باطل از تعلیم او بالیده است
باطل از تعلیم او بالیده است
حیله اندازی فنی گردیده است
ترجمہ
اس کی تعلیم سے باطل پھل پھول گیا، اور فریب کاری ایک باقاعدہ فن بن گئی۔
تشریح
اقبال اس شعر میں اس سیاسی فکر کے پھیلاؤ اور اس کے عملی ثمرات کو نہایت واضح زبان میں بیان کرتے ہیں۔ اب بات صرف ایک شخص یا ایک کتاب تک محدود نہیں رہتی؛ اس فکر کی “تعلیم” یعنی اس کا تدریس بن جانا، اس کا فکری مزاج بن جانا، اور اس کا ریاستی، سیاسی اور سماجی شعور میں داخل ہو جانا موضوع بنتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اس تعلیم کے نتیجے میں باطل کو طاقت ملی اور دھوکے کو فنی مہارت کا درجہ دے دیا گیا۔ شعر کے مطابق:
تعلیم او:
کوئی فکر جب صرف ایک رائے رہے تو اس کا اثر محدود ہوتا ہے، مگر جب وہ تعلیم بن جائے تو نسلیں اس کے مطابق سوچنے لگتی ہیں۔ اقبال کے نزدیک یہی اصل خطرہ تھا۔ اقتدار، مصلحت اور فریب کی سیاست محض حادثاتی نہ رہی، بلکہ تدریسی، ادبی، سیاسی اور تہذیبی روایت بن گئی۔ پھر لوگ اسے ناگزیر حقیقت، پختہ حکمت اور بالغ سیاست سمجھنے لگے۔
غلطی جب روایت بن جائے تو لوگ اسے غلطی کے طور پر پہچاننا چھوڑ دیتے ہیں۔
باطل کا بالیدگی پانا:
باطل ہمیشہ قوت چاہتا ہے۔ اگر اسے صرف ایک وقتی سہارا ملے تو وہ محدود رہتا ہے، مگر جب اسے فکری جواز، تعلیمی زبان اور تہذیبی قبولیت مل جائے تو وہ “بالیدہ” ہوتا ہے، یعنی پروان چڑھتا ہے، پھیلتا ہے، اور معمول بن جاتا ہے۔ اقبال کے نزدیک اسی سیاست نے باطل کو یہ ماحول فراہم کیا۔ اس کے بعد باطل کو اپنا نام بدلنے، اپنے آپ کو مصلحت، تدبیر یا قومی مفاد کہنے کا موقع مل گیا۔
باطل کو سب سے زیادہ قوت تب ملتی ہے جب وہ خود کو خیر کی زبان میں چھپانا سیکھ لے۔
حیله اندازی:
حیلہ اندازی عام معنوں میں فریب، مکر اور پیچ دار چال ہے۔ اقبال یہ بتاتے ہیں کہ اس فکر کے بعد دھوکا محض ایک برا عمل نہیں رہا، بلکہ وہ ریاستی حکمت، سفارتی مہارت اور سیاسی شعور کا حصہ سمجھا جانے لگا۔ یوں سچائی کمزوری اور فریب ذہانت بن گیا۔ یہی وہ الٹاؤ ہے جسے اقبال تہذیبی انحطاط کا بڑا نشان سمجھتے ہیں۔
جب فریب کو عقل اور دیانت کو سادگی کہا جانے لگے تو اخلاقی زوال گہرا ہو چکا ہوتا ہے۔
فنی گردیده است:
یہ مصرع خاص طور پر چونکانے والا ہے۔ فن کا لفظ عام طور پر مہارت، ترتیب، باریکی اور قابلِ قدر صنعت کے لیے آتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ فریب کاری خود ایک فن بن گئی۔ یعنی معاشرہ اس درجے تک بدل گیا کہ دھوکہ صرف قابلِ برداشت نہ رہا بلکہ قابلِ تعریف مہارت بن گیا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں تہذیب اپنی روحانی پیمائش کھو دیتی ہے اور صرف موثر تکنیکوں کی دنیا میں داخل ہو جاتی ہے۔
فن اگر حق سے کٹ جائے تو وہ روشنی کے بجائے اندھیرے کی خدمت بھی کر سکتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج کے دور میں اس شعر کی تازگی اور زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ میڈیا کی تراکیب، سفارتی زبان، برانڈنگ، بیانیہ سازی، انتخابی مہمات، اور ریاستی چالیں اکثر اس طرح پیش کی جاتی ہیں کہ فریب ایک اسٹریٹجی اور مکر ایک مہارت معلوم ہونے لگتا ہے۔ اقبال متنبہ کرتے ہیں کہ اگر حیله اندازی کو فن مان لیا جائے تو حق کی زمین سکڑتی چلی جائے گی۔ ہمیں ایسی مہارت چاہیے جو سچائی کو زیادہ روشن کرے، نہ کہ دھوکے کو زیادہ نفیس بنا دے۔
اسلامی خودی فنی مہارت کو قبول کرتی ہے، مگر اس شرط پر کہ وہ حق کی خادمہ ہو، باطل کی معمار نہیں۔
مثال
اگر کسی حکمران یا ادارے کی یہ تعریف کی جائے کہ اس نے کس خوب صورتی سے عوام کو دھوکا دیا، مخالف کو غلط معلومات سے شکست دی، یا ظلم کو شاندار بیانیے میں چھپا دیا، تو یہی حیله اندازی کے فن بن جانے کی مثال ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق اس سیاسی تعلیم نے باطل کو پرورش دی اور فریب کاری کو ایک باقاعدہ فن میں بدل دیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تہذیب کی اخلاقی بصیرت شدید طور پر مجروح ہوتی ہے۔
