این شجر جنت ز عالم برده است
این شجر جنت ز عالم برده است
تلخی پیکار بار آورده است
ترجمہ
اس درخت نے دنیا سے جنت چھین لی ہے، اور اپنے پھل میں لڑائی کی تلخی پیدا کی ہے۔
تشریح
اقبال یہاں وطن پرستی اور جدید قومیّت کو ایک ایسے درخت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو بظاہر تناور اور جاذبِ نظر معلوم ہو سکتا ہے، مگر اس کے اثرات نہایت تباہ کن ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس درخت نے دنیا کی جنت چھین لی، یعنی وہ امن، الفت، کشادگی، مشترک انسانی وقار اور باہمی اعتماد کو ختم کر بیٹھا۔ اس کے بجائے جو پھل پیدا ہوا وہ “تلخی پیکار” ہے، یعنی کشمکش، جنگ، رقابت اور مسلسل نزاع۔ شعر کے مطابق:
شجر کا استعارہ:
درخت ایک ایسی چیز ہے جس کی جڑیں ہوتی ہیں، جس کا تنا بڑھتا ہے، شاخیں پھیلتی ہیں اور پھر وہ پھل دیتا ہے۔ اقبال اس استعارے سے سمجھاتے ہیں کہ قومیّت بھی ایک فکری شجر ہے: ابتدا میں اسے کچھ اصول، کچھ نعروں اور کچھ جذبات کی زمین ملتی ہے، پھر وہ اجتماعی شعور میں جڑیں پکڑتا ہے، ریاستی نظام اور تعلیمی بیانیے میں شاخیں نکالتا ہے، اور آخرکار اپنے نتائج بھی پیدا کرتا ہے۔
فکر اگر شجر بن جائے تو اس کے پھل سے اس کی اصل پہچانی جا سکتی ہے۔
جنت ز عالم برده است:
یہاں جنت سے مراد وہ اجتماعی فضا ہے جس میں انسان امن سے رہ سکے، دوسرے انسان کو خطرہ نہ سمجھے، اور زندگی میں باہمی خیر کا امکان باقی رہے۔ اقبال کے نزدیک جب وطن پرستی کو اصل بنا دیا گیا تو دنیا سے یہ جنت رخصت ہونے لگی۔ لوگوں نے سرحدوں، مفادات اور قومی انا کی خاطر ایک دوسرے سے وہ اعتماد کھو دیا جو انسانی آبادی کو قابلِ سکون بناتا ہے۔
جہاں ہر دل دوسرے کو حریف سمجھے، وہاں جنت کی فضا قائم نہیں رہ سکتی۔
تلخی پیکار:
پیکار محض میدانِ جنگ نہیں بلکہ ہر وہ ذہنی، معاشی، تہذیبی اور سیاسی نزاع ہے جو انسان کو انسان کے مقابل کھڑا کر دے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اس درخت کا پھل میٹھا نہیں بلکہ تلخ ہے۔ یعنی وطن پرستی نے جن وعدوں کے ساتھ جنم لیا، اس نے ان کے الٹ نتائج پیدا کیے۔ امن کے بجائے ہتھیار، قربت کے بجائے بدگمانی، تعاون کے بجائے تصادم، اور انسانیت کے بجائے محاذ آرائی سامنے آئی۔
کسی نظریے کی سچائی کا اندازہ اس کے نعروں سے کم اور اس کے پھل سے زیادہ ہوتا ہے۔
شجر اور بار:
شجر اپنے بار سے پہچانا جاتا ہے۔ اگر اس کا پھل تلخی ہو تو جڑوں پر دوبارہ غور کرنا پڑتا ہے۔ اقبال دراصل یہ کہہ رہے ہیں کہ جدید قومیّت کا مسئلہ محض اس کے استعمال میں نہیں، اس کی بنیادی ساخت میں ہے۔ جب اجتماع کا مرکز روحانی اخوت کے بجائے زمینی خود پرستی ہو تو اس کے نتائج تلخ ہی ہوں گے، چاہے ابتدا میں اس کی صورت کتنی ہی خوش نما کیوں نہ لگے۔
خراب جڑ سے اچھے پھل کی امید رکھنا خود فریبی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بھی دنیا کی بڑی بڑی جنگیں، سفارتی کشیدگیاں، معاشی ظلم اور تہذیبی غرور اسی تلخی پیکار کی مختلف شکلیں ہیں۔ اقبال ہمیں اس درخت کو اس کے پھل سے پہچاننے کی دعوت دیتے ہیں۔ اگر کوئی اجتماعی تصور انسانوں کے درمیان خوف، نفرت اور مستقل رقابت پیدا کر رہا ہو تو اسے ترقی کا درخت سمجھنا غلط ہے۔ حقیقی شجر وہ ہے جس سے امن، عدل اور وسیع خیر پیدا ہو۔
اسلامی خودی اس شجر کے سائے میں پناہ نہیں ڈھونڈتی جس کا پھل جنگ کی کڑواہٹ ہو۔
مثال
جب تعلیمی نظام، میڈیا اور سیاست مسلسل یہ سکھائیں کہ دوسری قومیں فطری طور پر خطرہ ہیں، تو معاشرہ آہستہ آہستہ اسی تلخ پھل کو کھانے لگتا ہے، چاہے ابتدا میں اس بیانیے کو حب الوطنی کا خوب صورت نام دیا گیا ہو۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق وطن پرستی کا شجر دنیا سے امن اور مشترک انسانی جنت چھین کر جنگ و نزاع کی تلخی پیدا کرتا ہے۔ کسی فکر کی اصل پہچان اس کے نتائج سے ہوتی ہے، اور یہ درخت اپنے پھل میں کڑوا ثابت ہوا ہے۔

