رموز بے خودی

دهریت چون جامه ی مذهب درید

دهریت چون جامه ی مذهب درید

مرسلی از حضرت شیطان رسید

ترجمہ

جب دہریت نے مذہب کا لباس چاک کر دیا تو شیطان کی طرف سے ایک پیغام رساں آ پہنچا۔

تشریح

اقبال اس شعر میں مغربی تہذیب کے ایک نہایت اہم فکری موڑ کی خبر دیتے ہیں۔ پچھلے اشعار میں وہ بتا چکے تھے کہ کلیسا کی شمع سرد پڑ گئی، اسقف درماندہ ہو گیا، اور قومِ عیسیٰ نے اپنے مذہبی سرمایے کو چھوڑ دیا۔ اب وہ اس خالی جگہ میں ابھرنے والی ایک نئی قوت کو سامنے لاتے ہیں۔ جب دین کی حرارت کمزور پڑی اور دہریت نے مذہب کا لباس پھاڑ دیا تو ایک ایسی فکر نمودار ہوئی جس نے انسان کو نئے راستے دکھانے کا دعویٰ کیا، مگر اس کا سرچشمہ حق نہیں، شیطانی مکر تھا۔ شعر کے مطابق:

دهریت کا مفہوم:

دهریت سے مراد محض خدا کے انکار کا لفظی نظریہ نہیں، بلکہ وہ پوری ذہنی فضا ہے جس میں انسان اپنے وجود، اخلاق اور اجتماعی زندگی کو کسی ماورائی حقیقت سے آزاد سمجھنے لگتا ہے۔ اس میں دنیا ہی اصل بنتی ہے، محسوسات ہی معیار بن جاتے ہیں، اور مصلحت یا قوت کو سچائی پر ترجیح ملنے لگتی ہے۔ اقبال کے نزدیک یہ صرف عقیدے کی تبدیلی نہیں، تہذیبی مرکز کے بدل جانے کا نام ہے۔

جب آسمان نگاہ سے اوجھل ہو جائے تو زمین کا ہر چھوٹا مفاد غیر معمولی اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

جامه ی مذهب درید:

مذہب کا جامہ پھاڑنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ پردہ، وہ حیا، وہ اخلاقی نظام اور وہ روحانی ترتیب ٹوٹ گئی جو انسان کے نفس کو حدود میں رکھتی تھی۔ جامہ صرف ظاہری لباس نہیں، تہذیبی حفاظت کی علامت بھی ہے۔ جب یہ جامہ چاک ہو جائے تو انسان کی باطنی برہنگی سامنے آنے لگتی ہے۔ اقبال اس تعبیر سے بتاتے ہیں کہ دہریت نے صرف دین سے اختلاف نہیں کیا، بلکہ اس تہذیبی آبرومندی کو بھی زخمی کر دیا جس سے اجتماعی زندگی میں خیر و شر کی تمیز باقی رہتی تھی۔

حفاظت کے پردے پھٹ جائیں تو خواہشات خود کو آزادی کا نام دینے لگتی ہیں۔

مرسل از حضرت شیطان:

یہاں اقبال نہایت سخت لفظ اختیار کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس خلا میں جو نئی رہنمائی سامنے آئی وہ محض غلطی نہیں تھی، بلکہ ایسی ہدایت تھی جس میں مکر، خود غرضی، فریب اور حق سے انحراف بنیادی وصف بن چکے تھے۔ شیطان کی نسبت کا مطلب یہ ہے کہ اس فکر کا کام انسان کو آزادی نہیں بلکہ خدا سے دوری، اخلاقی بے سمتی اور طاقت کی عبادت کی طرف لے جانا تھا۔

ہر نیا رہبر روشنی کا پیامبر نہیں ہوتا، بعض اوقات وہ اندھیرے کو عقل کا نام دے کر لاتا ہے۔

روحانی خلا کا بھراؤ:

اقبال کا ایک بڑا اصول یہ ہے کہ خلا کبھی خالی نہیں رہتا۔ اگر مذہب کمزور ہو جائے تو انسان لازماً کسی اور مرکز کی طرف مائل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہریت کے بعد محض خاموشی نہیں آئی، بلکہ ایک نیا سیاسی و تہذیبی پیغام سامنے آیا جس نے لوگوں کو بتایا کہ طاقت، مصلحت، اقتدار اور قومی مفاد کے تحت بھی زندگی کو منظم کیا جا سکتا ہے۔ اقبال کے نزدیک یہی وہ مقام ہے جہاں شیطانی سیاست انسانی رہنمائی کا لبادہ پہن لیتی ہے۔

مرکز کے زوال کے بعد سب سے بڑا خطرہ یہ نہیں کہ کچھ نہ رہے، بلکہ یہ کہ کوئی غلط چیز مرکز بن جائے۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی جب دین محض رسمی رہ جائے، اخلاق کو شخصی رائے بنا دیا جائے، اور اجتماعی زندگی کو کسی بلند حقیقت سے بے نیاز سمجھا جائے، تو فوراً ایسے نظریات پیدا ہوتے ہیں جو فائدے، طاقت اور چالاکی کو حکمت کہنے لگتے ہیں۔ اقبال کا شعر خبردار کرتا ہے کہ ہر وہ فکر جو انسان کو خدا، اخلاق اور جواب دہی سے کاٹ کر محض دنیاوی کامیابی کے پیمانے دے، دراصل نجات نہیں بلکہ فریب کا دروازہ کھولتی ہے۔

اسلامی خودی کو اس لیے صرف مذہبی نام نہیں، زندہ روحانی مرکز چاہیے، ورنہ شیطان اپنی سیاست کو حکمت بنا کر پیش کر دیتا ہے۔

مثال

اگر کوئی معاشرہ سچ اور جھوٹ، عدل اور ظلم، پاکیزگی اور فریب کا فیصلہ صرف اس بنیاد پر کرنے لگے کہ کس چیز سے زیادہ فائدہ ہوگا، تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہاں دہریت نے جامہ پھاڑ دیا ہے اور کوئی شیطانی منطق رہنمائی کی جگہ لینے لگی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق جب دہریت نے مذہب کی تہذیبی اور اخلاقی حفاظت کو توڑا تو اس خلا میں ایک ایسی فکر ابھری جو ظاہراً رہنمائی کرتی تھی مگر باطن میں شیطانی مکر اور دنیا پرستی کی ترجمان تھی۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button