عقل چون باد است ارزان در جهان
عقل چون باد است ارزان در جهان
عشق کمیاب و بهای او گران
ترجمہ
عقل دنیا میں ہوا کی طرح عام اور سستی ہے، جبکہ عشق نایاب ہے اور اس کی قیمت بہت گراں ہے۔
تشریح
اقبال یہاں “ارزانی” اور “گرانی” کے ذریعے عقل اور عشق کی قدر کا فرق بیان کرتے ہیں۔ عقل ہر طرف ملتی ہے: حساب، تدبیر، مفاد سنجی، خود حفاظت، بحث و تمحیص، اور مصلحت شناسی انسانوں میں عام ہے۔ مگر عشق، جو حق کے لیے جینے، قربانی دینے، خودی کو پاک کرنے اور ناممکن کو ممکن سمجھنے کی قوت پیدا کرے، بہت کم یاب ہوتا ہے۔ اسی کمیابی سے اس کی قیمت بڑھتی ہے۔ شعر کے مطابق:
عقل کی ارزانی:
ہوا سب کو میسر ہے، سستی بھی ہے، عام بھی۔ اقبال عقل کو اس سے تشبیہ دے کر بتاتے ہیں کہ دنیاوی ذہانت، مفاد کی سمجھ، حالات شناسی اور اپنے فائدے کا اندازہ لگانا ایک عام انسانی خاصہ ہے۔ اس میں کوئی نادر چیز نہیں۔ لوگ یہ سب کچھ رکھتے ہوئے بھی بڑے نہیں بنتے، کیونکہ یہ اوصاف صرف بقاے ذات تک محدود رہ سکتے ہیں۔
اس لیے عقل کی فراوانی ضروری نہیں کہ روحانی بلندی کی علامت ہو۔
عشق کی کمیابی:
عشق نایاب ہے، کیونکہ وہ ہر دل میں پوری شان سے پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے لیے نفس کی تطہیر، ایمان کی حرارت، مقصد کی رفعت، اور قربانی کی آمادگی چاہیے۔ بہت لوگ جانتے ہیں، بہت کم لوگ جلتے ہیں؛ بہت لوگ سمجھتے ہیں، بہت کم لوگ اپنے آپ کو حق پر وار دیتے ہیں۔ اقبال اسی کمیابی کو عشق کی گراں بهایی کہتے ہیں۔
قیمت اسی چیز کی ہوتی ہے جو محض معلومات نہیں بلکہ وجود بدل دے۔
قیمت کیوں گراں ہے؟
عشق سستا اس لیے نہیں کہ اس کی قیمت انسان کو اپنے آرام، خوف، خود پسندی، مصلحت اور بعض اوقات جان تک سے ادا کرنی پڑتی ہے۔ اس کی گراں بهایی صرف تعریف کا لفظ نہیں، ایک تجربہ ہے۔ کربلا اسی قیمت کی انتہا ہے: عشق نے اپنا دام خون سے ادا کیا۔ مگر یہی گراں قیمت چیز تاریخ میں سب سے زیادہ باقی بھی رہتی ہے۔
جو سستا ملتا ہے، وہ اکثر سستا ہی رہتا ہے؛ جو گراں ملتا ہے، وہ روح کی دولت بنتا ہے۔
حریت سے تعلق:
اسلامی آزادی بھی ارزاں چیز نہیں۔ وہ چند نعروں، وقتی جذبات یا سیاسی تدبیروں سے نہیں ملتی۔ اس کے لیے عشق درکار ہے، اور عشق کی قیمت ہمیشہ زیادہ ہوتی ہے۔ اقبال بتاتے ہیں کہ ملت اگر سچی حریت چاہتی ہے تو اسے اس نایاب قوت کی پرورش کرنی ہوگی جو خوف سے بلند اور حق سے وابستہ ہو۔
آزادی کا مزہ وہی چکھتا ہے جو اس کی قیمت دینے کو تیار ہو۔
آج کے لیے سبق:
آج تعلیم، تجزیہ، گفتگو، رائے اور ذہنی چستی نسبتاً عام ہیں، مگر صدقِ نیت، اصولی جرات، ایثار اور حق کے لیے قربانی کم یاب ہیں۔ اقبال ہمیں اس فریب سے بچاتے ہیں کہ معلومات کی فراوانی ہی عظمت ہے۔ حقیقی عظمت اس دل میں ہے جس کے پاس عشق کی گراں قیمت دولت ہو۔
جو قوم عشق کھو دے، وہ عقل کے باوجود روحانی طور پر مفلس ہو سکتی ہے۔
مثال
مشورہ دینے والے، تجزیہ کرنے والے اور اپنی حفاظت کا حساب جاننے والے بہت مل جاتے ہیں، مگر وہ لوگ کم ہوتے ہیں جو سچ کے لیے واقعی خطرہ مول لیں، قیمت ادا کریں اور دوسروں کے لیے راستہ کھولیں۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق عقل عام اور ارزاں ہے، مگر عشق نایاب اور گراں بہا ہے۔ اسلامی حریت کی اصل دولت بھی اسی نایاب عشق سے پیدا ہوتی ہے، نہ کہ صرف عام ذہانت سے۔
