هندی و چینی سفال جام ماست
هندی و چینی سفال جام ماست
رومی و شامی گل اندام ماست
ترجمہ
ہندوستانی اور چینی مٹی ہمارے جام کا سفال ہے، اور رومی و شامی عناصر ہمارے جسم و وجود کی مٹی میں شامل ہیں۔
تشریح
اس شعر میں اقبال ملتِ اسلامیہ کی ترکیبی، آفاقی اور جامع ساخت کو بڑی خوب صورتی سے پیش کرتے ہیں۔ وہ دکھاتے ہیں کہ امت کسی ایک نسل، ایک خطے یا ایک تہذیبی خون سے نہیں بنی، بلکہ مختلف علاقوں، اقوام اور تمدنی عناصر کے اشتراک سے وجود میں آئی ہے۔ “جام” اور “اندام” کے استعاروں کے ذریعے اقبال کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی اجتماعی صورت میں ہندوستان، چین، روم اور شام سب کے اثرات اور اجزا کسی نہ کسی طور پر شامل ہیں۔ شعر کے مطابق:
سفالِ جام:
جام یہاں امت کے اجتماعی ظرف، تہذیب، سماجی پیکر اور تمدنی اظہار کی علامت ہے۔ جب اقبال کہتے ہیں کہ “هندی و چینی سفال جام ماست” تو ان کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی تہذیب نے اپنے اظہار کے لیے مختلف خطوں کی صنعت، ذوق، علم، طرزِ زندگی اور تمدنی مواد کو اپنے اندر سمویا ہے۔ اسلام نے جہاں قدم رکھا وہاں کی مٹی کو رد نہیں کیا، بلکہ اسے ایک نئے معنی اور نئی نسبت کے ساتھ اپنا لیا۔
یوں امت کا جام کثرت کے سفال سے بنتا ہے مگر اس میں بھرنے والی روح ایک ہی رہتی ہے۔
رومی و شامی گلِ اندام:
“اندام” سے مراد ملت کا جسمانی، تمدنی اور تاریخی پیکر ہے۔ روم اور شام اسلامی تاریخ میں علم، سیاست، تمدن، فنون اور اقتدار کے اہم مراکز رہے ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ ان علاقوں کی مٹی بھی ہمارے اندام میں شامل ہے۔ یعنی امت نے مختلف تہذیبوں کے مثبت پہلوؤں کو اپنے وجود کا حصہ بنایا۔ اس میں کوئی تنگ نظری نہیں، بلکہ ایک اعتماد ہے کہ ملت اپنی روحانی مرکزیت برقرار رکھتے ہوئے متنوع عناصر کو جذب کر سکتی ہے۔
اسلامی تہذیب اسی لیے بڑی ہوئی کہ اس نے جبر سے نہیں، جذب سے اپنا پیکر بنایا۔
نسلی نفی نہیں، نسلی اسیری کی نفی:
اقبال مختلف اقوام کے ذکر سے یہ نہیں کہہ رہے کہ اصل اہمیت نسلوں ہی کو حاصل ہے۔ وہ اس کے برعکس یہ بتا رہے ہیں کہ نسلیں اور علاقے ملت کے اجزا تو بن سکتے ہیں، مگر ملت ان میں محصور نہیں ہوتی۔ اگر ہندی، چینی، رومی اور شامی سب کسی ایک روحانی رشتے میں بندھ سکتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اسلام نسل کو اصل نہیں بناتا، بلکہ اسے ایک وسیع تر وحدت کے اندر جگہ دیتا ہے۔
اصل کمال یہ ہے کہ فرق باقی رہیں مگر فرقہ نہ بنیں۔
امت بطور جامع تہذیب:
یہ شعر اسلامی تہذیب کی اس خوبی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ وہ محض قبول نہیں کرتی بلکہ ترتیب بھی دیتی ہے۔ وہ مختلف تہذیبی اجزا کو ایک نئی وحدت میں پرو دیتی ہے۔ ہندوستان کی لطافت، چین کی صنعت، روم کی تنظیم، شام کی روایت، عرب کی وحی پذیر فضا، عجم کی فکری وسعت، یہ سب جب اسلامی مرکزیت میں جمع ہوں تو ایک نئی تہذیبی شخصیت جنم لیتی ہے۔
یہ وحدت یک رنگی سے نہیں، بلکہ مقصدی ہم آہنگی سے پیدا ہوتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج کی دنیا میں شناخت کا بحران یہ ہے کہ یا تو لوگ اپنی مقامی خصوصیات کو چھوڑ کر بے روح عالمگیریت میں کھو جاتے ہیں، یا پھر اپنی مقامی نسبتوں کو اس طرح مطلق بنا لیتے ہیں کہ بڑی وحدت ٹوٹ جاتی ہے۔ اقبال اس شعر میں ایک تیسرا راستہ دیتے ہیں: اپنی تہذیبی مٹی ساتھ رکھو، مگر اسے امت کے جام اور اندام میں ڈھالو۔ اس طرح تنوع بوجھ نہیں رہتا بلکہ قوت بن جاتا ہے۔
اسلامی اجتماعیت کی خوب صورتی یہ ہے کہ وہ مختلف رنگوں کو مٹا کر نہیں، جوڑ کر ایک نئی شان پیدا کرتی ہے۔
مثال
جیسے ایک عظیم عمارت مختلف شہروں کے پتھر، لکڑی، دھات اور ہنر سے بنتی ہے، مگر مکمل ہونے کے بعد اس کی ایک الگ شناخت بن جاتی ہے، اسی طرح اسلامی تہذیب مختلف اقوام کے اجزا سے بن کر بھی اپنی مستقل روح رکھتی ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق ملتِ اسلامیہ مختلف اقوام اور علاقوں کے تہذیبی اجزا سے بنی ایک جامع وحدت ہے۔ اس کے جام اور اندام میں کثرت کے عناصر ہیں، مگر اس کی روحانی مرکزیت ایک ہی ہے۔