در بہاران جوش بلبل دیدہای
در بہاران جوش بلبل دیدہای
رستخیز غنچہ و گل دیدہای
ترجمہ
کیا تو نے بہار کے موسم میں بلبل کا جوش دیکھا ہے؟ کیا تو نے غنچے اور پھول کے بیدار ہو اٹھنے کا رستخیز دیکھا ہے؟
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں ملتِ محمدیہ کی ایسی حیاتِ مسلسل کو بہار کے منظر سے واضح کرتے ہیں جو کبھی ایک دفعہ پیدا ہو کر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ بار بار اپنے اندر سے نئی تازگی، نئی قوت اور نئی نمود پیدا کرتی ہے۔ بہار میں بظاہر سوکھی شاخیں اچانک حرکت میں آتی ہیں، بلبل کی آواز بلند ہوتی ہے، غنچے کھلنے لگتے ہیں اور ایک خاموش باغ یکایک زندہ معلوم ہونے لگتا ہے۔ اقبال اسی مشہد کو امت کی باطنی قوت، اس کی ابدی بقا اور اس کے وعدۂ دوام کے استعارے کے طور پر سامنے لاتے ہیں۔ شعر کے مطابق:
بہار کا استعارہ:
بہار محض موسم نہیں، ایک زندہ کرنے والی قوت ہے۔ سردی کے بعد جب شاخوں میں پھر سے رس دوڑتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کہیں گئی نہیں تھی، صرف پردۂ خفا میں تھی۔ اقبال کے نزدیک ملت کی حقیقت بھی ایسی ہی ہے۔ کبھی اس پر جمود، غفلت یا شکست کا زمانہ آ جاتا ہے، مگر اگر اس کی اصل ایمانی روح باقی ہو تو وہ پھر تازہ ہو سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اقبال امت کے زوال کو اس کی موت نہیں سمجھتے۔ وہ اسے ایک عارضی خزان مانتے ہیں جس کے بعد دوبارہ بہار آ سکتی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ شاخیں اس وقت کتنی ویران ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ جڑ میں زندگی باقی ہے یا نہیں۔
جوشِ بلبل:
بلبل یہاں اس زندہ دل فرد، صاحبِ درد داعی اور بیدار روح کی علامت ہے جو بہار کے آثار دیکھ کر خاموش نہیں رہتی۔ جیسے بلبل گل کے ظہور پر نغمہ خواں ہو جاتی ہے، ویسے ہی ایک زندہ امت کے اہلِ دل اس کی نئی بیداری پر حرکت میں آ جاتے ہیں۔ وہ مایوسی کا نوحہ نہیں پڑھتے بلکہ آنے والی زندگی کی بشارت دیتے ہیں۔
بلبل کا جوش اس بات کا اعلان ہے کہ حیات کا نیا دور شروع ہو رہا ہے۔ امت کی بقا صرف اداروں سے نہیں، ایسے دلوں سے قائم رہتی ہے جو اس کے معنی کو محسوس کریں اور اس کے مستقبل پر یقین رکھیں۔
رستخیزِ غنچہ و گل:
رستخیز کا لفظ نہایت معنی خیز ہے۔ غنچہ اور گل کا کھلنا اقبال کے نزدیک محض نباتاتی تبدیلی نہیں بلکہ پوشیدہ امکانات کا ظہور ہے۔ غنچہ بند تھا، مگر مردہ نہ تھا۔ اس کے اندر ایک شکل، ایک رنگ اور ایک خوشبو امانت کے طور پر موجود تھی جو اپنے وقت پر ظاہر ہوئی۔ ملت کی قوتیں بھی بہت مرتبہ اسی طرح پردے میں رہتی ہیں۔
جب فکری تازگی، ایمانی حرارت اور اجتماعی مقصد پھر سے زندہ ہوں تو وہی بند غنچے کھلنے لگتے ہیں۔ نئی نسلیں، نئے رجال، نئے ادارے اور نئی تعبیریں سامنے آتی ہیں۔ امت کا رستخیز اسی داخلی بیداری کا نام ہے۔
دوامِ ملت کا راز:
اس شعر کے پس منظر میں اقبال یہ سمجھا رہے ہیں کہ ملتِ محمدیہ کی حقیقت تاریخی حادثات سے بڑی ہے۔ سلطنتیں بدل سکتی ہیں، سیاسی نقشے مٹ سکتے ہیں، مگر جس امت کی بنیاد وحی، ذکر اور مقصدِ الٰہی پر ہو اس کی زندگی بہار کی طرح بار بار نئے پیرہن میں ظاہر ہوتی رہتی ہے۔
دوام کا مطلب یہ نہیں کہ ہر زمانے میں ظاہری شان ایک جیسی رہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کی اصل روح فنا نہ ہو۔ اگر روح باقی ہے تو رستخیز بھی ممکن ہے، اور اگر رستخیز ممکن ہے تو امت زندہ ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج جب امت کی حالت کو دیکھ کر بہت سے لوگ قطعی مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں تو اقبال کا یہ شعر یاد دلاتا ہے کہ ہر خاموش باغ ہمیشہ کے لیے مردہ نہیں ہوتا۔ ضروری یہ ہے کہ ہم جڑوں کو زندہ رکھیں: ایمان، علم، اخلاق، عدل اور اجتماعی مقصد۔ جب یہ عناصر محفوظ رہیں گے تو بہار پھر آئے گی، بلبل پھر گائے گی، اور غنچے پھر کھلیں گے۔
مثال
جیسے ایک تعلیمی ادارہ بظاہر کمزور ہو جائے مگر اگر اس کے اندر سچا مقصد، مخلص اساتذہ اور سیکھنے کی روایت باقی ہو تو کچھ عرصے بعد وہی ادارہ نئی نسل کے ذریعے پھر اٹھ کھڑا ہوتا ہے، اسی طرح امت کی اصل زندگی بھی اس کے باطنی اصولوں میں پوشیدہ رہتی ہے۔
خلاصہ
اقبال کے نزدیک بہار میں بلبل کا جوش اور غنچے گل کا رستخیز اس حقیقت کی علامت ہے کہ ملتِ محمدیہ کی زندگی ختم ہونے والی نہیں۔ اس کی قوت بعض اوقات پوشیدہ ہو جاتی ہے، مگر جب اصل روح باقی ہو تو وہ پھر نئی بہار کے ساتھ ظاہر ہو جاتی ہے۔
