فرد پور شصت و ہفتاد است و بس
فرد پور شصت و ہفتاد است و بس
قوم را صد سال مثل یک نفس
ترجمہ
فرد کی عمر ساٹھ ستر برس ہی ہے، مگر قوم کے لیے سو سال بھی ایک سانس کی مانند ہیں۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں فرد اور قوم کے زمانی پیمانے کا فرق بیان کرتے ہیں۔ ایک فرد کی عمر محدود ہوتی ہے۔ وہ چند دہائیوں میں اپنے عروج و زوال، امید و مایوسی اور قوت و کمزوری کے مرحلے طے کر لیتا ہے۔ لیکن قوم کی زندگی اس سے کہیں وسیع ہوتی ہے۔ اس کے لیے سو سال بھی کبھی ایک سانس کے برابر ہوتے ہیں، کیونکہ قوم نسلوں، ادوار، تجربات اور مسلسل تجدید کے عمل سے گزرتی ہے۔ اقبال ہمیں سکھاتے ہیں کہ جو چیز فرد پر صادق آتی ہے وہ ضروری نہیں کہ قوم پر بھی اسی تیزی سے صادق آئے۔ شعر کے مطابق:
فرد کی محدود عمر:
فرد “شصت و ہفتاد” یعنی ساٹھ ستر برس کی عمر رکھتا ہے۔ اقبال یہاں کوئی ریاضیاتی حد مقرر نہیں کر رہے بلکہ یہ بتا رہے ہیں کہ انسانی زندگی مختصر ہے۔ فرد جلدی نتائج چاہتا ہے، جلدی تھک جاتا ہے، جلدی خوش ہوتا ہے اور جلدی مایوس بھی ہو جاتا ہے۔ اس کی نگاہ اکثر اپنی ذاتی عمر کے دائرے میں بند رہتی ہے۔
یہی محدودیت اس کی فکری کمزوری بھی بن جاتی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہر تبدیلی اسی کی زندگی میں مکمل ہو، ہر کوشش کا پھل فوراً ملے، اور ہر منصوبہ چند برس میں اپنی آخری صورت کو پہنچ جائے۔ اقبال فرد کی اس نفسیات کو سمجھتے ہیں مگر اسے قوم پر منطبق کرنے سے روکتے ہیں۔
قوم کا زمانی افق:
قوم کی عمر افراد کی جمع نہیں ہوتی بلکہ ایک مسلسل تاریخی شعور ہوتی ہے۔ باپ کا کام بیٹا آگے بڑھاتا ہے، ایک نسل کی قربانی دوسری نسل کی بیداری بن جاتی ہے، ایک دور کی فکری کاوش اگلے دور کی اجتماعی قوت میں بدل جاتی ہے۔ اسی لیے قوم کے لیے سو سال بھی ایک سانس کی طرح ہو سکتے ہیں۔
یہ بات صرف طوالت نہیں بلکہ تسلسل کو ظاہر کرتی ہے۔ سانس زندگی کے جاری رہنے کی علامت ہے۔ اگر سو سال ایک سانس ہیں تو مطلب یہ ہے کہ قوم اس پوری مدت کو ایک جاری حرکت کے طور پر جیتی ہے، نہ کہ ٹوٹے ہوئے اور بے ربط وقفوں کی صورت میں۔
جلد بازی کے خلاف تنبیہ:
اس شعر میں ایک بڑی اخلاقی نصیحت یہ ہے کہ قومی کام صبر چاہتا ہے۔ جو لوگ ہر بڑے مسئلے کا حل فوراً چاہتے ہیں وہ اکثر مایوسی، شدت یا سطحیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اقبال چاہتے ہیں کہ امت اپنے آپ کو صدیوں کے پیمانے پر دیکھے۔ اگر ایک زمانہ زوال کا آیا ہے تو یہ ضروری نہیں کہ سب کچھ ختم ہو گیا۔ اگر ایک صدی کمزوری میں گزری ہے تو قوم کی عمر کے مقابلے میں یہ شاید ایک مختصر سانس ہو۔
اس زاویے سے دیکھنے سے امید پیدا ہوتی ہے، مگر یہ سستی کی دعوت نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عمل کرتے ہوئے افق وسیع رکھا جائے، اور جزوی ناکامی کو آخری فیصلہ نہ سمجھا جائے۔
تاریخ کو کیسے پڑھا جائے:
اقبال کے نزدیک قومی تاریخ کو وقتی حادثوں سے نہیں بلکہ اس کے مسلسل باطنی ربط سے پڑھنا چاہیے۔ کسی قوم کے ایک سو سال میں سلطنت بھی جا سکتی ہے، علم بھی کم ہو سکتا ہے، ادارے بھی ٹوٹ سکتے ہیں، مگر اگر اس کی روحانی جڑ باقی ہو تو وہ صدی اس کی پوری حقیقت نہیں بن جاتی۔
اس لیے قومی تاریخ کا مطالعہ کرتے وقت یہ دیکھنا چاہیے کہ اصل اصول، اخلاقی حافظہ، دینی شعور اور تجدید کی صلاحیت باقی ہے یا نہیں۔ اگر یہ عناصر موجود ہوں تو زمانے کی لمبی مدت بھی ایک سانس کی طرح آگے بڑھ سکتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج ہم اکثر چند برس کے سیاسی اتار چڑھاؤ، معاشی دباؤ یا سماجی اضطراب کو قوم کی مکمل تقدیر سمجھ بیٹھتے ہیں۔ اقبال کا یہ شعر ہمیں وسیع تاریخی نظر دیتا ہے۔ ہمیں اپنے حال کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، مگر اس سے گھبرا کر اپنی اجتماعی قوت سے دست بردار نہیں ہونا چاہیے۔
امت کے تعلیمی، اخلاقی اور فکری منصوبے صدیوں کے پیمانے پر سوچے جانے چاہییں۔ جو قومیں صرف انتخابی مدت یا فوری فائدے کے حساب سے جیتی ہیں وہ گہری تہذیبی تعمیر نہیں کر سکتیں۔
مثال
جیسے ایک باغبان آج درخت لگاتا ہے مگر جانتا ہے کہ اس کا پورا سایہ شاید اس کی اپنی عمر میں مکمل نہ پھیلے۔ پھر بھی وہ درخت لگاتا ہے کیونکہ وہ اپنی ذات نہیں بلکہ آئندہ نسلوں کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح قومی تعمیر میں بعض اوقات ایک صدی بھی صرف ایک سانس کی تیاری ثابت ہوتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں فرماتے ہیں کہ فرد کی عمر مختصر اور قوم کی عمر طویل و مسلسل ہوتی ہے۔ اس لیے قوم کے حالات کو فرد کی بے صبری، وقتی نفسیات یا محدود مدت کے پیمانے سے نہیں ناپنا چاہیے۔ قومی زندگی صدیوں پر پھیلی ہوئی ایک سانس ہے، اور اسی شعور سے امید، صبر اور پائیدار عمل پیدا ہوتا ہے۔