رموز بے خودی

بگذر از گل گلستان مقصود تست

بگذر از گل گلستان مقصود تست

این زیان پیرایه بند سود تست

ترجمہ

ایک پھول سے آگے بڑھ، کیونکہ پورا گلستان تیرا مقصود ہے؛ یہ جو ظاہری نقصان لگتا ہے، وہ دراصل تیرے نفع کو آراستہ کرنے والا ہے۔

تشریح

اقبال اس شعر میں ہجرت، ترکِ محدودیت اور وسعتِ مقصد کے مضمون کو باغ کے استعارے میں بیان کرتے ہیں۔ “گل” ایک خاص چیز، ایک محدود لطف، ایک جزوی کامیابی یا ایک مقامی وابستگی کی علامت ہے۔ “گلستان” اس سے کہیں وسیع، ہمہ گیر اور مکمل امکان کا نام ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اگر انسان گلستان چاہتا ہے تو اسے ایک گل پر رکنا نہیں چاہیے۔ جو بظاہر زیان لگ رہا ہے، وہ دراصل بڑے سود کی تیاری ہے۔ شعر کے مطابق:

گل اور گلستان:

گل خوب صورت ہے، دل کو لبھاتا ہے، اور فوراً اپنی طرف کھینچتا ہے۔ مگر وہ پورا باغ نہیں۔ اقبال اسے ہر اس چیز کی مثال بناتے ہیں جو انسان کو جزوی طور پر مطمئن کر دے: ایک مقام، ایک تعلق، ایک چھوٹی کامیابی، ایک محدود شناخت، یا ایک وقتی راحت۔ اس کے مقابلے میں گلستان پورا افق ہے، ایک بڑی دنیا، ایک وسیع مقصد اور مکمل تر زندگی۔

جو گل پر رک گیا، وہ گلستان کے حق سے محروم رہ گیا۔

بگذر از گل:

یہاں “گزرنا” بے ذوقی نہیں بلکہ بلند ذوقی ہے۔ اقبال خوب صورتی کی نفی نہیں کرتے؛ وہ خوب صورتی کی محدود قید کی نفی کرتے ہیں۔ انسان اگر کسی ایک جزوی لذت، محدود تعلق یا چھوٹی کامیابی میں ایسا الجھ جائے کہ بڑی زندگی کا راستہ چھوڑ دے، تو وہ اپنے ساتھ ناانصافی کرتا ہے۔

بڑا مقصد کئی بار چھوٹی محبوب چیزوں سے اوپر اٹھنے کا حوصلہ مانگتا ہے۔

زیان جو سود کو آراستہ کرتا ہے:

اقبال کا یہ نکتہ نہایت باریک ہے۔ بعض چیزیں بظاہر نقصان معلوم ہوتی ہیں: مقام چھوڑنا، آرام چھوڑنا، محدود محبت چھوڑنا، یا فوری فائدہ قربان کرنا۔ مگر اگر اس کے بدلے انسان بڑے مقصد تک پہنچتا ہے تو یہی زیان اصل نفع کی زینت بن جاتا ہے۔ یعنی بڑے سود کی راہ میں چھوٹا نقصان دراصل سرمایہ کاری ہے۔

کچھ خسارے ایسے ہوتے ہیں جو حقیقت میں نفع کے دروازے کھولتے ہیں۔

ہجرت کی جمالیاتی تعبیر:

یہ شعر ہجرت کو محض سختی کی زبان میں نہیں، حسن کی زبان میں بھی سمجھاتا ہے۔ انسان ایک گل چھوڑتا ہے تاکہ گلستان پائے۔ اس طرح ہجرت محرومی نہیں بلکہ زیادہ کامل جمال کی طرف بڑھنا بھی ہے۔ مسلمان اگر ایک محدود قومیت، چھوٹے مفاد، یا تنگ ماحول سے نکلتا ہے تو وہ صرف انکار نہیں کرتا، ایک بڑے اثبات کی طرف بھی جاتا ہے۔

اسلامی خودی کی نفی ہمیشہ کسی بڑی اثباتی وسعت کے لیے ہوتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج ہم اکثر چھوٹے فائدے، فوری آسودگی اور محدود کامیابی پر رک جاتے ہیں۔ اقبال پوچھتے ہیں: کیا تیرا مقصد صرف ایک گل ہے یا پورا گلستان؟ اگر زندگی کو بڑا بنانا ہے تو کبھی کبھی پسندیدہ مگر محدود چیز کو چھوڑنا پڑتا ہے تاکہ وسیع تر خیر، بڑا اثر اور گہری تکمیل حاصل ہو۔

اسلامی خودی اسی وقت بالغ ہوتی ہے جب وہ فوری نفع سے اوپر اٹھ کر وسیع مقصد کا انتخاب کرے۔

مثال

ایک شخص آسان مگر معمولی ملازمت یا مقام پر مطمئن رہ سکتا ہے، مگر اگر وہ زیادہ معنی خیز، وسیع اور خدمت پر مبنی راستہ اختیار کرے تو ابتدا میں نقصان لگے گا، مگر یہی انتخاب بڑی زندگی کا دروازہ بن سکتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق ایک محدود حسن یا چھوٹے فائدے پر رک جانا انسان کو بڑے مقصد سے محروم کر دیتا ہے۔ گلستان پانے کے لیے گل سے گزرنا پڑتا ہے، اور یہی بظاہر زیان دراصل حقیقی سود کی آرائش بن جاتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button