رموز بے خودی

من ندانم مرز و بوم او کجاست

من ندانم مرز و بوم او کجاست

این قدر دانم که با ما آشناست

ترجمہ

میں نہیں جانتا کہ اس کا اصل مرز و بوم کہاں ہے، بس اتنا جانتا ہوں کہ وہ ہمارے ساتھ آشنا اور قریب ہے۔

تشریح

یہ شعر بظاہر سادہ ہے، مگر اس میں نبوی مقام کی بے حدی اور نبوی قرب کی لطافت ایک ساتھ جمع ہو گئی ہے۔ اقبال نے پچھلے اشعار میں واضح کیا کہ حضور کا مقام کسی اقلیم، نسل یا دنیاوی حد میں بند نہیں۔ اب وہ کہتے ہیں کہ اگر ان کی اصل نسبت ہماری سمجھ کی حدود سے بلند بھی ہے تو بھی ایک حقیقت ایسی ہے جو ہم پورے یقین سے جانتے ہیں: وہ ہمارے لیے اجنبی نہیں، وہ ہمارے ساتھ آشنا ہیں۔ یوں شعر رفعت اور قرب دونوں کو ایک ساتھ جمع کرتا ہے۔ شعر کے مطابق:

مرز و بوم او کجاست:

یہ سوال جغرافیے سے زیادہ مقامِ حقیقت کا سوال ہے۔ اقبال گویا اعتراف کرتے ہیں کہ ایسی بلند ہستی کی اصل نسبت کو محض عقلی پیمانوں، تاریخی خاکوں یا اقلیمی حوالوں سے نہیں ناپا جا سکتا۔ حضور کی نسبت وحی، قربِ الٰہی اور کائناتی ہدایت سے جڑی ہوئی ہے؛ اس لیے ان کا “مرز و بوم” عام انسانی تصور سے بڑھ جاتا ہے۔

کچھ حقیقتیں سمجھ کے دائرے میں پوری نہیں سماتیں، مگر ان کی روشنی دل تک پہنچ جاتی ہے۔

علم کی حد اور محبت کی معرفت:

“من ندانم” میں عجز ہے، مگر یہ عجز جہالت نہیں بلکہ ادب ہے۔ اقبال بتاتے ہیں کہ ہر چیز کو مکمل طور پر ناپ لینا ہی معرفت نہیں۔ بعض اوقات انسان کسی حقیقت کی انتہا نہیں پا سکتا، مگر اس کی قربت اور تاثیر سے واقف ہو جاتا ہے۔ حضور کے مقام کی کل وسعت جان لینا ہمارے بس میں نہیں، مگر ان کی رحمت، سنت، شفاعت، تعلیم اور قربِ معنوی سے آشنائی ممکن ہے۔

یہی آشنائی ایمان کو صرف تصور سے اٹھا کر تعلق میں بدل دیتی ہے۔

با ما آشناست:

اس مصرعے میں پورا دینی تجربہ نرم ہو کر سامنے آتا ہے۔ حضور امت کے دکھ، کمزوری، تلاش، توبہ، محبت اور جدوجہد سے آشنا ہیں۔ ان کی سیرت اس قدر انسانی قرب رکھتی ہے کہ عام آدمی بھی اس میں اپنا راستہ پا لیتا ہے۔ وہ صرف آسمانی عظمت نہیں، زمینی رفاقت بھی ہیں۔ اسی لیے امت ان سے محبت کرتی ہے، ان پر درود بھیجتی ہے، ان کے نام پر آنکھ نم کرتی ہے، اور ان کی سنت میں اپنا اخلاقی گھر تلاش کرتی ہے۔

عظمت اگر قرب سے خالی ہو تو خوف پیدا کرتی ہے، مگر نبوی عظمت قرب کے ساتھ آتی ہے۔

بے حدی اور قرب کا اجتماع:

اقبال کے ہاں اصل کمال یہی ہے کہ حضور کا مقام بے حد ہے مگر ان کی رحمت قریب ہے۔ وہ عالمگیر ہیں مگر ہمارے ہیں، بلند ہیں مگر اجنبی نہیں، آسمانی ہیں مگر انسانی دل کے لیے مانوس ہیں۔ یہ توازن اسلامی روحانیت کو نہایت منفرد بناتا ہے۔ اس میں تقدیس بھی ہے اور محبت بھی، ادب بھی ہے اور انس بھی۔

یہی توازن خودی کو نہ خشک عقل پر چھوڑتا ہے نہ بے اصول جذبات پر۔

آج کے لیے سبق:

آج کئی لوگ دینی تعلق کو یا تو محض قانونی زبان میں سمٹاتے ہیں، یا صرف جذباتی نعروں تک محدود رکھتے ہیں۔ اقبال اس شعر میں ایک زیادہ مکمل تعلق سکھاتے ہیں: حضور کی عظمت کا اعتراف بھی کرو اور ان کے قرب کو بھی محسوس کرو۔ اگر صرف عظمت رہے تو دین دور ہو جاتا ہے، اگر صرف جذبات رہیں تو اصول کمزور ہو جاتے ہیں۔ نبوی آشنائی وہ کیفیت ہے جہاں محبت، اتباع اور ادب تینوں اکٹھے ہوتے ہیں۔

اسلامی خودی کو اپنی بلندی بھی اسی نسبت سے ملتی ہے اور اپنی نرمی بھی۔

مثال

جیسے ایک عظیم استاد کا علم اتنا وسیع ہو کہ شاگرد اس کی پوری گہرائی نہ پا سکے، مگر اس کی شفقت اور رہنمائی کی وجہ سے شاگرد اسے اپنا سب سے قریب مربی محسوس کرے، ویسی ہی کیفیت اس شعر میں نبوی نسبت کے لیے بیان ہوئی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں رسول اکرم کے مقام کی بے حدی اور امت کے ساتھ ان کے قرب کو ایک ساتھ بیان کرتے ہیں۔ ہم ان کی حقیقت کی انتہا نہیں پا سکتے، مگر یہ جانتے ہیں کہ وہ ہمارے لیے اجنبی نہیں بلکہ آشنا اور رحمت ہیں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button