رموز بے خودی

جلوه ی او قدسیان را سینه سوز

جلوه ی او قدسیان را سینه سوز

بود اندر آب و گل آدم هنوز

ترجمہ

اس کے جلوے نے قدسیوں کے سینوں میں سوز پیدا کر رکھا تھا، اور اس کی حقیقت آدم کے آب و گل میں آنے سے پہلے ہی موجود تھی۔

تشریح

اقبال اس شعر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقتِ محمدیہ، ان کے نورانی مقام، اور ان کی نسبت کی قبل از ظہور وسعت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ شعر محض تاریخی زندگی کی بات نہیں کرتا بلکہ اس روحانی حقیقت کی طرف لے جاتا ہے جسے صوفیانہ اور عشقیہ روایت میں محمدی نور، ازلی نسبت اور مرکزِ کائناتِ ہدایت کے طور پر سمجھا گیا ہے۔ “قدسیان” اور “آب و گل آدم” کے دو استعارے ملا کر اقبال ایک نہایت بلند منظر پیدا کرتے ہیں: حضور کا جلوہ فرشتوں کی دنیا میں بھی اثر انداز ہے، اور انسانی تخلیق کے مادّی آغاز سے پہلے بھی ان کی نسبت ایک نوری حقیقت کی صورت میں موجود ہے۔ شعر کے مطابق:

جلوہ:

جلوہ صرف ظاہری چمک نہیں بلکہ ایسا ظہور ہے جو دلوں کو ہلا دے، آنکھوں کو کھول دے اور وجود کو سمت دے۔ اقبال کے ہاں نبوی جلوہ حق کی طرف سب سے کامل انسانی آئینہ داری ہے۔ اس جلوے کا مطلب یہ ہے کہ حضور میں وہ نور ایسا نمایاں ہے جو مخلوق کو خدا کی یاد اور بندگی کی طرف کھینچتا ہے۔

جہاں جلوہ ہو وہاں محض خبر نہیں رہتی، حضوری اور تاثیر پیدا ہوتی ہے۔

قدسیان کا سینه سوز ہونا:

“قدسیان” سے مراد فرشتے یا پاک روحانی ہستیاں ہیں۔ “سینه سوز” ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے اندر بھی اس جلوے سے شوق، ادب، حیرت اور محبت کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ اقبال یہاں اس حقیقت کو شعری انداز میں بلند کرتے ہیں کہ نبوی نسبت صرف انسانی دنیا تک محدود نہیں، بلکہ ملأ اعلیٰ بھی اس کے نور سے بے تعلق نہیں۔

اس طرح حضور کا مقام آسمان و زمین دونوں میں مرکزِ کشش بن کر ابھرتا ہے۔

آب و گل آدم:

آدم کا آب و گل انسانی تخلیق کے مادّی آغاز کا استعارہ ہے۔ جب اقبال کہتے ہیں کہ یہ جلوہ “اندر آب و گل آدم هنوز” تھا تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ محمدی حقیقت محض ایک بعد کا تاریخی حادثہ نہیں، بلکہ انسانی تقدیر اور ہدایت کے نقشے میں ابتدا ہی سے لکھ دی گئی تھی۔ یہاں اقبال کسی سادہ زمانی ترتیب کے بجائے ایک روحانی تقدیم بیان کر رہے ہیں۔

یعنی انسان کی تخلیق کے منصوبے میں ہدایتِ محمدی پہلے ہی سے مرکزی معنویت رکھتی تھی۔

حقیقتِ محمدیہ کا اشارہ:

اقبال اگرچہ دقیق صوفیانہ اصطلاحات میں بات نہیں کر رہے، مگر شعر کا باطن اسی تصور کی طرف مائل ہے کہ رسول اکرم کی حقیقت کائناتی ہدایت کا محور ہے۔ آدم، انسانیت اور تاریخ کی ساری جدوجہد اپنے کمال کو اسی نسبت میں پاتی ہے۔ اس لیے حضور کی رسالت صرف ایک قوم کی تعلیم نہیں بلکہ انسان بننے کے پورے عمل کی آخری اور کامل تشریح ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اقبال کے ہاں محمدی نسبت، انسانی خودی کے ارتقا کی سب سے بلند منزل بن جاتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج دین کو اکثر صرف ایک تاریخی نظام، ایک قانونی ساخت، یا ایک سماجی شناخت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ نبوی نسبت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ یہ صرف احکام کا مجموعہ نہیں، بلکہ وجود کے اندر نور، شوق، سمت اور بیداری پیدا کرنے والی حقیقت ہے۔ اگر مسلمان اس نسبت کو صرف رسمی سطح پر رکھیں گے تو دین خشک ہو جائے گا؛ اگر اسے قلبی سوز اور نوری مرکزیت کے ساتھ سمجھیں گے تو دین دوبارہ زندہ تجربہ بن سکتا ہے۔

محمدی نور سے جڑی ہوئی خودی قانون بھی سنبھالتی ہے اور دل بھی روشن کرتی ہے۔

مثال

جیسے کسی عمارت کا نقشہ اس کے بننے سے پہلے موجود ہوتا ہے، اسی طرح کسی روحانی حقیقت کی کامل صورت اس کے تاریخی ظہور سے پہلے بھی الٰہی منصوبے میں مرکزیت رکھ سکتی ہے۔ اقبال اس شعر میں نبوی حقیقت کی اسی پیشگی مرکزیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک رسول اکرم کا نورانی جلوہ فرشتوں کی دنیا میں بھی اثر رکھتا ہے اور انسانی تخلیق کے آغاز سے پہلے ہی ہدایت کے منصوبے میں مرکزی حقیقت کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ شعر نبوی نسبت کی ازلی اور کائناتی معنویت کو ظاہر کرتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button