رموز بے خودی

ملت ما را اساس دیگر است

ملت ما را اساس دیگر است

این اساس اندر دل ما مضمر است

ترجمہ

ہماری ملت کی بنیاد کچھ اور ہے، اور یہ بنیاد ہمارے دل کے اندر پوشیدہ ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں پچھلے ابیات کی نفی کو ایک مثبت اور فیصلہ کن اعلان میں بدل دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہماری ملت نہ وطن پر قائم ہے، نہ نسب پر، بلکہ اس کی بنیاد بالکل دوسری ہے، اور وہ بنیاد دلوں کے اندر مضمر ہے۔ یہی شعر پوری بحث کا مرکزی نکتہ بن جاتا ہے۔ شعر کے مطابق:

“اساس دیگر” کا معنی:

جب اقبال کہتے ہیں کہ ہماری ملت کی بنیاد “دیگر” ہے تو اس سے مراد ایک ایسی حقیقت ہے جو مادی، نسلی اور علاقائی تعصبات سے بلند ہے۔ یہ دوسری بنیاد ایمان، توحید، مشترک مقصد، اخلاقی شعور اور ربانی نسبت کی بنیاد ہے۔ یعنی امت کا وجود باہر کی مٹی میں کم اور اندر کے یقین میں زیادہ پیدا ہوتا ہے۔

اس اعلان کے ذریعے شاعر ملت کو اپنی اصل پہچان دوبارہ یاد دلاتے ہیں: اس کی روحانی بنیاد ہی اس کی اصل بنیاد ہے۔

دل میں مضمر بنیاد:

دوسرے مصرع میں اقبال بتاتے ہیں کہ یہ بنیاد “اندر دل ما” ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امت کی اصل طاقت خارجی طاقت کے مظاہر سے پہلے باطنی کیفیت میں رہتی ہے۔ دل میں ایمان ہو، مقصد کا سوز ہو، اور حق کے ساتھ وفاداری ہو تو ملت زندہ رہتی ہے، خواہ حالات کتنے ہی سخت ہوں۔ لیکن اگر دل خالی ہو جائیں تو ظاہری دولت بھی اسے نہیں بچا سکتی۔

گویا ملت کی عمارت باہر کم، اندر زیادہ تعمیر ہوتی ہے۔ اس کے ستون نظر نہیں آتے، مگر وہی اسے قائم رکھتے ہیں۔

روحانی مرکزیت:

اقبال کے نزدیک دل محض جذباتی عضو نہیں بلکہ شعور، محبت، وفاداری اور قبولِ حق کا مرکز ہے۔ جب وہ ملت کی بنیاد کو دل میں رکھتے ہیں تو دراصل یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ملت ایک روحانی برادری ہے۔ یہ دلوں کے اشتراک سے بنتی ہے، نہ کہ صرف زمین کے اشتراک سے۔

اسی مرکزیت سے اس کے افراد ایک دوسرے کے ساتھ ربط پاتے ہیں اور اپنی تاریخ، تہذیب اور مقصد کو ایک ہی سلسلے میں سمجھنے لگتے ہیں۔

پائیداری کا راز:

جو بنیادیں باہر ہوں، وہ باہر کے حادثات سے ٹوٹ جاتی ہیں۔ جو بنیادیں اندر ہوں، وہ طوفانوں میں بھی قائم رہ سکتی ہیں۔ اقبال اس فرق کو سمجھا رہے ہیں۔ اگر ملت کی بنیاد ایمان اور دل کے سوز پر ہے تو شکست، غربت، ہجرت یا جغرافیائی تقسیم بھی اسے مکمل طور پر مٹا نہیں سکتی۔

یہی وہ قوت ہے جس کی بدولت ایک امت تاریخ کے مشکل ادوار میں بھی اپنی شناخت اور اپنے پیغام کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔

فرد کی ذمہ داری:

چونکہ یہ اساس دل میں ہے، اس لیے ہر فرد ملت کی بنیاد کا ایک زندہ حصہ ہے۔ اگر دل بیدار ہوگا تو ملت مضبوط ہوگی، اور اگر دل غافل ہوگا تو اجتماعی بنیاد کمزور ہوگی۔ اقبال یوں ہر شخص کو ذمہ داری دیتے ہیں کہ وہ اپنے باطن کی حفاظت کرے، کیونکہ امت کی اصل عمارت اسی سے قائم رہتی ہے۔

اس طرح فرد کی اصلاح اور ملت کی تعمیر ایک ہی راستے پر آ کر مل جاتی ہیں۔

مثال

درخت کی جڑ زمین کے اندر چھپی ہوتی ہے، مگر اس کے پھل، سایہ اور پھیلاؤ کا اصل راز وہی ہوتی ہے۔ اسی طرح ملت کی اصل بنیاد دل کے اندر پوشیدہ ہوتی ہے، اور ظاہر میں دکھائی دینے والی قوت اسی کا نتیجہ ہوتی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک ملت کی بنیاد وطن یا نسب نہیں، بلکہ دل میں پوشیدہ ایمان، مقصد اور روحانی ربط ہے۔ یہی اندرونی اساس امت کو حقیقی زندگی، پائیداری اور معنی عطا کرتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button