رموز بے خودی

مدعی را تاب خاموشی نماند

مدعی را تاب خاموشی نماند

آیه ی «بالعدل و الاحسان» خواند

ترجمہ

مدعی کے لیے اب خاموش رہنا ممکن نہ رہا، اس نے “عدل اور احسان” والی آیت پڑھ دی۔

تشریح

یہ شعر حکایت کو ایک اور بلند تر درجے پر لے جاتا ہے۔ ابھی قانون نے سلطان کو جھکایا تھا، اب عدل کے اندر سے احسان کی روشنی نکلتی ہے۔ معمار، جو ابھی تک اپنے حق کا مدعی تھا، جب دیکھتا ہے کہ قانون واقعی زندہ ہے اور سلطان واقعی جواب دہ ہے، تو اس کے اندر بخشش کی لہر اٹھتی ہے۔ اقبال یہاں بتاتے ہیں کہ اسلامی تہذیب میں عدل اور احسان ایک دوسرے کے مخالف نہیں، بلکہ درست ترتیب میں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ شعر کے مطابق:

تاب خاموشی نماند:

مدعی پہلے خاموش نہیں تھا؛ وہ اپنا مقدمہ پیش کر چکا تھا۔ مگر اب خاموش نہ رہ سکنا ایک نئے معنی رکھتا ہے۔ اس کے اندر حق کا دوسرا درجہ بیدار ہوا ہے۔ جب اس نے دیکھا کہ قاضی نے انصاف کیا، بادشاہ جھک گیا، اور قرآن کی ہیبت غالب آ گئی، تو اس کے دل میں محض سزا کا مطالبہ باقی نہ رہا۔ زبان پھر کھلی، مگر اس بار فریاد کے لیے نہیں، ایک بلند تر اخلاقی اشارے کے لیے۔

یہی تبدیلی ثابت کرتی ہے کہ سچا عدل دل کو سخت نہیں، روشن کرتا ہے۔

بالعدل و الاحسان:

آیت میں عدل اور احسان دونوں جمع ہیں۔ عدل حق کو اس کے وزن کے مطابق قائم کرتا ہے، اور احسان حق سے اوپر اٹھ کر فضل، نرمی اور بخشش کی راہ دکھاتا ہے۔ اقبال اس انتخاب سے بتاتے ہیں کہ احسان اسی وقت خوب صورت ہوتا ہے جب عدل پہلے سے قائم ہو چکا ہو۔ اگر عدل غائب ہو اور صرف بخشش کی بات ہو تو وہ کمزور کی مجبوری بھی ہو سکتی ہے؛ مگر یہاں بخشش آزادی سے پیدا ہو رہی ہے۔

گویا عدل نے مدعی کو اتنا بااختیار کر دیا کہ اب وہ احسان کا انتخاب کر سکتا ہے۔

مظلوم کی اخلاقی بلندی:

یہاں معمار محض مظلوم نہیں رہتا، ایک اخلاقی فاعل بن جاتا ہے۔ اس کے ہاتھ پر زخم ہے، مگر دل کے اندر قرآن کا نور بھی ہے۔ اقبال دکھاتے ہیں کہ اسلامی مساوات کمزور کو صرف تحفظ نہیں دیتی بلکہ اسے اخلاقی بلندی تک بھی اٹھا سکتی ہے۔ جب حق واقعی مل جائے تو انسان اپنے غصے سے اوپر اٹھ کر فضل کی راہ اختیار کر سکتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں قانون دل کو زنجیر نہیں بلکہ روشنی دے رہا ہوتا ہے۔

عدل کے بعد احسان کی ترتیب:

اس شعر کا سب سے اہم سبق یہی ترتیب ہے: پہلے سچ، پھر جواب دہی، پھر قصاص کی آمادگی، پھر احسان۔ اقبال کا پورا نکتہ یہ ہے کہ احسان کبھی عدل کے بستر پر کھلتا ہے، نہ کہ ظلم کے سایے میں۔ اگر قاضی بادشاہ کو بچا لیتا اور پھر معمار سے معافی کی توقع کرتا تو وہ احسان نہ ہوتا، جبر ہوتا۔ مگر یہاں احسان ایک آزاد دل سے پیدا ہو رہا ہے۔

یہ ترتیب اسلامی اخلاق کی نہایت دقیق اور حسین ساخت ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی کئی بار لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ معاف کر دو، درگزر کرو، بات ختم کرو، جبکہ انصاف ابھی قائم ہی نہیں ہوا ہوتا۔ اقبال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ایسی معافی کمزور پر بوجھ بن جاتی ہے۔ سچی بخشش تب پیدا ہوتی ہے جب مظلوم کو پہلے پورا حق، سماعت اور احترام مل چکا ہو۔ تب اگر وہ معاف کرے تو یہ احسان ہوتا ہے، مجبوری نہیں۔

اسلامی تہذیب اسی وجہ سے عدل کو بنیاد اور احسان کو کمال بناتی ہے۔

مثال

کسی حادثے یا ظلم کے مقدمے میں جب ذمہ دار فریق جواب دہی قبول کرے اور قانون مظلوم کا حق تسلیم کرے، تب متاثرہ شخص اگر درگزر کرے تو اس کی معافی باوقار ہوتی ہے؛ ورنہ دباؤ میں دی گئی معافی صرف زخم بڑھاتی ہے۔

خلاصہ

اس شعر میں اقبال دکھاتے ہیں کہ اسلامی اخلاق میں عدل کے بعد احسان کا دروازہ کھلتا ہے۔ معمار کا آیتِ عدل و احسان پڑھنا اس بات کی علامت ہے کہ جب حق قائم ہو جائے تو بخشش حقیقی بلندی بن سکتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button