رموز بے خودی

شعلہ اش چون لالہ در رگہای ما

شعلہ اش چون لالہ در رگہای ما

نیست غیر از داغ او کالای ما

ترجمہ

اس کا شعلہ ہماری رگوں میں لالہ کی مانند روشن ہے، اور اس کے داغ کے سوا ہمارا اصل سرمایہ کچھ نہیں۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں امت کی حقیقی متاع، اس کے باطن کی حرارت، اور عشق و توحید کے اس نشان کو بیان کرتے ہیں جو اس کی رگوں میں دوڑتا ہے۔ یہاں شعلہ، لالہ اور داغ تینوں استعارے ایک ہی روحانی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں۔ شعر کے مطابق:

رگوں میں دوڑتا ہوا شعلہ:

اقبال محض نظری وابستگی کی بات نہیں کر رہے، بلکہ ایسی حقیقت بیان کر رہے ہیں جو خون کی گردش کی طرح اندر سرایت کر جائے۔ جب وہ فرماتے ہیں کہ اس کا شعلہ ہماری رگوں میں ہے تو مراد یہ ہے کہ یہ کیفیت سطحی یا عارضی نہیں، بلکہ زندگی کا جزو بن چکی ہے۔ حق کا درد، توحید کا یقین، اور مقصد کا سوز پوری ہستی میں جاری و ساری ہو جاتا ہے۔

ایسا انسان یا ایسی قوم سستی، بےحسی اور بےمقصدی میں زیادہ دیر نہیں رہ سکتی، کیونکہ اس کے اندر ایک باطنی آگ اسے بیدار رکھتی ہے۔

لالہ کی مناسبت:

لالہ اقبال کے ہاں ایسا پھول ہے جس کے سینے میں داغ ہوتا ہے، اور یہی داغ اس کی شناخت بن جاتا ہے۔ اس لیے شعلے کو لالہ سے تشبیہ دے کر شاعر بتا رہے ہیں کہ ہماری زندگی کا حسن بھی اسی سوز سے ہے اور ہماری پہچان بھی اسی سے ہے۔ یہ داغ محرومی کا نہیں بلکہ محبت، حق شناسی اور زندہ احساس کا داغ ہے۔

جس قوم کے باطن میں یہ داغ باقی ہو، وہ مکمل طور پر مردہ نہیں ہوتی، چاہے اس پر کتنی ہی غفلت کی تہیں کیوں نہ چڑھ جائیں۔

کالاۓ ملت کیا ہے:

“کالا” یا “کالای ما” سے مراد اصل متاع اور سرمایہ ہے۔ اقبال کا دعویٰ یہ ہے کہ ہمارا حقیقی سرمایہ دولت، حکومت یا ظاہری شوکت نہیں، بلکہ یہی داغِ حق ہے۔ اگر یہ باقی ہو تو قوم دوبارہ اٹھ سکتی ہے، اور اگر یہ مٹ جائے تو ظاہری ساز و سامان بھی اسے نہیں بچا سکتا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ملت کی بقا کا راز اس کے باطن کے سوز میں ہے، نہ کہ صرف بیرونی طاقت کے مظاہر میں۔

داغ بطور نعمت:

عام طور پر داغ کو عیب سمجھا جاتا ہے، مگر اقبال کے ہاں یہی داغ نعمت بن جاتا ہے۔ یہ داغ یاد دلاتا ہے کہ دل ابھی زندہ ہے، محبت ابھی باقی ہے، اور انسان ابھی حق سے کٹا نہیں۔ جو دل بالکل بےداغ ہو جائے وہ شاید بےحس ہو چکا ہو۔ اس لیے شاعر اس داغ کو اپنی متاع کہہ کر اس کی قدر بڑھاتے ہیں۔

یہی سوز انسان کو اخلاقی طور پر بیدار، فکری طور پر متحرک، اور روحانی طور پر زندہ رکھتا ہے۔

فرد اور ملت دونوں پر اطلاق:

ایک فرد کی اصل دولت بھی اس کا زندہ ضمیر ہے، اور ایک ملت کی اصل متاع بھی اس کا مشترک دردِ حق۔ اگر انسان کے اندر یہ حرارت باقی ہو تو وہ اپنے زوال کو تقدیر نہیں سمجھتا، بلکہ اصلاح اور احیا کی راہ تلاش کرتا ہے۔ قوم بھی اسی وقت بڑے کارنامے انجام دیتی ہے جب اس کی رگوں میں یہ شعلہ دوڑ رہا ہو۔

پس اقبال کی نظر میں داغِ عشق کوئی کمزوری نہیں بلکہ زندگی کی سب سے بڑی علامت ہے۔

مثال

ایک پرچم کی اصل قدر اس کپڑے میں نہیں بلکہ اس جذبے میں ہوتی ہے جو اسے دیکھ کر لوگوں کے دلوں میں بیدار ہوتا ہے۔ اسی طرح قوم کی اصل متاع بھی مادی چیزیں نہیں بلکہ وہ روحانی حرارت ہے جو اس کے افراد کے باطن میں زندہ رہتی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک امت کی حقیقی دولت اس کے اندر دوڑتا ہوا شعلہ اور حق کا داغ ہے۔ یہی حرارت اس کی شناخت، اس کی قوت اور اس کے امکانِ احیا کا اصل سرمایہ ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button