هجرت آئین حیات مسلم است
هجرت آئین حیات مسلم است
این ز اسباب ثبات مسلم است
ترجمہ
ہجرت مسلمان کی زندگی کا ایک اصول ہے، اور یہی اس کے استحکام کے اسباب میں سے ہے۔
تشریح
اقبال اس شعر میں ہجرت کو محض ایک تاریخی واقعہ یا مجبوری کا ردِ عمل نہیں سمجھتے، بلکہ اسے مسلمان کی زندہ حیات کا آئین قرار دیتے ہیں۔ “آئین” سے مراد ایسا اصول، ضابطہ اور طرزِ وجود ہے جو زندگی کی ساخت میں شامل ہو۔ اقبال کے نزدیک مسلم اگر واقعی زندہ ہے تو وہ جمود میں قید نہیں رہتا؛ وہ اپنی روح، اپنے مقصد، اور اپنے مشن کی حفاظت کے لیے حرکت، تبدیلی، تجدید اور وسعت کو قبول کرتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اقبال ہجرت کو عدمِ استحکام نہیں بلکہ “ثبات” کا سبب کہتے ہیں۔ شعر کے مطابق:
ہجرت بطور آئین:
آئین وہ چیز ہے جو زندگی کو اندر سے ترتیب دیتی ہے۔ اگر ہجرت آئین ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلم کو ہر اس قید سے نکلنا سیکھنا ہوگا جو اس کی خودی، اس کے ایمان، یا اس کی اجتماعی قوت کو منجمد کر دے۔ یہ خروج کبھی جسمانی ہوتا ہے، کبھی فکری، کبھی اخلاقی، اور کبھی روحانی۔
زندہ ملتوں کے لیے حرکت عارضی حادثہ نہیں، مستقل مزاجی کا حصہ ہوتی ہے۔
حیاتِ مسلم:
اقبال کے ہاں حیاتِ مسلم کا مطلب صرف سانس لینا یا آبادی کا موجود ہونا نہیں۔ اس سے مراد ایک ایسی زندگی ہے جس میں توحید، مقصد، غیرت، تجدید، دعوت اور خودی کی حرارت موجود ہو۔ ایسی زندگی اگر کسی مرحلے پر اپنے موجودہ ماحول میں سڑنے لگے، تو اس کا علاج ہجرت کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
جو زندگی اپنی حفاظت کے لیے حرکت نہ کر سکے، وہ آہستہ آہستہ رسم بن جاتی ہے۔
ہجرت اور ثبات کا تعلق:
بظاہر لگتا ہے کہ ہجرت بے ثباتی کی علامت ہوگی، کیونکہ اس میں جگہ، حالت یا مرحلہ بدلتا ہے۔ مگر اقبال اس کے الٹ نکتہ دیتے ہیں: حقیقی ثبات جمود میں نہیں، اصول پر قائم رہنے میں ہے۔ اگر اصول بچانے کے لیے حرکت ضروری ہو تو وہی حرکت ثبات بن جاتی ہے۔ اس طرح ہجرت شکل بدلتی ہے، اصل بچاتی ہے۔
جس نے صورت پر اصرار کیا وہ ٹوٹ گیا، جس نے اصل بچائی وہ قائم رہا۔
فرد اور ملت دونوں کے لیے:
یہ شعر فردی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر سچا ہے۔ فرد کو کبھی بری صحبت، مردہ عادت، گندہ ماحول، یا محدود ذہنی دائرے سے ہجرت کرنا پڑتی ہے۔ ملت کو کبھی فکری جمود، سیاسی غلامی، تہذیبی خود فراموشی، یا قوم پرستی کی تنگی سے ہجرت کرنی پڑتی ہے۔ اقبال کے نزدیک یہی حرکت اسے ٹوٹنے سے بچاتی ہے۔
ثباتِ حق کئی بار ثباتِ حال سے مختلف راستہ مانگتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج کا مسلمان کئی طرح کے جمود میں گرفتار ہو سکتا ہے: سوچ میں، عبادت میں، سماج میں، اداروں میں، یا ذاتی عادتوں میں۔ اقبال سکھاتے ہیں کہ اگر تمہیں اپنی اصل بچانی ہے تو نقل مکانی کی ہمت پیدا کرو۔ یہ نقل مکانی ہمیشہ شہر بدلنے کا نام نہیں، بلکہ کبھی اپنے باطن، ترجیحات، اور وفاداریوں کو بھی بدلنا پڑتا ہے۔
اسلامی خودی کے لیے ہجرت فرار نہیں، اپنی اصل کی حفاظت میں پیش قدمی ہے۔
مثال
ایک انسان برسوں کسی ایسی عادت، ماحول یا صحبت میں پڑا رہے جو اس کے ایمان اور کردار کو کھوکھلا کر رہی ہو۔ جب وہ اسے چھوڑ کر بہتر ماحول اختیار کرتا ہے تو بظاہر تبدیلی آتی ہے، مگر حقیقت میں وہی تبدیلی اس کی زندگی کو سنبھالتی ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق ہجرت مسلمان کی زندگی کا بنیادی اصول ہے، کیونکہ یہی اسے جمود سے نکال کر اس کے اصل ایمان اور خودی کو محفوظ رکھتی ہے۔ اسی حرکت کے اندر اس کا حقیقی ثبات پوشیدہ ہے۔
