ذکر قائم از قیام ذاکر است

ذکر قائم از قیام ذاکر است

از دوام او دوام ذاکر است

ترجمہ

ذکر ذاکر کے قیام سے قائم رہتا ہے، اور اسی ذکر کے دوام سے ذاکر کو بھی دوام حاصل ہوتا ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں ذکر اور ذاکر کے درمیان ایک نہایت لطیف اور گہرا باہمی تعلق بیان کرتے ہیں۔ امتِ مسلمہ کی بقا محض کسی کتاب کے موجود رہنے یا کسی رسم کے جاری رہنے سے نہیں ہوتی، بلکہ اس وقت ہوتی ہے جب زندہ انسان ذکر کو اپنے وجود میں قائم کریں۔ ساتھ ہی ذکر خود ان انسانوں کو پائیداری، معنی اور حیات عطا کرتا ہے۔ گویا ذکر اور ذاکر کے درمیان ایک زندہ دور ہے: ذاکر کے قیام سے ذکر ظاہر رہتا ہے، اور ذکر کے دوام سے ذاکر کی روحانی بقا قائم رہتی ہے۔ شعر کے مطابق:

ذکر کا قائم رہنا:

ذکر محض الفاظ کی تکرار نہیں، بلکہ خدا کی یاد، اس کی اطاعت، اس کے حضور بیداری اور اس کے حکم کے ساتھ زندہ تعلق کا نام ہے۔ اقبال کے نزدیک اگر ذکر صرف کاغذ میں محفوظ ہو مگر دلوں میں نہ اترے، زبانوں پر ہو مگر کردار میں نہ آئے، تو وہ اپنے کامل معنی میں قائم نہیں رہتا۔ ذکر کے قائم رہنے کے لیے ذاکر کا اٹھنا، کھڑا ہونا اور اسے اپنے عمل میں ظاہر کرنا ضروری ہے۔

اسی لیے انہوں نے “قیام” کا لفظ استعمال کیا۔ قیام میں استقامت بھی ہے، شعوری بیداری بھی، اور عملی ثبات بھی۔ یعنی ذکر اس وقت واقعی زندہ رہتا ہے جب ایسے انسان موجود ہوں جو اس کے ساتھ کھڑے ہوں، اسے جئیں، اس کی گواہی دیں اور اسے آگے منتقل کریں۔

ذاکر کی بقا کیسے ہوتی ہے:

دوسری سطر میں اقبال بتاتے ہیں کہ جس طرح ذکر ذاکر سے قائم ہوتا ہے، اسی طرح ذاکر بھی ذکر سے دوام پاتا ہے۔ انسان اپنی ذات میں فانی ہے، جلد تھک جاتا ہے، بکھر جاتا ہے اور حالات سے مغلوب ہو جاتا ہے۔ لیکن جب وہ ذکر کے ساتھ جڑتا ہے تو اسے ایک ایسی روحانی غذا ملتی ہے جو اسے ذاتی محدودیتوں سے اوپر اٹھاتی ہے۔

گویا ذکر صرف ذمہ داری نہیں، زندگی کا سرچشمہ بھی ہے۔ جو ذاکر خدا کی یاد میں جیتا ہے، وہ اپنی فانی ذات سے بڑی حقیقت کے ساتھ جڑ کر ایک طرح کی پائیداری حاصل کرتا ہے۔ اس کا اثر، اس کی نسل سازی، اس کی دعوت اور اس کا کردار زمانے سے آگے بڑھ جاتا ہے۔

امت کی بقا کا راز:

اس شعر کو امت کے تناظر میں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ملت کی حیات اس دو طرفہ رشتے پر قائم ہے۔ اگر ذاکر نہ رہیں تو ذکر کی اجتماعی شہادت کمزور پڑ جاتی ہے، اور اگر ذکر کمزور ہو جائے تو ذاکر کی روح بھی کمزور ہو جاتی ہے۔ اسی لیے امت کی بقا صرف اداروں یا قوانین سے نہیں بلکہ ایسے زندہ انسانوں سے ہے جو ذکر کو اپنی زندگی کا مرکز بنائیں۔

یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں جب بھی ذکر کی مجالس، تلاوت کی روح، نماز کی حرارت، دعا کی سچائی اور اخلاقی بیداری کمزور ہوئی، امت کا اجتماعی حال بھی کمزور ہوا۔ اور جب ذکر زندہ ہوا تو نئی روح پیدا ہوئی۔

قیام کا اجتماعی معنی:

“قیام” صرف فردی عبادت تک محدود نہیں۔ اس میں وہ پورا اجتماعی ڈھانچہ شامل ہے جو خدا کی یاد کو زندگی کے مرکز میں رکھتا ہے۔ تعلیم میں، سیاست میں، معیشت میں، عدالت میں اور معاشرت میں اگر خدا کی یاد اور جواب دہی کا شعور قائم رہے تو ذکر اجتماعی صورت اختیار کرتا ہے۔ اس وقت ذاکر بھی ایک زندہ تہذیب بن جاتے ہیں۔

اقبال کے نزدیک امت کی قوت اس وقت بنتی ہے جب ذکر خانقاہ سے نکل کر کردار، علم اور اجتماعی انصاف میں ڈھل جائے۔

آج کے لیے سبق:

آج ہمارا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ذکر کو یا تو محض رسمی بنا دیا گیا ہے یا ذاتی دائرے میں محدود کر دیا گیا ہے۔ اقبال اس شعر سے یاد دلاتے ہیں کہ اگر ذکر کو قائم رکھنا ہے تو ذاکر کو اٹھنا ہوگا، اور اگر ذاکر کو بقا چاہیے تو اسے ذکر سے اپنا رشتہ تازہ کرنا ہوگا۔

اس کا مطلب ہے کہ امت کو ایسے افراد، گھر، مدارس، مساجد اور اجتماعی ادارے پیدا کرنے ہوں گے جن کے اندر خدا کی یاد صرف لفظ نہ ہو بلکہ ایک زندہ نظمِ حیات بن جائے۔

مثال

جیسے چراغ خود بھی روشنی دیتا ہے اور تیل و شعلہ مل کر خود چراغ کو بھی قائم رکھتے ہیں، ویسے ہی ذاکر ذکر کو دنیا میں نمایاں کرتا ہے اور ذکر ذاکر کی روحانی روشنی کو بجھنے نہیں دیتا۔ یہ باہمی تعلق ہی حیات کا راز ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک ذکر اور ذاکر ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ ذاکر کے قیام سے ذکر دنیا میں زندہ رہتا ہے، اور ذکر کے دوام سے ذاکر کو معنی، قوت اور بقا ملتی ہے۔ امتِ مسلمہ کی حیات بھی اسی زندہ تعلق پر قائم ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button