رموز بے خودی

مرسلان و انبیا آبای او

مرسلان و انبیا آبای او

اکرم او نزد حق اتقای او

ترجمہ

اس امت کے آبا و اجداد مرسلین اور انبیا ہیں، اور ان میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو اللہ کے نزدیک زیادہ متقی ہو۔

تشریح

علامہ اقبال یہاں امتِ محمدیہ کے نسب کو خون، نسل یا زمین سے اٹھا کر نبوت کی تاریخ سے جوڑ دیتے ہیں۔ یہ امت انبیا کی روحانی وارث ہے، اور اس کے اندر عزت کا معیار بھی دنیاوی نسب نہیں بلکہ تقویٰ ہے۔ اس ایک شعر میں اخوت، مساوات اور روحانی شرافت کے بڑے اصول جمع ہو جاتے ہیں۔ شعر کے مطابق:

آبای امت کون ہیں:

اقبال کے نزدیک مسلمان کی اصل نسبت صرف جغرافیہ یا قوم سے نہیں، بلکہ ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور محمد علیہم السلام کی نبوی زنجیر سے ہے۔ یہ ایک عظیم روحانی شجرہ ہے۔ امت اسی معنی میں نئی بھی ہے اور قدیم بھی: نئی اس لیے کہ محمدی صورت میں ظاہر ہوئی، قدیم اس لیے کہ اس کی جڑیں تمام رسالتوں کی مشترک توحید میں ہیں۔

یہ نسب امت کو نسلی تکبر سے بھی بچاتا ہے اور عالمی اخوت کا دروازہ بھی کھولتا ہے۔

تقویٰ بطور معیار:

دوسرا مصرع اقبال کے استدلال کا نقطۂ عروج ہے۔ اگر عزت کا معیار تقویٰ ہو تو نسل، رنگ، زبان، مال اور عہدہ سب ثانوی ہو جاتے ہیں۔ یہی مساوات کی اصل بنیاد ہے۔ انسان برابر اس لیے نہیں کہ سب ایک جیسے دکھتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ سب خدا کے سامنے بندے ہیں، اور شرف کا معیار باطنی پاکیزگی اور خدا خوفی ہے۔

اس معیار نے طبقاتی دیواروں کی جڑ ہلا دی۔

نبوی اخوت کا دائرہ:

جب امت کے آبا انبیا ہوں، تو اس کی اخوت بھی محض قبیلائی نہیں رہتی۔ وہ ایسی اخوت بن جاتی ہے جو وحی، توحید اور مشترک اخلاقی میراث پر قائم ہو۔ اس اخوت میں نہ رنگ حائل ہوتا ہے، نہ نسل، نہ علاقہ۔ یہی وجہ ہے کہ محمدی امت کی مساوات دوسرے تہذیبی نظاموں سے زیادہ گہری نظر آتی ہے۔

یہ اخوت خون سے نہیں، نور سے بنتی ہے۔

تکبر کا علاج:

اقبال یہ بھی سمجھاتے ہیں کہ تقویٰ کو معیار بنانا صرف کمزور کو اٹھانا نہیں، بلکہ طاقت ور کے تکبر کو بھی توڑنا ہے۔ اگر سب سے معزز وہ ہو جو زیادہ متقی ہو، تو کسی بادشاہ، عالم، مالدار یا نسب دار کو خود بخود بزرگی کا حق نہیں رہتا۔ اسے بھی اسی اخلاقی میزان پر آنا ہوگا جس پر دوسرا انسان ہے۔

یہی حقیقی مساوات ہے: سب کے لیے ایک میزان۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی مسلمان دنیا میں نسلی، لسانی، طبقاتی اور جماعتی امتیازات موجود ہیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اگر ہم واقعی محمدی اخوت چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی اصل نسبت انبیا سے اور اپنی اصل عزت تقویٰ سے جوڑنی ہوگی۔ جب تک نسب اور مال عزت کے اصل معیار بنے رہیں گے، مساوات کا دعویٰ ادھورا رہے گا۔

نبوی امت کی سچی شان اسی میں ہے کہ وہ شرف کا معیار باطن میں تلاش کرے، ظاہری امتیاز میں نہیں۔

مثال

ایک ادارے میں اگر عزت کا معیار صرف عہدہ ہو تو حسد بڑھتا ہے، مگر اگر دیانت، خدمت اور کردار کو اصل وزن دیا جائے تو ماحول بدلنے لگتا ہے۔ امت کے باب میں یہ اصول کہیں زیادہ بلند صورت میں آتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق امتِ محمدیہ کی اصل نسبت تمام انبیا کی توحیدی میراث سے ہے، اور اس کے اندر عزت کا معیار تقویٰ ہے۔ یہی معیار اخوت کو وسیع اور مساوات کو حقیقی بناتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button