گرچہ ملت هم بمیرد مثل فرد
گرچہ ملت هم بمیرد مثل فرد
از اجل فرمان پذیرد مثل فرد
ترجمہ
اگرچہ ملت بھی فرد کی طرح مر سکتی ہے، اور فرد ہی کی طرح اجل کے حکم کو قبول کرتی ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں ایک نہایت اہم توازن قائم کرتے ہیں۔ پچھلے اشعار میں انہوں نے ملت کی بقا، وسعت اور افراد سے بلند تر حقیقت کو واضح کیا تھا، مگر یہاں وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ ملت کو مطلق، لازوال اور خودبخود محفوظ سمجھ لینا درست نہیں۔ جس طرح فرد ایک الٰہی قانون کے تحت پیدا ہوتا اور مرتا ہے، اسی طرح قومیں اور ملتیں بھی خدائی سنتوں سے باہر نہیں۔ اگر وہ اپنے مقصود، ناموس اور اصل ربط کو کھو دیں تو ان پر بھی زوال آ سکتا ہے۔ شعر کے مطابق:
بقا کے ساتھ ذمہ داری:
اقبال ملت کی بقا کا تصور دیتے ہیں، مگر اسے سستی یا خود فریبی کا بہانہ نہیں بننے دیتے۔ اگر کسی قوم کو یہ گمان ہو جائے کہ وہ ہر حال میں قائم رہے گی، خواہ اپنے اصول چھوڑ دے، خواہ اپنی اخلاقی بنیاد گنوا دے، تو یہ تصور اس کے لیے تباہ کن ہو جاتا ہے۔ اس شعر میں اقبال اسی غرور کو توڑتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ملت بھی فرد کی مانند اجل کے قانون سے بے تعلق نہیں۔ اسے بھی زندہ رہنے کے لیے اپنی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ اگر وہ اپنی روح کھو دے تو اس کا اجتماعی وجود بھی بکھر سکتا ہے۔
اجل کا اجتماعی مفہوم:
فرد کی اجل ایک معین مدت کے خاتمے پر آتی ہے۔ قوم کی اجل ہمیشہ صرف وقت پورا ہونے سے نہیں بلکہ اسباب کے پختہ ہونے سے نمایاں ہوتی ہے۔ جب ایک قوم اپنے مقصد سے کٹ جائے، اپنے ناموس کی حفاظت چھوڑ دے، انصاف کی حس کھو دے، اور اپنی روحانی بنیاد سے منہ موڑ لے تو گویا اس کی اجل قریب آ جاتی ہے۔
یعنی اجتماعی اجل بھی اللہ کے قانون کے تحت ہے، مگر اس کے اسباب اخلاقی اور تاریخی ہوتے ہیں۔ قوم خود اپنے زوال کے بیج بو سکتی ہے، اور پھر نتیجہ خدائی سنت کے مطابق سامنے آتا ہے۔
اس شعر کا محل:
یہ نکتہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ اسی سلسلے میں آگے اقبال ملتِ مسلمہ کی ایک خصوصی حقیقت بیان کرتے ہیں کہ اس کی اصل وحیِ الٰہی سے وابستہ ہے اور اسی نسبت سے اس کا دوام عام قوموں سے مختلف ہے۔ اس شعر میں وہ پہلے عمومی قانون بیان کر رہے ہیں: اجتماعی وجود اپنی بنیادیں چھوڑ دے تو زوال آ سکتا ہے۔ پھر بعد میں وہ واضح کرتے ہیں کہ امتِ مسلمہ کی بقا کا راز اس کے آسمانی اصل سے وابستگی میں ہے۔
گویا یہاں کوئی تضاد نہیں بلکہ ترتیب ہے: پہلے اصول کہ ملت خودبخود محفوظ نہیں، پھر وضاحت کہ ملتِ محمدیہ کی قوت اس کے آسمانی ربط میں ہے۔
توکل اور عمل کا رشتہ:
اس شعر سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صرف دعویٰ، نسب یا تاریخی افتخار کافی نہیں۔ اگر امت واقعی اپنی بقا چاہتی ہے تو اسے اپنے اصل سے جڑنا ہوگا، ورنہ تاریخ کی عام سنتیں اس پر بھی جاری ہوں گی۔ اقبال کے نزدیک توکل بے عملی نہیں بلکہ اپنی شرائطِ حیات کو پورا کرنے کے بعد خدا پر اعتماد کا نام ہے۔
اس لیے ملت کا دوام اس کی ذمہ داری کو بڑھاتا ہے، کم نہیں کرتا۔ جتنا بڑا منصب، اتنی بڑی جواب دہی۔
آج کے لیے سبق:
آج امت کو دو انتہاؤں سے بچنے کی ضرورت ہے: ایک طرف ناامیدی کہ سب کچھ ختم ہو چکا، اور دوسری طرف بے حسی کہ چونکہ ہم امت ہیں اس لیے ہمیں کچھ نہیں ہو سکتا۔ اقبال کا یہ شعر ان دونوں کی اصلاح کرتا ہے۔ امت کے لیے امید بھی ہے، مگر شرط کے ساتھ؛ دوام بھی ہے، مگر اصل سے وابستگی کے ساتھ؛ خدا کی مدد بھی ہے، مگر اخلاقی اور روحانی وفاداری کے ساتھ۔
اگر ہم اس تنبیہ کو سمجھ لیں تو ہم تاریخ کو نہ مایوسی سے پڑھیں گے نہ غرور سے، بلکہ ذمہ داری، محاسبہ اور تجدید کے جذبے سے پڑھیں گے۔
مثال
جیسے ایک عظیم تعلیمی روایت صدیوں تک زندہ رہ سکتی ہے، مگر اگر اس کے وارث علم کی جگہ شہرت، خدمت کی جگہ مفاد اور امانت کی جگہ تجارت کو اپنا لیں تو وہ روایت اپنے نام کے باوجود مرنے لگتی ہے۔ اسی طرح ملت اگر اپنی روح کھو دے تو اس پر بھی زوال کے آثار آ سکتے ہیں۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں واضح کرتے ہیں کہ ملت اگرچہ فرد سے بلند تر حقیقت ہے، مگر وہ خدائی قانون سے باہر نہیں۔ اگر وہ اپنے مقصد، ناموس اور اصل نسبت کو چھوڑ دے تو اس پر بھی زوال آ سکتا ہے۔ اس لیے ملت کی بقا کوئی خودکار ضمانت نہیں بلکہ ایک امانت ہے جس کی حفاظت مسلسل وفاداری، محاسبہ اور تجدید سے ہوتی ہے۔