امت مسلم ز آیات خداست
امت مسلم ز آیات خداست
اصلش از هنگامه ی «قالوا بلی» ست
ترجمہ
مسلمان امت خدا کی نشانیوں میں سے ہے، اور اس کی اصل اس عہد سے ہے جب ارواح نے کہا تھا: ہاں، تو ہی ہمارا رب ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں امتِ مسلمہ کی حقیقت کو محض تاریخی، نسلی یا سیاسی اجتماع سے بلند کر کے ایک الٰہی سطح پر لے جاتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ امت کوئی اتفاقی انسانی ہجوم نہیں بلکہ “آیات خدا” میں سے ایک آیت ہے، یعنی خدا کے ظہورِ معنی، اس کی حکمت اور اس کے مقصد کی ایک زندہ علامت ہے۔ پھر اس کی اصل کو “قالوا بلی” کے عہد سے جوڑ کر یہ بتاتے ہیں کہ امت کی بنیاد اس ازلی اقرار میں ہے جس میں انسان نے اپنے رب کی ربوبیت کو مانا تھا۔ گویا امتِ مسلمہ کی حقیقت وقتی نہیں، عہدِ الست سے مربوط ہے۔ شعر کے مطابق:
آیاتِ خدا کا مفہوم:
آیت وہ نشانی ہوتی ہے جو اپنے سے بڑھ کر کسی حقیقت کی طرف رہنمائی کرے۔ کائنات کی چیزیں، تاریخ کے بعض واقعات اور وحی کے کلمات سب آیات ہیں۔ اقبال جب امتِ مسلمہ کو “آیات خدا” کہتے ہیں تو وہ اس کی عظمت کے ساتھ اس کی ذمہ داری بھی واضح کرتے ہیں۔ امت کا وجود خود اپنے لیے نہیں بلکہ خدا کی ایک بڑی معنوی حقیقت کی شہادت کے لیے ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ امت کی اصل قدر اس کی آبادی، جغرافیہ یا سیاسی قوت میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ وہ خدا کی یاد، خدا کی بندگی، خدا کے اخلاقی حکم اور خدا کے نور کی ایک اجتماعی علامت بنے۔ اگر وہ اس مقام کو پہچان لے تو اس کا وجود معنی خیز ہو جاتا ہے، اور اگر اسے بھول جائے تو وہ اپنے آپ کو محض دنیاوی پیمانوں میں گننے لگتی ہے۔
«قالوا بلی» سے نسبت:
“قالوا بلی” قرآن کے اس ازلی منظر کی طرف اشارہ ہے جہاں ارواح نے رب کی ربوبیت کا اقرار کیا تھا۔ اقبال اس حوالہ سے بتاتے ہیں کہ امت کی اصل کسی معاہدے، حکومت یا نسل سے نہیں بلکہ اس ازلی اقرار سے ہے۔ یعنی امتِ مسلمہ کی روح انسان کے اس بنیادی تعلق سے پیدا ہوتی ہے جو اسے اپنے رب سے حاصل ہے۔
یہ نسبت امت کو غیر معمولی گہرائی عطا کرتی ہے۔ اگر اس کی بنیاد عہدِ الست میں ہے تو اس کا مقصد محض دنیاوی تنظیم نہیں ہو سکتا۔ اسے انسان کو اس کے اصل ربانی عہد کی یاد دلانی ہے۔ اسی لیے اسلام میں امت محض سیاسی اکائی نہیں بلکہ ایک یادگارِ عہد ہے، جو انسان کو اس کے سب سے پہلے اقرار کی طرف بلاتی ہے۔
امت کی اصل تاریخ سے پہلے ہے:
عام قومیں اپنی اصل کو کسی جدِ امجد، کسی جنگ، کسی سرزمین یا کسی سیاسی حادثے سے جوڑتی ہیں۔ اقبال یہاں امتِ مسلمہ کو ان تمام پیمانوں سے بلند کر کے بتاتے ہیں کہ اس کی اصل تاریخ سے پہلے کی ہے۔ تاریخ میں اس کا ظہور بعد میں ہوا، مگر اس کی روحانی جڑ پہلے سے موجود تھی۔ اسی لیے یہ امت صرف ماضی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک امانت ہے جو زمانوں میں ظاہر ہوتی رہتی ہے۔
یہی نکتہ امت کے دوام کو سمجھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ جو چیز صرف تاریخ سے بنی ہو وہ تاریخ کے اتار چڑھاؤ میں بکھر سکتی ہے، مگر جو عہدِ الست سے جڑی ہو اس میں بار بار تازہ ہونے کی قوت ہوتی ہے۔
امت کا باطنی شرف:
اس شعر سے واضح ہوتا ہے کہ امت کی سچی عزت بیرونی غلبے سے نہیں بلکہ اپنی اصل کو پہچاننے سے ہے۔ جب امت اپنے آپ کو آیت سمجھے گی تو نمائندگی کے احساس کے ساتھ جئے گی؛ وہ جان لے گی کہ اس کے اخلاق، اس کی عبادت، اس کا علم اور اس کا اجتماعی کردار خدا کی طرف اشارہ کرنے والے ہونے چاہییں۔
اور جب وہ “قالوا بلی” سے اپنی نسبت سمجھے گی تو اسے معلوم ہوگا کہ اس کی بنیادی شناخت اطاعت، اقرار، بندگی اور ذمہ داری میں ہے، نہ کہ محض نام یا وراثت میں۔
آج کے لیے سبق:
آج امت کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ اپنی اصل کو بھول کر اپنی تعریف دوسروں کے بنائے ہوئے پیمانوں سے کرنے لگتی ہے۔ کبھی وہ صرف سیاسی طاقت میں اپنی نجات دیکھتی ہے، کبھی صرف معاشی ترقی میں، اور کبھی صرف شناختی شور میں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ امت کی اصل خدا کی آیت ہونا اور “قالوا بلی” کے عہد سے جڑا رہنا ہے۔
اگر یہ شعور زندہ ہو جائے تو تعلیم، سیاست، تہذیب، دعوت اور اجتماعی کردار سب میں ایک نئی پاکیزگی پیدا ہو سکتی ہے۔ امت پھر اپنے آپ کو دنیا میں محض ایک قوت نہیں بلکہ ایک شہادت سمجھے گی۔
مثال
جیسے ایک مسجد کی اصل قیمت اس کی عمارت میں نہیں بلکہ اس مقصد میں ہوتی ہے کہ وہ خدا کی یاد کا مرکز ہے۔ اگر اس کی عمارت باقی رہے مگر ذکر و سجدہ ختم ہو جائے تو وہ اپنا اصل مقام کھو دیتی ہے۔ اسی طرح امت کی اصل بھی اس کے ربانی اقرار اور خدائی شہادت میں ہے، محض اس کے نام اور اجتماع میں نہیں۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں امتِ مسلمہ کو خدا کی ایک آیت اور عہدِ الست کی وارث حقیقت قرار دیتے ہیں۔ اس کی اصل نہ نسل میں ہے نہ جغرافیہ میں، بلکہ اس ازلی اقرار میں ہے جس میں انسان نے اپنے رب کو پہچانا تھا۔ اسی نسبت سے امت کا مقام بھی بلند ہے اور اس کی ذمہ داری بھی عظیم۔