رموز بے خودی

گفت با امت ز دنیای شما

گفت با امت ز دنیای شما

دوست دارم طاعت و طیب و نسا

ترجمہ

اس نے امت سے فرمایا: تمہاری دنیا میں سے مجھے عبادت، خوشبو اور عورتیں محبوب ہیں۔

تشریح

یہ شعر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس معروف ارشاد کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں دنیا کی بعض چیزوں سے محبت کے ساتھ نماز اور روحانی تعلق کی رفعت جمع ہو جاتی ہے۔ اقبال اس روایت کو محض نقل نہیں کرتے بلکہ اس کے ذریعے دنیا، طہارت، محبت، اخلاق، اعتدال اور نبوی انسانی کمال کی ایک خاص تصویر دکھاتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اسلام دنیا بیزاری کی خشک راہ نہیں، بلکہ دنیا کے اندر پاک، مہذب اور خدا آشنا زندگی کی راہ ہے۔ شعر کے مطابق:

دنیای شما:

اقبال نے یہاں جان بوجھ کر “دنیای شما” پر زور رکھا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ حضور دنیا میں رہتے ہوئے بھی اس کے اسیر نہیں۔ وہ دنیا سے منہ موڑ کر راہبانہ انکار نہیں کرتے، مگر اس کے اندر صرف وہ چیزیں پسند کرتے ہیں جو انسانی فطرت، صفائی، محبت، اور بندگی کو سنواریں۔ دنیا ان کے ہاتھ میں ہے، دل میں نہیں۔

یہی نسبت مسلم کو سکھاتی ہے کہ دنیا کو برتو، مگر دنیا کے غلام نہ بنو۔

طاعت کی محبت:

اقبال نے “طاعت” لا کر عبادت اور بندگی کو اس ارشاد کے مرکز میں رکھا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ نبوی محبتوں کی ترتیب میں خدا سے تعلق اول ہے۔ دنیا کی پسندیدہ چیزیں بھی تبھی معنی رکھتی ہیں جب وہ بندگی کے نور سے جڑی ہوں۔ اگر عبادت مرکز سے ہٹ جائے تو باقی نعمتیں نفس کی غذا بن جاتی ہیں؛ اگر طاعت مرکز میں رہے تو وہی نعمتیں شکر، طہارت اور توازن کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔

نبوی زندگی کی خوب صورتی یہ ہے کہ اس میں روحانیت زندگی کو خشک نہیں کرتی، اور زندگی روحانیت کو کمزور نہیں کرتی۔

طیب:

خوشبو یہاں صرف ذاتی پسند نہیں بلکہ نظافت، لطافت، تہذیب اور حسنِ ذوق کی علامت ہے۔ اسلام جسم و روح کی تقسیم پر نہیں کھڑا؛ وہ طہارتِ باطن کے ساتھ طہارتِ ظاہر کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ خوشبو، صفائی، حسنِ معاشرت اور عمدہ ذوق ایک مہذب دینی زندگی کا حصہ بنتے ہیں۔

اقبال یوں یاد دلاتے ہیں کہ دینداری بدذوقی یا خشونت کا نام نہیں۔

نسا:

عورتوں سے محبت کا ذکر یہاں شہوانی رخ سے نہیں بلکہ رحمت، رفاقت، خاندانی اخلاق اور انسانی محبت کے پاک دائرے میں ہے۔ اقبال کے نزدیک یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام انسانی فطرت کی پاک ضروریات کو تسلیم کرتا ہے۔ ازدواجی تعلق، اگر ادب، امانت، محبت اور اخلاق کے ساتھ ہو، تو یہ بھی دینی زندگی کے خلاف نہیں بلکہ اس کے اندر شامل ہے۔

رسول اکرم کی زندگی میں محبت اور پاکیزگی ایک دوسرے کی ضد نہیں، ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج ایک طرف دنیا پرستی ہے جو ہر پسند کو مرکز بنا دیتی ہے، اور دوسری طرف ایسا زہد بھی ملتا ہے جو انسانی فطرت اور حسنِ زندگی سے بدظن ہو جاتا ہے۔ اقبال اس شعر میں نبوی اعتدال دکھاتے ہیں: عبادت کو مرکز رکھو، پاکیزگی کو اختیار کرو، رشتوں کو رحمت بناؤ، اور دنیا کے اندر رہتے ہوئے دنیا کے قیدی نہ بنو۔

اسلامی خودی اسی اعتدال سے صحت مند، حسین اور خدا آشنا بنتی ہے۔

مثال

ایک شخص نماز کا پابند ہو، اپنے لباس اور ماحول میں صفائی رکھے، اور اپنے گھر والوں سے محبت و ذمہ داری کے ساتھ پیش آئے، تو وہ دنیا میں رہ کر بھی دنیا کا غلام نہیں بلکہ بندگی کے مرکز کے ساتھ جڑا ہوا انسان ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں نبوی اعتدال کو سامنے لاتے ہیں: عبادت مرکز ہے، پاکیزگی محبوب ہے، اور انسانی محبت رحمت کے دائرے میں قبول ہے۔ دنیا سے تعلق ہے، مگر اسیری نہیں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button