رموز بے خودی

ناتوانی بندہ ی احسان او

ناتوانی بندہ ی احسان او

نامرادی بستہ ی دامان او

ترجمہ

کمزوری اس کے احسان کی غلام بن جاتی ہے، اور نامرادی اس کے دامن سے بندھی رہتی ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں ناامیدی کے دو نتائج کو علامتی انداز میں بیان کرتے ہیں: ناتوانی اور نامرادی۔ جب انسان یأس کے تابع ہو جاتا ہے تو اس کی کمزوری مستقل حالت بن جاتی ہے، اور ناکامی اس کے دامن سے اس طرح چمٹ جاتی ہے کہ وہ خود بھی اسے اپنی تقدیر سمجھنے لگتا ہے۔ شعر کے مطابق:

ناتوانی کی غلامی:

یہاں “بندہ” کا لفظ بہت گہرا ہے۔ گویا ناتوانی صرف ایک وقتی حالت نہیں رہتی بلکہ انسان کی مالک بن جاتی ہے۔ وہ ہر کام سے پہلے یہ سوچتا ہے کہ میں نہیں کر سکتا، میرے بس کی بات نہیں، میرے حالات مختلف ہیں۔ آہستہ آہستہ کمزوری ایک ذہنی عادت، پھر ایک اخلاقی عذر، اور آخرکار ایک مستقل نفسیاتی قید بن جاتی ہے۔

اقبال اس کیفیت کو یأس کی پیداوار سمجھتے ہیں۔ جب امید جاتی رہتی ہے تو انسان اپنی قوتوں کو بھی پہچاننا چھوڑ دیتا ہے۔

نامرادی کا دامن پکڑ لینا:

دوسرے مصرع میں شاعر کہتے ہیں کہ نامرادی اس کے دامن سے بندھ جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ناکامی ایک حادثہ رہنے کے بجائے شناخت بن جاتی ہے۔ انسان ایک یا چند شکستوں کے بعد اپنے آپ کو ناکام مزاج سمجھنے لگتا ہے۔ پھر وہ نئی کوششوں میں بھی پہلے ہی سے شکست خوردہ ذہن کے ساتھ داخل ہوتا ہے۔

یوں نامرادی صرف پیش آنے والی حالت نہیں رہتی، بلکہ انسان کی خود فہمی کا حصہ بن جاتی ہے۔ یہی سب سے خطرناک صورت ہے۔

احسان اور دامن کی تعبیر:

احسان اور دامن کے الفاظ عام طور پر محبت، حفاظت اور قرب کے لیے آتے ہیں، مگر اقبال نے یہاں انہیں الٹ کر استعمال کیا ہے تاکہ دکھا سکیں کہ ناامیدی کس طرح منفی چیزوں کو بھی انسان پر حاوی کر دیتی ہے۔ ناتوانی اس پر ایسے سایہ کر لیتی ہے جیسے کوئی آقا غلام پر، اور نامرادی اس سے ایسے لپٹ جاتی ہے جیسے کوئی چادر یا دامن۔

یہ ادبی الٹاؤ شعر کی شدت کو اور نمایاں کر دیتا ہے، کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یأس نے زندگی کے سارے رشتے الٹ دیے ہیں۔

توحید کا الٹا عمل:

اگر ناامیدی انسان کو ناتوان اور نامراد بنا دیتی ہے تو توحید اس کے برعکس اسے طاقت اور رجوع عطا کرتی ہے۔ جب بندہ اللہ تعالیٰ کی قدرت پر یقین رکھتا ہے تو وہ اپنے آپ کو مستقل کمزور نہیں سمجھتا۔ وہ ناکامی کو آخری فیصلہ نہیں مانتا، بلکہ اسے آزمائش، سبق یا نئے آغاز کا مرحلہ سمجھتا ہے۔

یوں توحید ناتوانی کی غلامی توڑ دیتی ہے اور نامرادی کے دامن کو انسان سے الگ کر دیتی ہے۔

اجتماعی سطح پر اثر:

یہ بات قوموں پر بھی صادق آتی ہے۔ اگر ایک ملت بار بار یہ دہرانے لگے کہ وہ کمزور ہے، پیچھے رہ گئی ہے، اور اس سے کچھ نہیں ہو سکتا، تو اس کی ناتوانی واقعی بڑھنے لگتی ہے۔ پھر نامرادی اس کے تاریخی شعور پر چھا جاتی ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ امت اپنے دل سے اس ذہنیت کو نکالے اور اپنی قوت کے سرچشمے سے دوبارہ جڑے۔

اس لیے یہ شعر صرف فرد کا نفسیاتی بیان نہیں بلکہ قومی احیا کی دعوت بھی ہے۔

مثال

اگر کوئی طالب علم ایک ناکامی کے بعد یہ مان لے کہ وہ پڑھنے کے قابل ہی نہیں، تو اس کی آئندہ ساری کوششیں بھی کمزور پڑنے لگتی ہیں۔ لیکن اگر وہ اسے ایک مرحلہ سمجھ کر دوبارہ اٹھے تو ناکامی اس کی قسمت نہیں بنتی۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک ناامیدی کمزوری کو مستقل غلامی اور ناکامی کو مستقل شناخت میں بدل دیتی ہے۔ نجات اسی میں ہے کہ انسان توحیدی امید کے ساتھ دوبارہ اٹھے اور ناتوانی و نامرادی کو اپنی تقدیر نہ مانے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button