رموز بے خودی

مردمی اندر جهان افسانه شد

مردمی اندر جهان افسانه شد

آدمی از آدمی بیگانه شد

ترجمہ

دنیا میں انسانیت ایک افسانہ بن کر رہ گئی، اور آدمی آدمی سے بیگانہ ہو گیا۔

تشریح

اقبال اس شعر میں جدید قومیّت اور تنگ اجتماعی شناختوں کے آخری روحانی نتیجے کو بیان کرتے ہیں۔ جب اخوت کٹ جائے، وطن شمعِ محفل بن جائے، جھوٹی جنت بئس القرار میں تلاش کی جائے، اور تلخی پیکار پھل کے طور پر سامنے آئے، تو پھر انسانیت صرف ایک خوش نما لفظ بن کر رہ جاتی ہے۔ “مردمی” یعنی آدمیت، انسان دوستی، اخلاقی قربت اور باہمی حرمت افسانہ بن جاتی ہے، جبکہ حقیقی زندگی میں ایک انسان دوسرے سے اجنبی، محتاط اور دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ شعر کے مطابق:

مردمی کا مفہوم:

مردمی سے مراد صرف مہذب رویہ نہیں بلکہ وہ باطنی احساس ہے کہ دوسرا انسان بھی میرے ہی جیسا درد، حرمت اور حق رکھنے والا وجود ہے۔ اسی احساس سے رحم پیدا ہوتا ہے، عدل مضبوط ہوتا ہے، اور معاشرہ محض قانونی ڈھانچے سے بڑھ کر اخلاقی برادری بن جاتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ جدید دنیا میں یہی مردمی افسانہ بن گئی ہے، یعنی اس کا ذکر تو بہت ہے مگر اس کی حقیقت کم ہوتی جا رہی ہے۔

جب کسی شے کا شور بڑھ جائے اور وجود کم ہو جائے تو سمجھنا چاہیے کہ وہ افسانہ بنتی جا رہی ہے۔

افسانہ شد:

افسانہ بننے کا مطلب یہ ہے کہ انسانیت اب ایک خوب صورت دعویٰ تو ہے، مگر عملی بنیاد نہیں رہی۔ لوگ انسان دوستی کی زبان استعمال کرتے ہیں، مگر فیصلے مفاد کے تابع کرتے ہیں۔ عالمی امن کی بات کی جاتی ہے، مگر اسلحہ بڑھایا جاتا ہے۔ برابری کے نعرے لگتے ہیں، مگر نسل، قوم اور طاقت کی بنیاد پر امتیاز جاری رہتا ہے۔ اقبال اسی منافقت نما تہذیبی حالت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

الفاظ کی انسانیت اور کردار کی انسانیت ایک چیز نہیں، اور اقبال اسی فرق کو بے نقاب کرتے ہیں۔

آدمی از آدمی بیگانه شد:

یہ مصرعے کا سب سے دردناک پہلو ہے۔ بیگانگی صرف یہ نہیں کہ لوگ ایک دوسرے کو نہ جانیں، بلکہ یہ کہ وہ ایک دوسرے کو اپنائیت کے دائرے سے باہر سمجھنے لگیں۔ جب قومیّت، مفاد اور گروہی شناخت اصل بن جائیں تو آدمی دوسرے آدمی کو پہلے انسان نہیں، پہلے غیر سمجھتا ہے۔ یہی بیگانگی ظلم کو آسان، بے حسی کو معمول، اور فاصلے کو فطری بنا دیتی ہے۔

انسانی زوال کی بڑی علامت یہ ہے کہ آدمی دوسرے کے درد پر اندر سے نہ ہلے۔

روحانی تنہائی:

اقبال کے نزدیک یہ بیگانگی صرف سماجی یا سیاسی مسئلہ نہیں، روحانی بحران بھی ہے۔ جو انسان اپنے بڑے ربط، اپنی اخوت، اور اپنی آفاقی نسبت سے کٹ جائے وہ خود بھی اندر سے تنہا ہو جاتا ہے۔ اس کے پاس شناخت تو ہوتی ہے مگر کشادگی نہیں، طاقت تو ہوتی ہے مگر سکون نہیں، ترقی تو ہوتی ہے مگر قربت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیگانگی جدید انسان کی نمایاں بیماری بن جاتی ہے۔

باہر کی تقسیم آخرکار اندر کی ویرانی میں بدلتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج کی دنیا میں رابطے بہت ہیں مگر ربط کم ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو دیکھتے زیادہ ہیں، سمجھتے کم ہیں۔ شناختیں بہت ہیں، انسانیت کمزور ہے۔ اقبال کا شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر ہم نے مردمی کو پھر سے حقیقت نہ بنایا تو جدید ترقی کے باوجود ہم روحانی بیگانگی میں ڈوبتے جائیں گے۔ اس کا علاج اخوت، عدل، سچی انسان دوستی، اور اس بڑے اخلاقی دائرے کی بازیافت میں ہے جو آدمی کو آدمی سے جوڑتا ہے۔

اسلامی خودی کا کمال یہ ہے کہ وہ غیر کو بھی محض غیر نہیں رہنے دیتی، بلکہ انسان اور حق کے رشتے میں اسے دیکھنا سکھاتی ہے۔

مثال

جب کسی سانحے میں لوگ صرف اس لیے خاموش رہیں کہ متاثرہ لوگ ان کے ملک، نسل یا گروہ سے تعلق نہیں رکھتے، تو یہ اسی بیگانگی کی مثال ہے جسے اقبال انسانیت کے افسانہ بن جانے سے تعبیر کرتے ہیں۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق جدید قومیّت اور تنگ شناختوں نے انسانیت کو محض ایک دعوے میں بدل دیا ہے۔ حقیقی نتیجہ یہ نکلا کہ آدمی آدمی سے دور، محتاط اور بیگانہ ہو گیا، اور مردمی عملی زندگی سے رخصت ہونے لگی۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button