نا شکیب امتیازات آمده
نا شکیب امتیازات آمده
در نهاد او مساوات آمده
ترجمہ
وہ امتیازات کے معاملے میں بے قرار اور بے صبر ہو کر اٹھا، اور اس کے باطن میں مساوات آ کر بس گئی۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں امتِ محمدیہ کے اس مزاج کو ظاہر کرتے ہیں جو جھوٹے امتیازات کو برداشت نہیں کرتا۔ اس کے اندر مساوات محض خارجی قانون کی صورت میں نہیں، بلکہ “نهاد” یعنی سرشت اور باطن میں آ کر اترتی ہے۔ شعر کے مطابق:
امتیازات کے خلاف بے صبری:
یہاں “ناشکیب” ہونا منفی جلد بازی نہیں، بلکہ ظلم آمیز فرقوں کے مقابلے میں اخلاقی بے قراری ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ محمدی امت ان امتیازات کو معمول نہ سمجھے جو انسانوں کو نسب، رنگ، مال، طبقے یا طاقت کے نام پر کم و بیش کر دیتے ہیں۔ اگر دل نبوی مساوات سے زندہ ہو، تو وہ ایسے فرقوں کے سامنے بے حس نہیں رہ سکتا۔
گویا یہ امت باطل امتیاز کو دیکھ کر خاموشی سے مطمئن نہیں بیٹھتی۔
مساوات نهاد میں آنا:
مساوات اگر صرف قانون میں ہو اور دل میں نہ ہو، تو معاشرہ جلد ہی اس سے فرار کے راستے ڈھونڈ لیتا ہے۔ اقبال اس لیے کہتے ہیں کہ مساوات اس کے “نهاد” میں آئی۔ یعنی یہ اس کے شعور، اس کے اخلاق، اس کی عبادت اور اس کے سماجی مزاج کا حصہ بن گئی۔
یہی نبوی مساوات کی خاص بات ہے کہ وہ عدالت کو صرف عدالت خانوں تک محدود نہیں رکھتی، بلکہ دل کی ساخت بدلتی ہے۔
جھوٹے فرق اور سچا فرق:
اقبال ہر فرق کے منکر نہیں۔ وہ جھوٹے امتیازات کے منکر ہیں۔ تقویٰ، دیانت، علم اور خدمت کی فضیلت ایک چیز ہے، جبکہ نسل، دولت، پیدائشی طبقہ یا بیرونی طاقت کی بنیاد پر برتری دوسری چیز۔ محمدی مساوات دوسری قسم کو توڑتی ہے، پہلی قسم کو اخلاقی میدان میں معنی دیتی ہے۔
اس فرق کو سمجھے بغیر مساوات کا شعر یا تو سطحی بن جاتا ہے یا غلط سمجھا جاتا ہے۔
رسالت کی تہذیبی تربیت:
رسالتِ محمدیہ نے انسان کے باطن کو اس طرح تربیت دی کہ وہ محض مظلوم کے لیے ہمدرد نہ رہے، بلکہ ناانصاف امتیاز کے اصول ہی کو رد کر دے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال مساوات کو نبوی تہذیب کا مرکزی ستون مانتے ہیں۔ جب باطن میں مساوات ہو تو حاکم، عالم، غریب، غلام، عورت، مرد، سب کو دیکھنے کی نظر بدلتی ہے۔
یہی تبدیلی تہذیب کے اخلاقی چہرے کو نئے سرے سے بناتی ہے۔
آج کے لیے رہنمائی:
آج بھی بہت سے امتیازات معاشروں میں رچے ہوئے ہیں، مگر انہیں معمول سمجھ لیا جاتا ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ محمدی امت کا مزاج ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اگر نبوی مساوات زندہ ہے تو وہ طبقاتی تکبر، رنگی تعصب، جماعتی غرور اور نسلی دعوے کے سامنے بے قرار ہوگی۔
مساوات پہلے نعرہ نہیں، نهاد بننی چاہیے۔
مثال
اگر کسی ادارے میں کسی شخص کو صرف اس کی زبان، خاندان یا سماجی پس منظر کی وجہ سے پیچھے رکھا جائے، تو ایک بیدار ضمیر فوراً بے چین ہوتا ہے۔ یہی اخلاقی بے قراری مساوات کی پہلی نشانی ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق امتِ محمدیہ جھوٹے امتیازات کو برداشت نہیں کرتی، کیونکہ مساوات اس کے باطن میں جا بسنے والی حقیقت ہے۔ محمدی مساوات قانون سے بڑھ کر مزاج اور نهاد کی تبدیلی ہے۔