رموز بے خودی

پیش پیغمبر چو کعب پاک زاد

پیش پیغمبر چو کعب پاک زاد

هدیه یی آورد از بانت سعاد

ترجمہ

پیغمبر کے حضور جب کعب بن زہیر، پاک خو اور خوش بخت ہو کر حاضر ہوا تو اس نے “بانت سعاد” میں سے ایک نذرانہ پیش کیا۔

تشریح

اقبال یہاں اسلامی روایت کے ایک معروف واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کعب بن زہیر وہ شاعر ہیں جنہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنا قصیدہ “بانت سعاد” پڑھا اور حضور کی رحمت و قبولیت پائی۔ اقبال اس واقعے کو محض تاریخی ذکر کے طور پر نہیں لاتے، بلکہ یہ دکھانے کے لیے لاتے ہیں کہ اسلامی مرکزیت کسی خاص نسل یا جغرافیے کی اسیر نہیں بلکہ اس کے سامنے حاضر ہونے والا شخص اپنی نسبتوں سے بلند ہو کر ایک نئی روحانی دنیا میں داخل ہوتا ہے۔ شعر کے مطابق:

پیشِ پیغمبر حاضر ہونا:

رسول اکرم کے حضور آنا فقط جسمانی قربت نہیں بلکہ روحانی رجوع، تسلیم اور محبت کی علامت ہے۔ کعب کا آنا ایک شاعر کا ایک نبی کے دربار میں حاضری دینا ہے، مگر باطن میں یہ ایک پرانی دنیا سے نئی دنیا کی طرف قدم رکھنا ہے۔ اس حاضری میں خوف بھی پگھلتا ہے، انا بھی ٹوٹتی ہے، اور زبان بھی مدح کے ذریعے دل کے انقلاب کا اعلان کرتی ہے۔

یعنی اسلام کا اصل مرکز وہ مقام ہے جہاں انسان اپنی سابقہ خودمختاری کو وحی کی روشنی میں نئے معنی دیتا ہے۔

کعب پاک زاد:

اقبال نے “پاک زاد” کہہ کر صرف نسبی شرافت مراد نہیں لی بلکہ ایک باطنی تطہیر کی طرف اشارہ کیا ہے۔ جو شخص سچے دل سے حق کے سامنے حاضر ہو، وہ اپنے ماضی کی گرد جھاڑ کر ایک نئی پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔ کعب کا قصیدہ اس پاکیزگی کا اعلان ہے کہ اب اس کی شاعری محض قبیلے، فخر یا دنیاوی ناموری کے لیے نہیں، بلکہ مرکزِ نبوت کے حضور نذرانہ بن رہی ہے۔

اسلام انسان کی صلاحیتوں کو ختم نہیں کرتا، انہیں پاک کر کے نئی سمت دیتا ہے۔

بانت سعاد بطور ہدیہ:

“هدیه یی آورد از بانت سعاد” میں ایک نہایت دل کش نکتہ ہے۔ شاعر اپنی سب سے بڑی متاع، یعنی اپنی زبان، اپنے فن اور اپنے قصیدے کو ہدیہ بناتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ ایمان کا تقاضا صلاحیتوں کو ترک کرنا نہیں بلکہ انہیں صحیح مرکز کے لیے وقف کرنا ہے۔ اگر زبان حضور کے حضور جھک جائے تو وہ مدح، صداقت اور روحانی ادب کا وسیلہ بن جاتی ہے۔

یوں فن جب مرکزِ حق سے جڑ جائے تو عبادت کی سرحد میں داخل ہو جاتا ہے۔

تہذیب اور مرکزیت:

اقبال اس واقعے سے یہ بھی دکھاتے ہیں کہ اسلامی تہذیب میں داخل ہونا ایک روحانی مرکز کے گرد نیا اجتماع پانا ہے۔ کعب کا قصیدہ عربی ادب کا حصہ ہے، مگر جب وہ حضور کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو ادب نبوی نسبت سے منور ہو جاتا ہے۔ اس سے یہ اصول نکلتا ہے کہ امت کے مختلف تہذیبی مظاہر، شعر، فن، زبان، رسم، روایت، سب اس وقت حقیقی حسن پاتے ہیں جب وہ مرکزِ رسالت کے ساتھ نسبت قائم کریں۔

رسالت وہ محور ہے جو بکھرے ہوئے جوہروں کو ایک نوری نظام میں بدل دیتا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی اہلِ قلم، اہلِ فن اور اہلِ دانش کے سامنے یہی سوال ہے کہ ان کی قابلیت کس کے حضور نذرانہ بن رہی ہے۔ کیا فن صرف شہرت، منڈی اور نفس کی خدمت میں ہے، یا وہ کسی بڑے اخلاقی و روحانی مرکز سے وابستہ ہے؟ اقبال کعب کی مثال سے یاد دلاتے ہیں کہ صلاحیت کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے جب وہ حق کے حضور جھک کر نئی پاکیزگی حاصل کرے۔

اگر فن میں ادبِ نبوی کی روشنی آ جائے تو اس کی تاثیر بھی گہری ہو جاتی ہے اور اس کی سمت بھی درست ہو جاتی ہے۔

مثال

جیسے ایک ماہر شاعر یا ادیب اپنی صلاحیت کو محض ذاتی شہرت کے لیے استعمال کرنے کے بجائے کسی سچے اخلاقی مقصد، سچائی کے دفاع، یا مقدس نسبت کے اظہار کے لیے وقف کر دے، تو اس کے فن کی نوعیت بدل جاتی ہے۔

خلاصہ

اقبال کعب بن زہیر کے واقعے سے بتاتے ہیں کہ اسلام انسان کی صلاحیتوں کو پاک کر کے مرکزِ رسالت کے حضور ہدیہ بنا دیتا ہے۔ فن، زبان اور تہذیب اسی نسبت سے اپنی اصل قدر پاتے ہیں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button