دل بدست آور که در پهنای دل
دل بدست آور که در پهنای دل
می شود گم این سرای آب و گل
ترجمہ
دل کو پا لے، کیونکہ دل کی وسعت میں یہ مادی آب و گل کا گھر گم ہو جاتا ہے۔
تشریح
اقبال پچھلے دو اشعار میں اقلیم، مرز و بوم اور جغرافیہ کی تنگی سے بلند ہونے کی بات کر رہے تھے۔ اب وہ اس بلند ہونے کا اصل راز بتاتے ہیں: دل کو حاصل کر لو۔ جب دل بیدار، وسیع اور زندہ ہو جاتا ہے تو یہ پوری مادی دنیا، جو ہمیں بہت بڑی لگتی ہے، اس کے اندر اپنی محدود حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ “سرای آب و گل” سے مراد یہی خاکی دنیا ہے، اور “پهنای دل” سے مراد وہ باطنی وسعت ہے جو ایمان، عشق، یقین، ذکر اور خودی کی بیداری سے پیدا ہوتی ہے۔ شعر کے مطابق:
دل بدست آور:
یہاں دل ہاتھ میں لینا کسی جذباتی کیفیت کا نام نہیں، بلکہ اپنے باطن کو بازیافت کرنے کا حکم ہے۔ انسان اکثر اپنے دل سے کٹا ہوا جیتا ہے۔ اس کے فیصلے باہر سے آتے ہیں، اس کی خواہشیں باہر بنائی جاتی ہیں، اس کی تعریف باہر لکھی جاتی ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ پہلے اپنے دل کو حاصل کرو، یعنی اس کے اندر خدا کی یاد، سچائی، غیرت، درد، محبت اور مقصد کی روشنی دوبارہ جگاؤ۔
جس نے دل پا لیا، اس نے اپنی اصل قیادت پا لی۔
پهنای دل:
اقبال کے ہاں دل کوئی چھوٹا داخلی خانہ نہیں بلکہ ایک باطنی کائنات ہے۔ اس کی وسعت جغرافیے سے نہیں، نسبت سے بنتی ہے۔ اگر دل خدا، رسالت، امت، حقیقت اور ابدی مقصد سے جڑ جائے تو اس کے اندر ایک عجب کشادگی پیدا ہوتی ہے۔ یہ کشادگی انسان کو مادی حقائق سے بے خبر نہیں کرتی، مگر ان کے اصل حجم کو درست کر دیتی ہے۔
دل جتنا وسیع ہوگا، دنیا اتنی ہی اپنے حقیقی سائز میں نظر آئے گی۔
سرای آب و گل:
آب و گل کا گھر اس دنیا کی مادی ساخت، اس کے وقتی دکھ سکھ، اس کے اسباب و وسائل اور اس کے جسمانی دائرے کا استعارہ ہے۔ جب دل مردہ ہو تو یہی دنیا سب کچھ لگتی ہے۔ انسان ہر چیز اسی کے معیار پر ناپتا ہے۔ مگر جب دل زندہ ہو تو یہی دنیا ایک عارضی قیام، ایک امتحانی میدان، یا ایک نسبتاً چھوٹا مرحلہ دکھائی دینے لگتی ہے۔
دل کی روشنی دنیا کو مٹاتی نہیں، اسے صحیح مقام پر رکھ دیتی ہے۔
روحانی کشادگی اور آزادی:
اقبال کے نزدیک اصل آزادی باہر کے راستے کھلنے سے پہلے اندر کا افق کھلنے سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر دل تنگ ہو تو دنیا چھوٹی ہونے کے باوجود بہت بڑی لگتی ہے؛ اگر دل کشادہ ہو تو بڑی دنیا بھی اس پر قابض نہیں ہو پاتی۔ اسی لیے وہ مسلم کو دل کی بازیافت کی طرف بلاتے ہیں۔ یہ صرف ذاتی نجات نہیں بلکہ اجتماعی قوت بھی ہے، کیونکہ وسیع دل ہی وسیع ملت کا ظرف بن سکتا ہے۔
تنگ دل قومیں جلدی ڈر جاتی ہیں، کشادہ دل قومیں بڑے مقصد اٹھا سکتی ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج کا انسان اکثر باہر کی دنیا کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے: روزگار، مقابلہ، معلومات، خوف، شہرت، تعلقات، سیاست، اور نفسیاتی تھکن۔ اقبال اس شعر میں علاج بتاتے ہیں کہ دل کو واپس حاصل کرو۔ عبادت، خاموشی، ذکر، فکر، سچی محبت، اور نبوی نسبت کے ذریعے دل کشادہ ہو تو دنیا وہی رہتی ہے مگر اس کی حاکمیت ٹوٹ جاتی ہے۔
اسلامی خودی کی وسعت باہر کی فتح سے پہلے اندر کی کشادگی سے شروع ہوتی ہے۔
مثال
کبھی کوئی شخص شدید مشکلات میں بھی سکون، وقار اور اصول پر قائم رہتا ہے، جبکہ دوسرا معمولی نقصان سے بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ فرق اکثر حالات کے حجم میں نہیں بلکہ دل کی وسعت میں ہوتا ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق اگر انسان اپنے دل کو پا لے تو مادی دنیا اپنی حد میں نظر آنے لگتی ہے۔ دل کی کشادگی ہی وہ باطنی آزادی ہے جس سے دنیا کی بڑائی کم ہو جاتی ہے اور خودی مضبوط ہوتی ہے۔