گفت سیف من سیوف الله گو
گفت سیف من سیوف الله گو
حق پرستی جز براه حق مپو
ترجمہ
اس نے کہا: میری تلوار کو اللہ کی تلواروں میں سے ایک کہو، اور حق کی پرستش کے سوا کسی اور راستے پر قدم نہ رکھو۔
تشریح
یہ شعر نبوی نسبت سے جڑی ہوئی قوت، جرأت اور راست بازی کا بیان ہے۔ اقبال یہاں “سیف” کو صرف جنگی ہتھیار کے طور پر نہیں لاتے بلکہ اسے اس قوتِ فیصلہ، اس اخلاقی صلابت، اور اس عملی ارادے کی علامت بناتے ہیں جو حق کی خدمت میں وقف ہو۔ “سیوف الله” کا استعارہ یہ بتاتا ہے کہ اصل قوت وہی معتبر ہے جو خودی، انا، قبیلہ پرستی یا ظلم کی خدمت میں نہیں بلکہ خدا کے حکم اور حق کے دفاع میں استعمال ہو۔ شعر کے مطابق:
سیف کی علامت:
تلوار اقبال کے ہاں باطل شکنی، فیصلہ، اقدام اور عزتِ نفس کی علامت ہے۔ جب وہ اسے “سیوف الله” سے جوڑتے ہیں تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ طاقت اپنی ذات میں مقدس نہیں، بلکہ اس وقت باوقار بنتی ہے جب وہ الٰہی مقصد کے تابع ہو۔ ایسی تلوار ظلم کے لیے نہیں اٹھتی، بلکہ ظلم کو روکنے کے لیے اٹھتی ہے۔
اسلامی قوت کی اصل شان اس کی تابع داری میں ہے، خود سری میں نہیں۔
نبوی تصدیق اور عمل کی شرافت:
اس شعر میں ایک پس منظر یہ بھی جھلکتا ہے کہ رسول اکرم کسی شخص، کسی قوت یا کسی عمل کو جب حق کے دائرے میں جگہ دیتے ہیں تو اس کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ محض تلوار رہنے والی شے خدمتِ حق کا وسیلہ بن جاتی ہے۔ اقبال بتاتے ہیں کہ نبوی نسبت صرف دلوں کو نرم نہیں کرتی، وہ ارادوں کو درست رخ بھی دیتی ہے۔
جس قوت کو رسالت کی تربیت مل جائے، وہ فتح سے زیادہ عدل کو اہم سمجھنے لگتی ہے۔
حق پرستی:
دوسرے مصرعے میں اقبال اصل معیار قائم کرتے ہیں: “حق پرستی جز براه حق مپو”۔ یعنی حق کا دعویٰ کافی نہیں، حق کا راستہ بھی وہی ہونا چاہیے جو حق کے مطابق ہو۔ کوئی مقصد بظاہر اچھا ہو مگر اس کے لیے باطل طریقہ اختیار کیا جائے تو وہ حق پرستی نہیں رہتی۔ اسلام میں مقصد اور وسیلہ دونوں کی پاکیزگی ضروری ہے۔
یہ مصرع طاقت، سیاست، دعوت، اصلاح اور جہاد سب کے لیے ایک اصولی میزان بن جاتا ہے۔
راہِ حق کیا ہے:
راہِ حق سے مراد صرف ایک جذباتی شعار نہیں بلکہ وہ مکمل طریقہ ہے جس میں سچائی، عدل، امانت، ضبطِ نفس، وفاداری اور خدا خوفی شامل ہوں۔ اقبال کہہ رہے ہیں کہ اگر تم حق کے نام پر باطل عادتوں، نفس پرستی، جبر یا دھوکے سے کام لو گے تو تمہاری تلوار خدا کی نہیں رہ جائے گی۔ حق کا راستہ حق کی صفات سے پہچانا جاتا ہے۔
اسی لیے اسلامی خودی صرف بہادری نہیں، مہذب اور مسئول بہادری ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بہت سے لوگ حق، دین، قوم یا اصلاح کے نام پر سخت لہجہ، غصہ، طاقت یا دباؤ کو کافی سمجھ لیتے ہیں۔ اقبال اس شعر میں خبردار کرتے ہیں کہ اصل سوال صرف یہ نہیں کہ تم کس نام سے لڑ رہے ہو، بلکہ یہ ہے کہ تمہارا طریقہ بھی خدا کے راستے سے ہم آہنگ ہے یا نہیں۔ اگر طریقہ باطل ہو تو حق کا دعویٰ بھی کمزور ہو جاتا ہے۔
مسلمان کی قوت تبھی معتبر ہے جب اس کے اندر تقویٰ، عدل اور جواب دہی کی روشنی موجود ہو۔
مثال
ایک شخص سچ کی حمایت کا دعویٰ کرے مگر جھوٹ، کردار کشی اور ظلم کے ذریعے دوسروں کو ہرانا چاہے، تو وہ حق کا نام لے کر بھی حق کے راستے پر نہیں۔ اس کے برعکس وہ شخص جو اصول، انصاف اور ضبط کے ساتھ حق کے لیے کھڑا ہو، اسی کی قوت معتبر ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق اصل قوت وہ ہے جو خدا کے مقصد کے تابع ہو، اور اصل حق پرستی وہ ہے جو حق کے راستے سے جدا نہ ہو۔ طاقت، اگر راہِ حق سے ہٹ جائے، تو اپنی شرافت کھو دیتی ہے۔