رموز بے خودی

یافت موری بر سلیمانی ظفر

یافت موری بر سلیمانی ظفر

سطوت آئین پیغمبر نگر

ترجمہ

ایک چیونٹی کو سلیمانی شان پر غلبہ حاصل ہو گیا؛ دیکھو، آئینِ پیغمبر کی کیا ہیبت اور عظمت ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں پوری حکایت کا تمثیلی خلاصہ پیش کرتے ہیں۔ معمار ایک چیونٹی کی مانند کمزور، معمولی اور بے وسیلہ دکھائی دیتا ہے، جبکہ سلطان سلیمانی جاہ و جلال کا مالک ہے۔ مگر انجام یہ ہوتا ہے کہ کمزور حق پا لیتا ہے اور طاقت ور جھک جاتا ہے۔ اقبال فوراً واضح کر دیتے ہیں کہ یہ کمزور کی ذاتی طاقت کا معجزہ نہیں، بلکہ آئینِ پیغمبر کی سطوت کا اثر ہے۔ شعر کے مطابق:

موری اور سلیمانی:

چیونٹی اور سلیمان کے تقابل میں ایک انتہائی تفاوت سامنے آتا ہے۔ چیونٹی نہ حجم میں کچھ ہے، نہ قوت میں، نہ ظاہری جلال میں۔ سلیمانی نسبت عظمت، سلطنت، اقتدار اور وسیع اختیار کی علامت ہے۔ اقبال اس شدید فرق کو سامنے لا کر دکھاتے ہیں کہ اسلامی عدل کس طرح غیر مساوی سماجی حالتوں کے باوجود حق کا پلڑا برابر بلکہ غالب کر دیتا ہے۔

یہی تصویر دل پر گہرا اثر چھوڑتی ہے، کیونکہ اس میں کمزور کی فتح حقیقی محسوس ہوتی ہے۔

ظفر کا راز:

یہ فتح نہ چیونٹی کی جسمانی قوت سے آئی، نہ کسی لشکر سے، نہ بغاوت سے۔ اس کا راز اس آئین میں ہے جس نے فریادی کو زبان دی، قاضی کو جرات دی، سلطان کو جواب دہ بنایا، اور آخر میں مظلوم کو بخشش کی رفعت دی۔ اقبال اس طرح بتاتے ہیں کہ اصولی قانون کمزوروں کا سب سے بڑا سہارا ہے۔

جہاں حق کا آئین زندہ ہو، وہاں کمزور کو بھی کائناتی وزن مل جاتا ہے۔

سطوت آئین پیغمبر:

شعر کا دوسرا مصرع اصل مرکز ہے۔ اقبال پوری کامیابی کو فرد کے نام نہیں کرتے، بلکہ نبوی آئین کے نام کرتے ہیں۔ یعنی اسلامی مساوات کسی ایک اچھے بادشاہ، ایک نیک قاضی یا ایک صابر معمار کی انفرادی خوبی تک محدود نہیں؛ اس کے پیچھے ایک وسیع تر دینی و تہذیبی نظام ہے جو کمزور کے حق کو طاقت ور پر غالب کر سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اقبال تاریخ کے ایک واقعے کو اصولی تمثیل بنا دیتے ہیں۔

کمزور کی فتح کا اخلاقی حسن:

اس شعر میں کمزور کی فتح انتقام، ذلت رسانی یا تختہ الٹنے کی صورت میں نہیں آتی۔ فتح یہ ہے کہ حق قائم ہو، سلطان جھکے، قانون زندہ ہو، اور دل میں احسان بھی پیدا ہو۔ اقبال کے نزدیک یہی فتح تہذیبی فتح ہے۔ اگر کمزور صرف طاقت حاصل کر کے خود سخت دل ہو جائے تو یہ نبوی آئین کی فتح نہیں کہلائے گی۔

اصل کامیابی یہ ہے کہ میزان غالب رہے اور دل بھی روشن رہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی عام انسان، مزدور، ملازم، اقلیت، کمزور طبقہ یا بے وسیلہ شہری بظاہر “موری” کی طرح محسوس ہو سکتا ہے، جبکہ ریاست، سرمایہ، اقتدار یا ادارہ “سلیمانی” دکھائی دیتا ہے۔ اقبال امید دلاتے ہیں کہ اگر قانون واقعی زندہ اور اصولی ہو تو چھوٹا آدمی بھی حق پا سکتا ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ آئین محض الفاظ نہ ہو، سطوت رکھتا ہو۔

ایسے ہی معاشرے کمزور کو بغاوت سے پہلے انصاف دیتے ہیں، اور طاقت ور کو ظلم سے پہلے حدود دکھاتے ہیں۔

مثال

جب ایک عام شہری بڑی کمپنی، بااثر مالک یا حکومتی ادارے کے مقابلے میں عدالت کے ذریعے حق لے لیتا ہے، تو یہ اس کی شخصی طاقت نہیں بلکہ زندہ قانونی اصولوں کی قوت ہوتی ہے۔

خلاصہ

اس شعر میں اقبال اعلان کرتے ہیں کہ کمزور کی فتح اصل میں نبوی آئین کی عظمت کی فتح ہے۔ اسلامی مساوات کا کمال یہی ہے کہ وہ چیونٹی جیسے کمزور انسان کو بھی سلیمانی اقتدار کے سامنے حق دلوا دیتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button