اعتبار کار بندان را فزود
اعتبار کار بندان را فزود
خواجگی از کار فرمایان ربود
ترجمہ
اس نے کام کرنے والوں کی قدر بڑھا دی، اور محض آقائی کو حکم چلانے والوں سے چھین لیا۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں نبوی انقلاب کے معاشرتی اور اقتصادی پہلو کو بڑے وضوح سے بیان کرتے ہیں۔ رسالتِ محمدیہ نے صرف عقیدے نہیں بدلے، اس نے سماجی قدر کے پیمانے بھی بدل دیے۔ محنت، خدمت اور عمل کو عزت ملی، جبکہ محض طبقاتی آقائی اور خود ساختہ سرداری کا وقار ٹوٹ گیا۔ شعر کے مطابق:
کار بنداں کون ہیں:
کار بنداں وہ لوگ ہیں جو حقیقت میں کام کرتے ہیں، بوجھ اٹھاتے ہیں، پیدا کرتے ہیں، تعمیر کرتے ہیں، زمین جوڑتے ہیں، محنت کرتے ہیں، اور زندگی کے نظام کو چلانے میں حقیقی حصہ ڈالتے ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ نبوی پیغام نے انہی لوگوں کا “اعتبار” بڑھایا۔ یعنی انہیں حقیر، نیچ یا محض استعمال کی شے سمجھنے کے بجائے عزت اور حیثیت دی۔
یہی مساوات کی حقیقی بنیاد ہے کہ محنت کو عزت دی جائے۔
خواجگی کا چھن جانا:
خواجگی صرف انتظامی قیادت نہیں، بلکہ وہ آقائی ہے جو خود کو دوسروں سے ذاتی طور پر برتر اور حاکم سمجھتی ہے۔ اقبال کے نزدیک رسالت نے اسی جھوٹے آقائی مزاج کو توڑا۔ جو صرف اس لیے برتر سمجھا جاتا تھا کہ وہ حکم دیتا ہے، اس کی بڑائی کم کی گئی اور محنت کرنے والے کی قدر بڑھائی گئی۔
اس سے معاشرے کے اخلاقی پیمانے بدل گئے: مرتبہ خدمت سے جڑا، نہ کہ محض تسلط سے۔
قدر کی نئی میزان:
رسالتِ محمدیہ نے “کون بڑا ہے” کے سوال کا جواب تبدیل کر دیا۔ پہلے تخت، نسب، دولت یا محض فرمان چلانے کا اختیار بزرگی کا معیار تھا۔ نبوی تعلیم نے بتایا کہ شرف ایمان، تقویٰ، خدمت، عدل اور مفید عمل میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال اسے ایک تہذیبی انقلاب سمجھتے ہیں، نہ صرف مذہبی اصلاح۔
گویا اجتماعی وقار کی بنیاد آقائی سے ہٹ کر محنت و دیانت پر رکھی گئی۔
حریت اور معاشی انصاف:
یہ شعر واضح کرتا ہے کہ آزادی صرف سیاسی نعروں سے نہیں آتی۔ جب تک محنت کرنے والا حقیر اور حکم دینے والا بلا حساب بڑا سمجھا جائے گا، حقیقی مساوات پیدا نہیں ہوگی۔ محمدی رسالت نے معاشرتی احترام کی سمت بدل کر حریت کو معاشی اور طبقاتی زندگی تک بھی پھیلا دیا۔
اقبال کے نزدیک اسی تبدیلی سے اخوت بھی گہری ہوتی ہے، کیونکہ بھائی چارہ تبھی سچا ہے جب محنت کش کو عزت ملے۔
آج کے لیے رہنمائی:
آج بھی بہت سے معاشروں میں شوہرانہ اقتدار، دفتری بالا دستی، طبقاتی غرور اور محنت کش کی تحقیر موجود ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اگر محمدی مساوات کو زندہ کرنا ہے تو محنت کو عزت اور محض آقائی کو حد میں لانا ہوگا۔
نبوی انقلاب کا ایک چہرہ یہی ہے کہ کام کرنے والا باعزت ہو اور خالی حکم چلانے والا خود بخود مقدس نہ سمجھا جائے۔
مثال
ایک اچھا ادارہ وہ ہوتا ہے جہاں کام کرنے والے کارکن کی رائے اور محنت کی قدر ہو، اور صرف عہدہ رکھنے والا آدمی بلاوجہ مقدس نہ سمجھا جائے۔ یہی شعر کا سماجی اصول ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق رسالتِ محمدیہ نے محنت اور خدمت کی عزت بڑھائی اور طبقاتی آقائی کا جھوٹا وقار توڑا۔ یہی تبدیلی حقیقی مساوات، معاشرتی انصاف اور باوقار اخوت کی بنیاد بنتی ہے۔
