رموز بے خودی

شب بچشم اهل عالم چیده است

شب بچشم اهل عالم چیده است

مصلحت تزویر را نامیده است

ترجمہ

اس نے دنیا والوں کی آنکھوں میں رات بھر دی ہے، اور دھوکے کو مصلحت کا نام دے دیا ہے۔

تشریح

اقبال اس شعر پر آ کر اپنے پورے استدلال کا نہایت جامع خلاصہ پیش کرتے ہیں۔ یہ فکر صرف ایک غلط رائے نہ تھی؛ اس نے نگاہوں پر رات طاری کر دی، یعنی بصیرت کو دھندلا دیا، اور سب سے بڑھ کر اس نے تزویر، فریب اور بدعہدی کو “مصلحت” جیسے باوقار لفظ کے لباس میں پیش کیا۔ یوں اندھیرا صرف باہر نہیں آیا، زبان، معیار اور ضمیر کے اندر اتر گیا۔ شعر کے مطابق:

شب بچشم اهل عالم:

آنکھ میں رات بھر دینے کا مطلب یہ ہے کہ حقیقت دیکھنے کی صلاحیت کمزور کر دی گئی۔ اقبال کے نزدیک سب سے بڑا نقصان یہی ہے کہ انسان ظلم کو ظلم نہ دیکھے، فریب کو فریب نہ سمجھے، اور باطل کو باطل کہنے کی قوت کھو دے۔ جب نگاہ پر رات اتر آتی ہے تو راستہ موجود ہونے کے باوجود پہچانا نہیں جاتا۔

اندھیرا صرف روشنی کی عدم موجودگی نہیں، سچ دیکھنے کے حواس کا معطل ہو جانا بھی ہے۔

اهل عالم:

اقبال یہاں اثر کے دائرے کو وسیع کر دیتے ہیں۔ یہ صرف ایک قوم یا ایک خطے کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ دنیا کے لوگوں کی آنکھ اس سے متاثر ہوئی۔ یعنی اس فکر نے عالمی سیاست، بین الاقوامی تعلقات، تہذیبی رویوں اور اجتماعی اخلاقیات سب پر اثر ڈالا۔ اسی لیے وہ اسے محدود حادثہ نہیں بلکہ تہذیبی مسئلہ سمجھتے ہیں۔

غلطی جب عالم گیر ہو جائے تو اس کی اصلاح بھی صرف مقامی نعرے سے نہیں ہوتی، بڑے معیار سے ہوتی ہے۔

تزویر:

تزویر فریب، دکھاوا، دو رخی اور حقیقت کو چھپا کر کچھ اور بنا کر پیش کرنے کا نام ہے۔ اقبال کے نزدیک اس سیاسی تعلیم کا بنیادی فساد یہی تھا کہ اس نے دھوکے کو استثنا نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے قبول شدہ سیاسی رویہ بنا دیا۔ جب حیلہ اندازی فن بن چکی تھی تو تزویر بھی محض ذاتی برائی نہ رہی، بلکہ اجتماعی تدبیر بن گئی۔

تزویر کا خطرہ اس وقت بڑھتا ہے جب اسے اخلاقی نام بدل کر معزز بنا دیا جائے۔

مصلحت کا نام:

مصلحت اپنی صحیح جگہ پر ایک معقول چیز ہے۔ ہر فیصلہ بے لچک نہیں ہوتا، اور زندگی میں حکمت و تدبیر کی ضرورت رہتی ہے۔ مگر اقبال اعتراض کرتے ہیں کہ یہاں مصلحت کا لفظ حق کے تابع حکمت کے لیے نہیں، بلکہ فریب کی پردہ پوشی کے لیے استعمال ہوا۔ یہ وہ لمحہ ہے جب زبان بھی باطل کی خادمہ بن جاتی ہے۔ لوگ دھوکا دیتے ہیں مگر اسے ضرورت کہتے ہیں، وعدہ توڑتے ہیں مگر اسے تدبیر کہتے ہیں، ظلم کرتے ہیں مگر اسے قومی مصلحت کہتے ہیں۔

زبان کا فساد اکثر کردار کے فساد کو چھپانے کے لیے پیدا ہوتا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج کے زمانے میں یہ شعر غیر معمولی تازگی رکھتا ہے۔ بہت سی عالمی، قومی اور ادارہ جاتی سطحوں پر ایسے فیصلے کیے جاتے ہیں جنہیں اخلاقی نہیں کہا جا سکتا، مگر انہیں مصلحت، قومی ضرورت، سفارتی تقاضا، اسٹریٹجک حکمت یا عملی حقیقت پسندی کا نام دے دیا جاتا ہے۔ اقبال ہمیں سکھاتے ہیں کہ الفاظ کے چمکدار لباس سے دھوکا نہ کھاؤ۔ دیکھو کہ کیا یہ واقعی حکمت ہے یا صرف تزویر کی نئی لغت۔

اسلامی خودی کی آنکھ اس وقت روشن رہتی ہے جب وہ مصلحت اور تزویر کے درمیان فرق قائم رکھتی ہے۔

مثال

اگر کسی حکومت یا ادارے کی بدعہدی، پردہ داری یا دھوکے کو یہ کہہ کر جائز بنایا جائے کہ حالات یہی چاہتے تھے، تو یہ عین وہی مقام ہے جہاں تزویر کو مصلحت کا نام دیا جا رہا ہے اور نگاہوں میں رات بھر دی گئی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق اس سیاسی فکر نے دنیا کی بصیرت کو دھندلا دیا اور فریب کو مصلحت کہہ کر قبول کروا دیا۔ یہی تہذیبی اندھیرا حق اور باطل کے فرق کو کمزور کرتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button